Book Name:Zoq-e-Naat

ان کے قدموں سے لگی پھرتی ہے جنت تیری

 

تو وہ محبوب ہے اے راحت جاں دِل کیسے

ہیزمِ خشک کو تڑپا گئی فرقت تیری

 

مہ و خورشید سے دن رات ضیا پاتے ہیں

مہ و خورشید کو چمکاتی ہے طلعت تیری

 

گٹھڑیاں بندھ گئیں پر ہاتھ ترا بند نہیں

بھر گئے دل نہ بھری دینے سے نیت تیری

 

موت آ جائے مگر آئے نہ دل کو آرام

دَم نکل جائے مگر نکلے نہ اُلفت تیری

 

دیکھنے   والے  کہا  کرتے   ہیں   اللّٰہ   اللّٰہ

یاد آتا ہے خدا دیکھ کے صورت تیری

 

مجمع حشر میں گھبرائی ہوئی پھرتی ہے

ڈُھونڈنے نکلی ہے مجرم کو شفاعت تیری

 

نہ ابھی عرصۂ محشر نہ حسابِ امت

آج ہی سے ہے کمربستہ حمایت تیری

 

تو کچھ ایسا ہے کہ محشر کی مصیبت والے

دَرد دُکھ بھول گئے دیکھ کے صورت تیری

 

ٹوپیاں تھام کے گر عرشِ بریں پر دیکھیں

اُونچے اُونچوں کو نظر آئے نہ رِفعت تیری

 

حسن ہے جس کا نمک خوار وہ عالم تیرا

جس  کو   اللّٰہ   کرے  پیار  وہ  صورت  تیری

 

دونوں عالم کے سب اَرمان نکالے تو نے

نکلی اِس شانِ کرم پر بھی نہ حسرت تیری

 

چین پائیں گے تڑپتے ہوئے دِل محشر میں

غم کسے یاد رہے دیکھ کے صورت تیری

 

ہم نے مانا کہ گناہوں کی نہیں حد لیکن

تو ہے اُن کا تو حسنؔ تیری ہے جنت تیری

 



Total Pages: 158

Go To