Book Name:Zoq-e-Naat

پھر مجھے اپنا درِ پاک دکھا دے پیارے

آنکھیں پُر نور ہوں پھر دیکھ کے جلوہ تیرا

 

ظلِ حق غوث پہ ہے غوث کا سایہ تجھ پر

سایہ گستر سرِ خدام پہ سایہ تیرا

 

تجھ کو بغداد سے حاصل ہوئی وہ شانِ رَفیع

دَنگ رہ جاتے ہیں سب دیکھ کے رُتبہ تیرا

 

کیوں نہ بغداد میں جاری ہو ترا چشمۂ فیض

بحرِ بغداد ہی کی نہر ہے دریا تیرا

 

کرسی ڈالی تری تخت شہ جیلاں کے حضور

کتنا    اُونچا   کیا    اللّٰہ    نے    پایا     تیرا

 

رَشک ہوتا ہے غلاموں کو کہیں آقا سے

کیوں کہوں رَشک دہِ بدر ہے تلوا تیرا

 

بشر افضل ہیں مَلک سے تِری یوں مدح کروں

نہ مَلک خاص بشر کرتے ہیں مجرا تیرا

 

جب سے تو نے قدمِ غوث لیا ہے سر پر

اَولیا سر پہ قدم لیتے ہیں شاہا تیرا

 

محیِ دیں غوث ہیں اور خوا جہ معین الدیں ہے

اے حسنؔ کیوں نہ ہو محفوظ عقیدہ تیرا

 

گمشدہ سوئی

      اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  روایت فرماتی ہیں  : میں سحری کے وقت گھر میں کپڑے سی رہی تھی کہ اچانک سوئی ہاتھ سے گرگئی اورساتھ ہی چراغ بھی بجھ گیا۔ اتنے میں مدینے کے تاجدار، منبع اَنوار صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  گھر میں داخل ہوئے اورسارا گھر مدینے کے تاجور صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے چہرہ انور کے نور سے روشن ومنور ہوگیااورگمشدہ سوئی مل گئی ۔

                                         )القول البدیع، ص۳۰۲، مؤسسۃ الریان بیروت(

آسماں گر تیرے تلووں کا نظارہ کرتا

آسماں گر تیرے تلووں کا نظارہ کرتا

روز اِک چاند تصدق میں اُتارا کرتا

 

طوفِ روضہ ہی پہ چکرائے تھے کچھ ناواقف

میں تو آپے میں نہ تھا اور جو سجدہ کرتا

 

صرصرِ دشت مدینہ جو کرم فرماتی

کیوں میں افسردگیٔ بخت کی پروا کرتا

 



Total Pages: 158

Go To