Book Name:Islami Bheno Kay 8 Madani Kam

اَنْوَار سے جگمگانے لگا ۔  ہر طرف دِیْنِ اِسْلَام کے چرچے پھیل گئے ۔  بچّہ ہو یا جوان ،  ہر ایک کے دِل میں عِشْقِ مصطفے ٰ کی شَمْع فَروزاں (روشن) ہو گئی ۔ پھر حج کے موسم میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ 70 اَنصار کا ایک مَدَنی قَافِلہ لے کر بارگاہِ رِسَالَت میں حاضِر ہوئے اور یوں بَـیْعَتِ عَقَبۂ ثانیہ میں اَنْصَارِ مدینہ کے شُرَکائے قَافِلہ کو دِیدارِ مصطفے ٰ کی دولت پا کر صحابی ہونے کا شَرَف ملا ۔  [1]

میں مُبَلِّغ بنوں سنّتوں کا ،  خُوب چرچا کروں سنّتوں کا

یاخُدا! دَرْس دُوں سنّتوں کا ،  ہو کَرَم! بَہرِخاکِ مدینہ[2]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!      صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!حضرت سَیِّدُنا مُصْعَب بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ذریعے جَلْد اِسْلَام کی دَعْوَت مدینۂ طَیّبہ کے گھر گھر میں پہنچ گئی ، یہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اس حد دَرْجَہ اِنْفِرَادِی کوشِش کا نتیجہ تھا ،  جو آپ نے رات دِن جاری رکھی ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تَبْلِیغِ قرآن و سنّت کو عام کرنے کے لیے دن رات کی پروا کئے بغیرجب بھی ، جہاں بھی نیکی کی دَعْوَت پیش کرنے کے لیے جا نا پڑا ،  کبھی بھی سُستی سے کام نہ لیا ۔

سنّت ہے سَفَر دین کی تبلیغ کی خاطِر          مِلتا ہے ہمیں دَرْس یہ اَسفارِ نبی سے [3]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                       صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

انفرادی کوشش کا نتیجہ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ!نیکی کی دَعْوَت کا یہ سَفَریونہی جارِی و سارِی ہے اور اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ تا قِیامَت جاری رہے گا ،  صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے بعد جب بھی  پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دُکھیاری اُمَّت بے عَمَلی کے دَلْدَل میں پھنسی تو اللہ پاک نے اپنے کسی نیک بندے کے ذَرِیعے اس کی نَجات کی راہیں پیدا فر مائیں ۔  چُنَانْچِہ پندرھویں صدی ہجری میں بھی حالات کچھ ایسے ہی ہوئے تو اِن نازُک حالات میں شَیْخِ طَرِیْقَت ،  اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت ،  بانیِ دَعْوَتِ اِسْلَامی حضرت علّامہ مولانا ابو بِلال محمد اِلْیَاس عطّار قادِری رَضَوِی ضِیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے دَعْوَتِ اِسْلَامی کے مَدَنی کام کا آغاز کیا ۔ آپ اللہ پاک و رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مَحبَّت میں ڈُوب کر پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری اُمَّت کی اِصْلَاح کی خاطِر چلتے رہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ، آپ کے شب و روز کی کوششوں ، دُعاؤں ، خوفِ خُدا و عِشْقِ مصطفے ٰ اور اِخْلَاص و اِسْتِقَامَت ، حُسْنِ اَخْلَاق و شَفْقَت ، غمخواری و مِلَنْسَارِی کی بَرَکَت سے مسلمان مرد و عورت بِالْخُصُوص نوجوان جَوق در جَوق دَعْوَتِ اِسْلَامی کے مَدَنی مَاحَول میں شامِل ہونے لگے ۔ بے نَمازی نَمازی بنے ، چور ، ڈاکو ، زانی و قاتِل ، جواری و شرابی اور دیگر جرائم پیشہ اَفراد تائب ہو کر مُعَاشَرے کے اَچھّے اَفراد بن کر اللہ پاک اور اُس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِطَاعَت و فرمانبرداری میں لگ گئے ، بے پردہ رہنے والیوں کو حَیا  کی چادَر  نصیب ہوگئی ، شَرْعِی پردہ کرنے کا مَدَنی ذہن بن گیا  ۔ شرعی پردوں کی مَدَنی  بہاریں آگئیں ۔

کریں اسلامی بہنیں شَرْعِی  پردہ           عَطا اِن  کو  حَیا   شاہِ  اُمَم ہو[4]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                       صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

دَعْوَتِ اِسْلَامی کا مَدَنی سَفَر

 



[1]   طبقات کبریٰ ، ۳۵-مصعب الخیر ابن عمیر ، ذکر بعثة رسول الله  ایاہ الی الخ ، ۳ / ۸۸

[2]     وسائلِ بخشش (مرمّم) ،  ص ۱۸۹

[3]     وسائلِ بخشش (مرمّم) ،  ص  ۴۰۶

[4]     وسائلِ بخشش (مرمّم) ،  ص  ۳۱۳



Total Pages: 19

Go To