Book Name:Zoq-e-Naat

جو پیشِ َصنم سر جھکاتے تھے اپنے

بنے    تیری    رحمت    سے    اللّٰہ    والے

 

نگاہے زِ چشمِ کرم بر َحسنؔ ُکن

َ بکویَت رَسیدست آشفتہ حالے

قبلہ رُخ بیٹھنے سے بینائی تیز ہوتی ہے

          حضرت سیدناامام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  : چارچیزیں آنکھوں کی (بینائی کی )تقویت کا باعث ہیں  :  (1)قبلہ رُخ بیٹھنا(2)سوتے وقت سرمہ لگانا(3)سبزے کی طرف نظر کرنا اور(4)لباس کو پاک وصاف رکھنا ۔ (احیاء العلوم، ۲ / ۲۷، دارصاد ر بیروت)

نہیں وہ صدمہ یہ دل کو کس کا خیالِ رحمت تھپک رہا ہے

نہیں وہ صدمہ یہ دل کو کس کا خیال رحمت تھپک رہا ہے

کہ آج رُک رُک کے خونِ دِل کچھ مری مژہ سے ٹپک رہا ہے

 

لیا نہ ہو جس نے اُن کا صدقہ ملا نہ ہو جس کو اُن کا باڑا

نہ کوئی ایسا بشر ہے باقی نہ کوئی ایسا مَلک رہا ہے

 

کیا  ہے  حق  نے  کریم  تم  کو  اِدھر  بھی   لِلّٰہ  نگاہ  کر لو

کہ دیر سے بے نوا تمہارا تمہارے ہاتھوں کو تک رہا ہے

 

ہے کس کے گیسوئے مشک بو کی شمیم عنبر فشانیوں پر

کہ جائے نغمہ صفیر بلبل سے مشک اَذفر ٹپک رہا ہے

 

یہ کس کے روئے نکو کے جلوے زمانے کو کر رہے ہیں روشن

یہ کس کے گیسوئے مشک بو سے مشامِ عالم مہک رہا ہے

 

حسنؔ عجب کیا جو اُن کے رنگِ ملیح کی تہ ہے پیرہن پر

کہ رنگ پر نور مہر گردوں کئی فلک سے چمک رہا ہے

مرادیں مل رہی ہیں شاد شاد ان کا سوالی ہے

مرادیں مل رہی ہیں شاد شاد اُن کا سوالی ہے

لبوں پہ اِلتجا ہے ہاتھ میں روضہ کی جالی ہے

 

تری صورت تری سیرت زمانے سے نرالی ہے

تری ہر ہر ادا پیارے دلیلِ بے مثالی ہے

 

بشر ہو یا مَلک جو ہے تِرے دَر کا سوالی ہے

تری سرکار والا ہے ترا دَربار عالی ہے

 

وہ جگ داتا ہو تم سنسار باڑے کا سوالی ہے

دَیا کرنا کہ اس منگتا نے بھی گدڑی بچھالی ہے

 

منور دل نہیں فیض قدومِ شہ سے رَوضہ ہے

 



Total Pages: 158

Go To