Book Name:Zoq-e-Naat

وہ ہیں سب کی فریاد کے سننے والے

 

کوئی دَم میں اب ڈوبتا ہے سفینہ

خدارا خبر میری اے ناخدا لے

 

سفر کر خیالِ رُخِ شہ میں اے جاں

مسافر نکل جا اُجالے اُجالے

 

تہی دست و سودائے بازارِ محشر

مری لاج رکھ لے مرے تاج والے

 

زہے شوکت آستانِ ُمعلی

یہاں سر جھکاتے ہیں سب تاج والے

 

سوا تیرے اے ناخدائے غریباں

وہ ہے کون جو ڈُوبتوں کو نکالے

 

یہی عرض کرتے ہیں شیرانِ عالم

کہ تو اپنے کتوں کا کتا بنالے

 

جسے اپنی مشکل ہو آسان کرنی

فقیرانِ طیبہ سے آکر دعا لے

 

خدا کا کرم دستگیری کو آئے

تیرا نام لے لیں اگر گرنے والے

 

دَرِ شہ پر اے دِل مرادیں ملیں گی

یہاں بیٹھ کر ہاتھ سب سے اُٹھالے

 

گھرا ہوں میں عصیاں کی تاریکیوں میں

خبر میری اے میرے بدرالدجیٰ لے

 

فقیروں کو ملتا ہے بے مانگے سب کچھ

یہاں جانتے ہی نہیں ٹالے بالے

 

لگائے ہیں پیوند کپڑوں میں اپنے

اُڑھائے فقیروں کو تم نے دوشالے

 

مٹا کفر کو دِین چمکا دے اپنا

بنیں مسجدیں ٹوٹ جائیں شوالے

 



Total Pages: 158

Go To