Book Name:Zoq-e-Naat

اگر زیر دیوارِ سرکار بیٹھوں

مِرے سر پہ سایہ ہو فضلِ خدا کا

 

ادَب سے لیا تاجِ شاہی نے سر پر

یہ پایا ہے سرکار کے نقشِ پا کا

 

خدا کرنا ہوتا جو تحت مشیت

خدا ہو کر آتا یہ بندہ خدا کا

 

اَذاں کیا جہاں دیکھو ایمان والو

پسِ ذِکر حق ذِکر ہے مصطفی کا

 

کہ پہلے زباں حمد سے پاک ہو لے

تو پھر نام لے وہ حبیب خدا کا

 

یہ ہے تیرے اِیمائے اَبرو کا صدقہ

ہدف ہے اثر اپنے تیر دعا کا

 

ترا نام لے کر جو مانگے وہ پائے

ترا نام لیوا ہے پیارا خدا کا

 

نہ کیونکر ہو اس ہاتھ میں سب خدائی

کہ یہ ہاتھ تو ہاتھ ہے کبریا کا

 

جو صحرائے طیبہ کا صدقہ نہ ملتا

کھلاتا ہی نہ پھول جھونکا صبا کا

 

عجب کیا نہیں گر سراپا کا سایہ

سراپا سراپا ہے سایہ خدا کا

 

خدا مدح خواں ہے خدا مدح خواں ہے

مِرے مصطفیٰ کا مِرے مصطفیٰ کا

 

خدا کا وہ طالب خدا اس کا طالب

خدا اس کا پیارا وہ پیارا خدا کا

 

جہاں ہاتھ پھیلا دے منگتا بھکاری

وہی در ہے داتا کی دولت سرا کا

 

 

 



Total Pages: 158

Go To