Book Name:Zoq-e-Naat

اب دیر کیا ہے بادۂ عرفاں قوام دے

ٹھنڈک پڑے کلیجہ میں جس سے وہ جام دے

تازہ ہو رُوح پیاس بجھے لطفِ تام دے

یہ ِتشنہ کام تجھ کو دعائیں مُدام دے

اُٹھیں سُرور آئیں مزے جھوم جھوم کر

ہو جاؤں بے خبر لب ساغر کو چوم کر

 

فکر بلند سے ہو عیاں اِقتدارِ اَوج

چہکے ہزار خامہ سرِ شاخ سارِ اَوج

ٹپکے گلِ کلام سے رنگِ بہارِ اَوج

ہو بات بات شانِ عروج اِفتخارِ اَوج

فکر و خیال نور کے سانچوں میں ڈھل چلیں

مضموں فرازِ عرش سے اُونچے نکل چلیں

 

اس شان اس ادا سے ثنائے رسول ہو

ہر شعر شاخِ گل ہو تو ہر لفظ پھول ہو

حضار پر سحابِ کرم کا نزول ہو

سرکار میں یہ نذرِ محقر قبول ہو

ایسی تَعَلِّیوں سے ہو معراج کا بیاں

سب حاملانِ عرش سنیں آج کا بیاں

 

معراج کی یہ رات ہے رحمت کی رات ہے

فرحت کی آج شام ہے عشرت کی رات ہے

ہم تیرہ اَختروں کی شفاعت کی رات ہے

اعزازِ ماہِ طیبہ کی رُویت کی رات ہے

پھیلا ہوا ہے سرمۂ تسخیر چرخ پر

یا زُلف کھولے پھرتی ہیں حوریں اِدھر اُدھر

 

دِل سوختوں کے دِل کا سویدا کہوں اسے

پیرِ فلک کی آنکھ کا تارا کہوں اسے

دیکھوں جو چشم قیس سے لیلیٰ کہوں اسے

اپنے اندھیرے گھر کا اُجالا کہوں اُسے

یہ شب ہے یا سوادِ وطن آشکار ہے

مشکیں غلافِ کعبۂ پروَردَگار ہے

 

اس رات میں نہیں یہ اندھیرا جھکا ہوا

کوئی گلیم پوش مراقب ہے باخدا

مشکیں لباس یا کوئی محبوب دلربا

یا آہُوئے سیاہ یہ چرتے ہیں جابجا

 



Total Pages: 158

Go To