Book Name:Zoq-e-Naat

کیوں کریں بزمِ شبستانِ جناں کی خواہش

جلوۂ یار جو شمعِ شبِ تنہائی ہو

 

خِلْعَتِ مغفرت اس کے لئے رحمت لائے

جس نے خاکِ دَرِ شہ جائے کفن پائی ہو

 

یہی منظور تھا قدرت کو کہ سایہ نہ بنے

ایسے یکتا کے لئے ایسی ہی یکتائی ہو

 

ذِکرِ خدام نہیں مجھ کو بتا دیں دشمن

کوئی نعمت بھی کسی اَور سے گر پائی ہو

 

جب اُٹھے دست ِاَجل سے میری ہستی کا حجاب

کاش اس پردہ کے اندر تری زیبائی ہو

 

دیکھیں جاں بخشیٔ لب کو تو کہیں خضر و مسیح

کیوں مَرے کوئی اگر ایسی مسیحائی ہو

 

کبھی ایسا نہ ہوا اُن کے کرم کے صدقے

ہاتھ کے پھیلنے سے پہلے نہ بھیک آئی ہو

 

بند جب خوابِ اَجل سے ہوں حسن کی آنکھیں

اس کی نظروں میں ترا جلوۂ زیبائی ہو

اے راحت جاں جو تِرے قدموں سے لگا ہو

اے راحت جاں جو تِرے قدموں سے لگا ہو

کیوں خاک بسر صورتِ نقش کف پا ہو

 

ایسا نہ کوئی ہے نہ کوئی ہو نہ ہوا ہو

سایہ بھی تو اِک مثل ہے پھر کیوں نہ جدا ہو

 

اللّٰہ  کا   محبوب   بنے    جو  تمھیں   چاہے

اس کا تو بیاں ہی نہیں کچھ تم جسے چاہو

 

دل سب سے اُٹھا کر جو پڑا ہو تِرے دَر پر

اُفتادِ دَو عالم سے تعلق اُسے کیا ہو

 

اُس ہاتھ سے دل سوختہ جانوں کے ہرے کر

جس سے رُطبِ سوختہ کی نشونما ہو

 

ہر سانس سے نکلے گل فردوس کی خوشبو

 



Total Pages: 158

Go To