Book Name:Zoq-e-Naat

بنے ذَرَّہ ذَرَّہ گلشن تو ہو خار خار گلبن

جو ہمارے اُجڑے بن میں کبھی وہ نگار آئے

 

ترے صدقے تیرا صدقہ ہے وہ شاندار صدقہ

وہ وقار لے کے جائے جو ذلیل و خوار آئے

 

ترے دَر کے ہیں بھکاری ملے خیر دَم قدم کی

ترا نام سن کے داتا ہم اُمیدوار آئے

 

حسنؔ ان کا نام لے کر تو پکار دیکھ غم میں

کہ یہ وہ نہیں جو غافل پس اِنتظار آئے

تم ہو حسرت نکالنے والے

تم ہو حسرت نکالنے والے

نامرادوں کے پالنے والے

 

میرے دشمن کو غم ہو بگڑی کا

آپ ہیں جب سنبھالنے والے

 

تم سے منہ مانگی آس ملتی ہے

اور ہوتے ہیں ٹالنے والے

 

لب جاں بخش سے جلا دِل کو

جان مردے میں ڈالنے والے

 

دستِ اَقدس بجھا دے پیاس میری

میرے چشمے اُبالنے والے

 

ہیں ترے آستاں کے خاک نشیں

تخت پر خاک ڈالنے والے

 

روزِ محشر بنا دے بات مری

ڈھلی بگڑی سنبھالنے والے

 

بھیک دے بھیک اپنے منگتا کو

اے غریبوں کے پالنے والے

 

ختم کردی ہے اُن پہ موزونی

واہ سانچے میں ڈھالنے والے

 

ان کا بچپن بھی ہے جہاں پرور

 



Total Pages: 158

Go To