Book Name:Yume Tatil Atikaf

بھی مَسَاجِد کی آبادکاری کا ہی ذَرِیْعَہ ہے کیونکہ جن علاقوں میں یہ مَدَنی کام مَضْبُوط ہوگا وہاں مَسَاجِد آباد ہوں گی، نمازیوں کی تعداد میں اِضافہ ہو گا اور درس و بیان، سنّتیں و آداب سیکھنے سکھانے کا سلسلہ ہوگا تو  ان کی رونقیں بحال ہوں گی۔

مسجدیں آباد ہوں اور سنتیں بھی عام ہوں    فیض کا دریا بہا دو سرورا داتا پیا[1]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                       صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 (5) گناہوں سے بچنے کا ذریعہ

یَوْمِ تَعْطِیل اِعْتِکَاف نیکیاں کمانے اور گناہوں سے بچنے کا بھی ایک ذَرِیْعَہ ہے ، جتنی دیر اِعْتِکَاف کی نِیَّت سے مَسْجِد میں رہیں گے ، عِلْمِ دین سیکھنے سکھانے اور آخِرَت کے مُتَعَلِّق غور و فِکْر کا مَوْقَع بھی ملے گا۔ چُنَانْچِہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے کہ (آخِرَت کے مُعَامَلات میں )  لمحہ بھر غور و فِکْر کر نا ساری رات کی (نَفْل)  عِبَادَت سے بہتر ہے ۔ [2]

 (6) نیکیاں کمانے کا ذریعہ

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو! حضرتِ سَیِّدُنا ابوہُریرَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِ ی ہے کہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: مرد کا جَمَاعَت کے ساتھ نَماز ادا کرنا، گھر اور بازار میں نَماز ادا کرنے سے 25 درجے اَفْضَل ہے ، کیونکہ جب وہ اچھے طریقے سے وُضُو کر کے مَسْجِد جاتا ہے اور نِیَّت صِرف نَماز کی ہوتی ہے تو اس کے ہر قَدَم پر اللہ پاک اس کا ایک دَرْجَہ بُلَند فرماتا اور اس کی ایک خطا کو معاف فرماتا ہے ۔ جب وہ نَماز پڑھ لیتا ہے تو جب تک اپنی جگہ پر بیٹھا رہتا ہے فرشتے اس کے لئے دُعائے مَغْفِرَت کرتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں: یا اللہ! اس کی مَغْفِرَت فرما، یا اللہ! اس پر رحم فرما۔ لِہٰذا جب تک تم میں سے کوئی نَماز کے اِنتِظار میں ہو تو وہ نَماز ہی میں ہوتا ہے ۔ [3]

یَوْمِ تَعْطِیل اِعْتِکَاف گناہوں سے بچنے کا ذَرِیْعَہ ہی نہیں نیکیاں کمانے کا بھی ذَرِیْعَہ ہے ، کہ اس میں مذکورہ حدیْثِ پاک پر بخوبی عَمَل کرنے کا مَوْقَع ملتا ہے ، کیونکہ اس میں اِعْتِکَاف کی نِیَّت سے جب مَسْجِد میں ٹھہرا جاتا ہے تو مَسْجِد میں ٹھہرنے کے سَبَب اَذَان دینے یا سن کر جواب دینے ، تکبیرِ اُولیٰ کے ساتھ باجَمَاعت نَماز پڑھنے اور ایک نَماز کے بعد دوسری نَماز کے اِنتِظار میں بیٹھے رہنے کا ثواب وغیرہ پانے کا مَوْقَع بھی ملتا ہے ۔

 (7)  نرمی و عاجزی کا سبب

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو! یَوْمِ تَعْطِیل اِعْتِکَاف میں شِرْکَت کی بَرَکَت سے تکبُّر کی کاٹ ہوتی اور عاجِزی پیدا ہوتی ہے ، کیونکہ تکبُّر کی ایک عَلامَت یہ ہے کہ مُتَکَبِّر آدمی دوسروں کی مُلَاقَات کے لئے نہیں جاتا، اگرچہ اس کے جانے سے دوسرے کو دِینی فائدہ ہی کیوں نہ ہو۔ [4]یہاں تک کہ مُتَکَبِّر شخص مریضوں اور بیماروں کے پاس بیٹھنے سے بھی بھاگتا ہے ۔ [5]لِہٰذا یَوْمِ تَعْطِیل اِعْتِکَاف میں جب خود چل کر دوسروں کے پاس جائیں گے تو یقیناً تکبُّر کی کاٹ ہو گی اور عاجِزی پیدا ہو گی۔ اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّ

عُجب و تکبُّر اور بچا حُبِّ جاہ سے                                                 آئے نہ پاس تک رِیا یا ربّ مصطَفٰے [6]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                       صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 (8)  صبر پر اجر

یَوْمِ تَعْطِیل اِعْتِکَاف میں چُونکہ لوگوں کے پاس جا کر نیکی کی دعوت دینے کا سلسلہ ہوتا ہے جس میں ان کی طرف سے بسا اَوقات ایسی باتیں بھی سننا پڑتی ہیں جو نفس



[1]    وسائل بخشش(مرمّم)،ص۵۳۵

[2]     الزھد لابی داود، من خبر ابی الدرداء،ص۱۹۲،حدیث:۲۰۹

[3]    بخاری،کتا ب الاذان،با ب فضل صلاة الجماعة،ص۲۲۴،حديث:۶۴۷

[4]     احیاء علوم الدین، کتاب ذم الکبر و العجب، بیان اخلاق المتواضعین ... الخ، ٣ / ٤٣٤

[5]      احیاعلوم الدین، کتاب ذم الکبر و العجب، بیان اخلاق المتواضعین ... الخ، ٣ / ٤٣٥

[6]     وسائِلِ بخشش(مرمّم)،ص ۱۳۲



Total Pages: 16

Go To