Book Name:Zoq-e-Naat

اچھے اچھے ہیں تِرے دَر کی گدائی کرتے

اونچے اونچوں میں بٹا کرتا ہے صدقہ تیرا

 

بھیک بے مانگے فقیروں کو جہاں ملتی ہے

دونوں عالم میں وہ دروازہ ہے کس کا تیرا

 

کیوں تمنا مِری مایوس ہو اے اَبرِ کرم

سوکھے دھانوں کا مددگار ہے چھینٹا تیرا

 

ہائے پھر خندۂ بے جا مِرے لب پر آیا

ہائے پھر بھول گیا راتوں کا رونا تیرا

 

حشر کی پیاس سے کیا خوف گنہگاروں کو

تشنہ کاموں کا خریدار ہے دریا تیرا

 

سوزنِ گمشدہ ملتی ہے تبسم سے تِرے

شام کو صبح بناتا ہے اُجالا تیرا

 

صدق نے تجھ میں یہاں تک تو جگہ پائی ہے

کہہ نہیں سکتے اُلش کو بھی تو جھوٹا تیرا

 

خاص بندوں کے تصدق میں رِہائی پائے

آخر اس کام کا تو ہے یہ نکما تیرا

 

بندِ غم کاٹ دیا کرتے ہیں تیرے اَبرو

پھیر دیتا ہے بلاؤں کو اِشارہ تیرا

 

حشر کے روز ہنسائے گا خطاکاروں کو

میرے غمخوارِ دِل شب میں یہ رونا تیرا

 

عمل نیک کہاں نامۂ بدکاراں میں

ہے غلاموں کو بھروسا مِرے آقا تیرا

 

بہرِ دیدار جھک آئے ہیں زمیں پر تارے

واہ اے جلوۂ دِلدار چمکنا تیرا

 

اونچی ہو کر نظر آتی ہے ہر اِک شے چھوٹی

جا کے خورشید بنا چرخ پہ ذَرَّہ تیرا

 

 

 



Total Pages: 158

Go To