Book Name:Zoq-e-Naat

جو تجھے پیار کریں جو تجھے اپنا فرمائیں

جن کے دل کو کرے بے چین اَذِیت تیری

 

جو تِرے واسطے تکلیفیں اٹھائیں کیا کیا

اپنے آرام سے پیاری جنہیں راحت تیری

 

جاگ کر راتیں عبادت میں جنہوں نے کاٹیں

کس لئے اس لئے کٹ جائے مصیبت تیری

 

حشر کا دن نہیں جس روز کسی کا کوئی

اس قیامت میں جو فرمائیں شفاعت تیری

 

اُن کے دشمن سے تجھے رَبط رہے میل رہے

شرم   اللّٰہ   سے  کر  کیا   ہوئی  غیرت   تیری

 

تو نے کیا باپ کو سمجھا ہے زیادہ اُن سے

جوش میں آئی جو اس درجہ حرارت تیری

 

ان کے دشمن کو اگر تو نے نہ سمجھا دشمن

وہ قیامت میں کریں گے نہ رَفاقت تیری

 

اُن کے دشمن کا جو دشمن نہیں سچ کہتا ہوں

دعویٰ بے اَصل ہے جھوٹی ہے محبت تیری

 

بلکہ ایمان کی پوچھے تو ہے ایمان یہی

اُن سے عشق اُن کے عدو سے ہو عداوَت تیری

 

اَہلسنت کا عمل تیری غزل پر ہو حسنؔ

جب میں جانوں کہ ٹھکانے لگی محنت تیری

مسدسات

تمہید ذِکرِ معراج شریف

 

ساقی کچھ اپنے بادہ کشوں کی خبر بھی ہے

ہم بیکسوں کے حال پہ تجھ کو نظر بھی ہے

جوشِ عطش بھی شدتِ سوزِ جگر بھی ہے

کچھ تلخ کامیاں بھی ہیں کچھ دردِ سر بھی ہے

ایسا عطا ہو جام شرابِ طہور کا

جس کے خمار میں بھی مزہ ہو سُرور کا

 

 



Total Pages: 158

Go To