Book Name:Zoq-e-Naat

چھپ گیا چاند نہ آئی ترے دیدار کی تاب

اور اگر سامنے رہتا بھی تو سجدہ کرتا

 

یہ وہی ہیں کہ گرو آپ اور ان پر مچلو

الٹی باتوں پہ کہو کون نہ سیدھا کرتا

 

ہم سے ذَرَّوں کی تو تقدیر ہی چمکا جاتا

مہر فرما کے وہ جس راہ سے نکلا کرتا

 

دُھوم ذَرَّوں میں اَنَا الشَّمْس کی پڑ جاتی ہے

جس طرف سے ہے گزر چاند ہمارا کرتا

 

آہ کیا خوب تھا گر حاضرِ دَر ہوتا میں

ان کے سایہ کے تلے چین سے سویا کرتا

 

شوق و آداب بہم گرم کشاکش رہتے

عشق گم کردہ تو ان عقل سے اُلجھا کرتا

 

آنکھ اُٹھتی تو میں جھنجھلا کے پَلک سی لیتا

دل بگڑتا تو میں گھبرا کے سنبھالا کرتا

 

بیخودانہ کبھی سجدہ میں سوئے دَر گرتا

جانب قبلہ کبھی چونک کے پلٹا کرتا

 

بام تک دل کو کبھی بالِ کبوتر دیتا

خاک پر گر کے کبھی ہائے خدایا کرتا

 

گاہ مرہم نہیٔ زخم جگر میں رہتا

گاہ نشتر زنیٔ خون تمنا کرتا

 

ہمرہِ مہر کبھی گردِ خطیرہ پھرتا

سایہ کے ساتھ کبھی خاک پہ لوٹا کرتا

 

صحبتِ داغِ جگر سے کبھی جی بہلاتا

اُلفتِ دَست و گریباں کا تماشا کرتا

 

دلِ حیراں کو کبھی ذَوقِ تپش پر لاتا

تپش دِل کو کبھی حوصلہ فرسا کرتا

 

 

 



Total Pages: 158

Go To