Book Name:Zoq-e-Naat

غول ان کے عاصیوں کے آئے جب

چھنٹ گئی سب بھیڑ رَستہ ہوگیا

 

جا پڑا جو دشتِ طیبہ میں حسنؔ

گلشنِ جنت گھر اس کا ہوگیا

کہوں کیا حال زاہد گلشن طیبہ کی نزہت کا

کہوں کیاحال زاہد گلشنِ طیبہ کی نزہت کا

کہ ہے خلد بریں چھوٹا سا ٹکڑا میری جنت کا

 

تَعَالَی اللّٰہ  شوکت تیرے نام پاک کی آقا

کہ اب تک عرشِ اعلیٰ کوہے سکتہ تیری ہیبت کا

 

وکیل اپنا کیا ہے اَحمد مختار کو میں نے

نہ کیوں کر پھر رہائی میری منشا ہو عدالت کا

 

بلاتے ہیں اسی کو جس کی بگڑی یہ بناتے ہیں

کمر بندھنا دیارِ طیبہ کو کھلنا ہے قسمت کا

 

کھلیں اِسلام کی آنکھیں ہوا ساراجہاں روشن

عرب کے چاندصدقے کیاہی کہنا تیری طلعت کا

 

نہ کر رُسوائے محشر واسطہ محبوب کا یارب

یہ مجرم دُور سے آیا ہے سن کر نام رحمت کا

 

مرادیں مانگنے سے پہلے ملتی ہیں مدینہ میں

ہجوم جود نے روکا ہے بڑھنا دست حاجت کا

 

شب اَسری ترے جلوؤں نے کچھ ایسا سماں باندھا

کہ اب تک عرشِ اَعظم منتظر ہے تیری رخصت کا

 

یہاں کے ڈوبتے دَم میں ادھر جا کر اُبھرتے ہیں

کنارہ ایک ہے بحرِ ندامت بحرِ رحمت کا

 

غنی ہے دل بھرا ہے نعمت کونین سے دامن

گدا ہوں میں فقیر آستانِ خود بدولت کا

 

طوافِ روضۂ مولیٰ پہ نا واقف بگڑتے ہیں

عقیدہ اور ہی کچھ ہے اَدَب دانِ محبت کا

 

 

 



Total Pages: 158

Go To