Book Name:Zoq-e-Naat

کبھی تو معاصی کے خرمن میں یا رب

لگے آتشِ لالہ زارِ مدینہ

 

رگِ گل کی جب نازُکی دیکھتا ہوں

مجھے یاد آتے ہیں خارِ مدینہ

 

مَلائک لگاتے ہیں آنکھوں میں اپنی

شب و روز خاکِ مزارِ مدینہ

 

جدھر دیکھیے باغِ جنت کھلا ہے

نظر میں ہیں نقش و نگارِ مدینہ

 

رہیں اُن کے جلوے بسیں اُن کے جلوے

مرا دل بنے یادگارِ مدینہ

 

حرم ہے اسے ساحت ہر دو عالم

جو دل ہو چکا ہے شکارِ مدینہ

 

دو عالم میں بٹتا ہے صدقہ یہاں کا

ہمیں اِک نہیں ریزہ خوارِ مدینہ

 

بنا آسماں منزلِ ابن مریم

گئے لامکاں تاجدارِ مدینہ

 

مرادِ دلِ بلبلِ بے نوا دے

خدایا دِکھا دے بہارِ مدینہ

 

شرف جن سے حاصل ہوا انبیا کو

وہی ہیں حسنؔ اِفتخارِ مدینہ

نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے میں

نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے

اُٹھا لے جائے تھوڑی خاک اُن کے آستانے سے

 

تمہارے دَر کے ٹکڑوں سے پڑا پلتا ہے اِک عالم

گزارا سب کا ہوتا ہے اِسی محتاج خانے سے

 

شب ِاَسرا کے دولھا پر نچھاوَر ہونے والی تھی

نہیں تو کیا غرض تھی اتنی جانوں کے بنانے سے

 

کوئی فردوس ہو یا خلد ہو ہم کو غرض مطلب

 



Total Pages: 158

Go To