Book Name:Zoq-e-Naat

نارِ دوزخ سے بچایا مجھ کو

مِرے پیارے بڑی رحمت کرلی

 

بال بیکا نہ ہوا پھر اس کا

آپ نے جس کی حمایت کرلی

 

رَکھ دیا سر قدمِ جاناں پر

اپنے بچنے کی یہ صورت کرلی

 

نعمتیں ہم کو کھلائیں اور آپ

جو کی روٹی پہ قناعت کرلی

 

اس سے فردوس کی صورت پوچھو

جس نے طیبہ کی زِیارت کرلی

 

شانِ رحمت کے تصدق جاؤں

مجھ سے عاصی کی حمایت کر لی

 

فاقہ مستوں کو شکم سیر کیا

آپ فاقہ پہ قناعت کرلی

 

اے حسنؔ کام کا کچھ کام کیا

یا یوہیں ختم پہ رخصت کرلی

جنتی محل

      فرمانِ مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   : جسے یہ پسند ہوکہ اُس کے لیے (جنت میں ) محل بنایا جائے اور اس کے درَجات بلند کیے جائیں ، اسے چاہیے کہ جو اس پرظلم کرے یہ اُسے معاف کرے اورجو اُسے محروم کرے یہ اُسے عطا کرے اورجو اُس سے قَطعِ تعلق کرے یہ اُس سے ناطہ(یعنی تعلق)جوڑے ۔  (مستدرک حاکم ، ۹ / ۱۳۸، الحدیث  : ۲۳۵۸۹دارالمعرفۃ بیروت)

کیا خدا داد آپ کی امداد ہے

کیا خدا داد آپ کی اِمداد ہے

اک نظر میں شاد ہر ناشاد ہے

 

مصطفیٰ تو برسرِ اِمداد ہے

عفو تو کہہ کیا ترا اِرشاد ہے

 

بن پڑی ہے نفسِ کافر کیش کی

کھیل بگڑا لو خبر فریاد ہے

 

اس قدر ہم اُن کو بھولے ہائے ہائے

ہر گھڑی جن کو ہماری یاد ہے

 

نفسِ اَمَّارہ کے ہاتھوں اے حضور

 



Total Pages: 158

Go To