Book Name:Zoq-e-Naat

ہم سیہ کاروں پہ رحمت کیجیے

تیرہ بختوں کی شفاعت کیجیے

 

اپنے بندوں کی مدد فرمائیے

پیارے حامی مسکراتے آئیے

 

ہو اگر شانِ تبسم کا کرم

صبح ہو جائے شب دِیجورِ غم

 

ظلمتوں میں گم ہوا ہے راستہ

المدد    اے   خندۂ    دَنداں   نما

 

ہاں دکھا جانا تجلی کی ادا

ٹھوکریں کھاتا ہے پردیسی ترا

 

دیکھیے کب تک چمکتے ہیں نصیب

دیر سے ہے لو لگائے یہ غریب

 

ملتجی ہوں میں عرب کے چاند سے

اپنے رب سے اپنے رب کے چاند سے

 

میں بھکاری ہوں تمہارا تم غنی

لاج رکھ لو میرے پھیلے ہاتھ کی

 

تنگ آیا ہوں دلِ ناکام سے

اس نکمے کو لگا دو کام سے

 

آپ کا دَربار ہے عرش اِشتِباہ

آپ کی سرکار ہے بیکس پناہ

 

مانگتے پھرتے ہیں سلطان و امیر

رات دن پھیری لگاتے ہیں فقیر

 

غمزدوں کو آپ کر دیتے ہیں شاد

سب کو مل جاتی ہے منہ مانگی مراد

 

میں تمہارا ہوں گدائے بے نوا

کیجے  اپنے   بے  نواؤں   پر عطا

 

میں غلامِ ہیچ کارہ ہوں حضور

 



Total Pages: 158

Go To