Book Name:Islami Bheno Kay 8 Madani Kam

دعوت)ہر شخص پر اس کے مَنْصَب(Status)کے حوالے سے اور حَسْبِ اِسْتِطاعَت واجِب ہے ، اِس پر قرآن و سُنّت ناطِق ہے اور اِجماعِ اُمَّت بھی ہے ۔ (نیکی کی دَعْوَت)حکمرانوں ، عُلَماو مشائخ بلکہ ہر مسلمان کی ذِمَّہ داری ہے ، اسے  صِرف ایک طبقہ تک مَحْدُود کر دینا  صحیح نہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اگر ہرشخص اس کو اپنی ذِمَّہ داری سمجھے تو معاشرہ نیکیوں  کا گہوارہ بن سکتا ہے ۔ [1]

بُرائی کو بدلنے کے لیے ہر طبقے کو اس  کی طَاقَت  کے مُطابق ذِمَّہ داری سونپی گئی ،  کیونکہ اسلام میں کسی بھی انسان کو اس کی طَاقَت سے زِیادَہ  تکلیف نہیں دی جاتی ۔ اَرْبَاب اِقْتَدار ،  اَسَاتِذہ(Teachers) ، والدین(Parents)وغیرہ جو اپنے ماتحتوں کو کنٹرول (Control) کرسکتے ہیں وہ قانون(Law)پر سختی سے عَمَل کرا کے اور مُخالَفَت کی صُورَت میں سزا دے کر بُرائی کا خاتِمہ  کرسکتے ہیں ۔ مُبَلِّغینِ اِسْلام ، عُلَماومشائخ ، ادیب و صحافی (Journalists) اور دیگر ذرائع اِبلاغ (Means of communication) مثلاً ریڈیو(Radio)اور ٹی وی وغیرہ سے سبھی لوگ اپنی تقریروں تحریروں بلکہ شُعرا (Poets)اپنی نظموں (Poems) کے ذریعے بُرائی کا قلع قمع کریں اور نیکی کو فروغ دیں ، بِلِسَانِہٖ(یعنی زبان سے نیکی کی دَعْوت پیش کرنے )کے تَحت یہ تمام صورتیں آتی ہیں اور عام مسلمان جسے اِقْتِدار کی کوئی صُورَت بھی حاصِل نہیں اور نہ ہی وہ تحریر و تقریر کے ذَرِیعے  بُرائی کا خاتِمہ  کر سکتا ہے وہ دل سے اس بُرائی کو بُرا سمجھے اگرچہ یہ ایمان کا کمزور ترین مرتبہ ہے  کیونکہ کوشش کر کے زبان سے روکنا چا ہئے لیکن دل سے بُرا سمجھے گا تو یقیناً خود بُرائی کے قریب نہیں جا ئے گا اور معاشرے (Society)کے بیشمار اَفراد خود بخود راہِ راست پر آجائیں گے ۔ [2]

پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!بِلاشُبہ عِلْمِ  دین اللہ پاک کے پیارے حبیب ، حبیبِ لبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی میراث ہے ، جس کے حُصُول  کے لیے ہر ایک کو کوشش کرنی چا ہئے ۔ جیسا کہ مَرْوِی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سَیِّدُنا ابو ہُریرہ    رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ بازار میں تشریف لائے اور لوگوں سے اِرشاد فرمایا :  لوگو!میں تمہیں یہاں دیکھ رہا ہوں حالانکہ وہاں تاجدارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مِیراث تقسیم ہورہی ہے ۔ تم جاکر اپنا حِصّہ کیوں و صول نہیں کرتے ؟یہ سُن کر لوگوں نے پوچھا کہ کہاں میراث تقسیم ہو رہی ہے ؟تو فرمایا :  مَسْجِد میں ۔ وہ جلدی جلدی مَسْجِد کی طرف  چل دیئے ، مگر آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ وہیں رُکے رہے ، واپَس آکر انہوں نے عَرْض کی :  ہم نے تو وہاں کوئی میراث تقسیم ہوتے نہیں دیکھی ۔  دَرْیافت فرمایا :  پھر تم نے کیا دیکھا؟عرض کی :  ہم نے دیکھا کہ کچھ لوگ نماز پڑھ رہے ہیں تو کچھ تلاوت کر رہے ہیں اور کچھ عِلْمِ دِین حاصل کررہے ہیں ۔ اِس پر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ نے فرمایا :  یہی تو دو۲ عالم کے مالک و مختار باذنِ پروردگار ، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی میراث ہے ۔ [3]

فرمانِ  اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعالِیَہ :  دَعْوَتِ اِسْلامی کا جو بڑے سے بڑا ذِمَّہ دار مَدَنی دورہ میں از اِبْتِدَا تا اِنْتِہا شِرْکت نہیں کرتا ، وہ میرے نزدیک سَخْت غیر ذِمَّہ داری کا مرتْکِب ہے ۔  (جو مَـجْبُور ہے وہ مَعْذُور ہے )ہفتے میں ایک دن مَخْصُوص  کر کے اپنے ذیلی حلقے میں طریقۂ  کار کے مُطابِق  گھر گھر جاکر نیکی کی دَعْوَت ضرور دیں ۔ اگر آپ اکیلے ہیں تو وادئ مِنیٰ میں تنہا ،  خیمہ خیمہ جاکر نیکی کی دَعْوَت دینے والے مکی مَدَنی مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یاد کریں ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                       صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماہانہ 2 مدنی کام

(7)ماہانہ تربیتی حلقہ

(ہدف حلقہ :  فی ڈویژن)      (ہدف شرکا حلقہ :  فی ذیلی حلقہ 7اسلامی بہنیں)

عیسوی ماہ کی تیسری جمعرات ڈویژن سَطْح پر 3 گھنٹے کے دورانیے میں ذِمَّہ داران اور دیگر اسلامی بہنوں کو مَدَنی  مرکز کے دیئے ہوئے طریقۂ کار کے



[1]   مراٰۃ المناجیح ، نیک باتوں کا حکم دینا ، پہلی فصل ، ٦ / ٥٠٢

[2]   مراٰۃ المناجیح ، نیک باتوں کا حکم دینا ، پہلی فصل ، ٦ / ٥٠٣

[3]   معجم اوسط ،  باب  الالف  ، من اسمه احمد ، ۱ / ۳۹۰ ، حدیث١٤٢٩



Total Pages: 19

Go To