Book Name:Zoq-e-Naat

مدفن نہیں پھینک آئیں گے اَحباب گڑھے میں

تابوت اگر کوچۂ جاناں سے نکالا

 

کیوں شور ہے کیا حشر کا ہنگامہ بپا ہے

یا تم نے قدم گورِ غریباں سے نکالا

 

لاکھوں تِرے صدقے میں کہیں گے دمِ محشر

زِنداں سے نکالا ہمیں زِنداں سے نکالا

 

جو بات لب حضرتِ عیسٰی نے دکھائی

وہ کام یہاں جنبش داماں سے نکالا

 

منہ مانگی مرادوں سے بھری جیب دو عالم

جب دست کرم آپ نے داماں سے نکالا

 

کانٹا غمِ عقبے کا حسنؔ اپنے جگر سے

امت نے خیالِ سر مژگاں سے نکالا

اگر قسمت سے میں ان کی گلی میں خاک ہو جاتا

اگر قسمت سے میں ان کی گلی میں خاک ہو جاتا

غمِ کونین کا سارا بکھیڑا پاک ہو جاتا

 

جو اے گل جامۂ ہستی تری پوشاک ہو جاتا

تو خارِ نیستی سے کیوں اُلجھ کے چاک ہو جاتا

 

جو وہ اَبر کرم پھر آبروئے خاک ہو جاتا

تو اس کے دو ہی چھینٹوں میں زمانہ پاک ہو جاتا

 

ہوائے دامنِ رنگیں جو ویرانہ میں آ جاتی

لباسِ گل میں ظاہر ہر خس و خاشاک ہو جاتا

 

لب جاں بخش کی قربت حیاتِ جاوِداں دیتی

اگر ڈورا نفس کا ریشۂ  مسواک ہو جاتا

 

ہوا دل سوختوں کو چاہیے تھی اُن کے دامن کی

الٰہی صبح محشر کا گریباں چاک ہو جاتا

 

اگر دو بوند پانی چشمۂ رحمت سے مل جاتا

مری ناپاکیوں کے میل دُھلتے پاک ہو جاتا

 

 

 



Total Pages: 158

Go To