Book Name:Gunaho ke Azabat Hissa 1

میں کوتاہی کرتے ہیں ۔ ( 4 ): لَہْو ولعب ( کھیل کُود ) اور فُضُول کاموں میں کثرت سے مَشْغُوْلِیت کہ فُضُولیات میں پڑے آدمی کے دل سے اپنا قیمتی وَقْت ضائِع ہونے کا اِحْسَاس جاتا رہتا ہے اور اس کو ہر وَقْت انہی کی فِکْر رہتی ہے ۔

پابَندِ نماز بننے کے لئے

٭ پابندِ نماز، نیک پرہیزگار لوگوں کی صُحْبَت اِخْتِیَار کیجئے اور بُری صُحْبَت تَرْک کیجئے ۔ ٭ نماز پڑھنے کے فضائل وبَرَکات اور ترکِ نماز کے عَذَابات پڑھئے / سُنئے اور اپنے نازُک بدن پر غور کیجئے کہ نماز قضا کرنے کے سبب اگر ان میں سے کوئی عذاب ہم پر مُسَلَّط کر دیا گیا تو ہمارا کیا بنے گا ۔ ٭ یہ بات ذِہْن میں اچھی طرح بِٹھا لیجئے کہ جو رِزْق قِسْمَت میں ہے وہ مِل کر رہے گا اور تقدیر سے زِیادہ کسی کو کچھ نہیں مِل سکتا لہٰذا مال جمع کرنے کی حِرْص میں نماز سے غفلت بَرَتْنا سراسر خَسَارَہ ( نُقْصان ) ہے ۔ ٭ خود کو فائدہ مند اور ضروری کاموں میں مصروف رکھئے اور غیر ضروری کاموں سے پیچھا چُھڑا لیجئے ۔

مَدَنی مشورہ: قضا کی ہوئی نمازیں پڑھنے کا طریقہ اور تَفْصِیلی اَحْکَام جاننے کے لئے شیخِ طریقت، اَمِیْرِ اہلسنت حضرت علَّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطَّار قادِری دَامَتْ بَـرَکَاتُہُمُ الْعَالِـیَہ کے رِسالے ”قضا نمازوں کا طریقہ“ کا مُطَالعہ کیجئے ۔

حلقوں میں یاد کروائی جانے والی دُعا

بَیْتُ الْخَلَا سے باہَر آنے کے بعد کی دُعا

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِىْۤ اَذْهَبَ عَنِّى الْاَذٰى وَ عَافَانِىْ

ترجمہ: اللہ پاک کا شکر ہے جس نے مجھ سے اَذِیَّت دُور کی اور مجھے عَافِیَّت دی ۔( [1] )

٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭

دُرُود شریف کی فضیلت

فرمانِ مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: نماز کے بعد حمد و ثناء و دُرُود شریف پڑھنے والے سے فرمایا : ’’دُعا مانگ قبول کی جائے گی، سوال کر، دیا جائے گا ۔‘‘( [2] )

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                       صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

( 5 )...ماہِ رَمَضان کا روزہ چھوڑنا

”روزہ قضا کرنے “کے مُتَعَلِّق   مختلف اَحْکَام

( 1 ): بِلاعُذْرِ شَرْعِی رَمَضَانُ الْمُبَارَک کا روزہ چھوڑ دینا گُنَاہِ کبیرہ ( [3] )اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔ ( 2 ): بَعْض مَجْبُوریاں ایسی ہیں جن کے سبب رَمَضَانُ الْمُبَارَک میں روزہ نہ رکھنے کی اِجَازت ہے ۔ مگر یہ یاد رہے کہ مجبوری میں روزہ مُعَاف نہیں وہ مجبوری خَتْم ہو جانے کے بعد اس کی قضا رکھنا فرض ہے ۔ البتہ قضا کا گُنَاہ نہیں ہو گا ۔( [4] ) ( 3 ): جس نے رَمَضان کا روزہ قصداً ( یعنی جان بوجھ کر ) توڑ ڈالا تو اس پر اس روزہ کی قضا بھی ہے اور ( اگر کَفَّارے کی شَرائِط پائی گئیں تو ) 60 روزے کَفَّارے کے بھی ۔( [5] )

 

 



[1]    مصنف ابن ابى شيبة ،  كتاب الطهارات ،  ١ / ١٢ ،  حديث: ٤ ومدنی پنج سورہ ،  ص۲۰۴.

[2]    نسائى ،  كتاب السهو ،  باب التمجيد والصلاة     الخ ،  ص٢٢٠ ،  حديث: ١٢٨١.

[3]    رسائل ابن نجيم ،  الرسالة الثالثة والثلاثون فى بيان الكبائر    الخ ،  ص٣٥٣.

[4]    فیضانِ رمضان ،  احکامِ روزہ ،  ص۱۴۲.

وبہارِ شریعت ،  حصہ پنجم ،  بیان ان وجوہ کا جن سے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے ،  ۱ / ۱۰۰۴ ،  ماخوذاً.

[5]    فتاوى هندية ،  كتاب الصوم ،  باب فی تعريفه و تقسيمه ،  ١ / ٢١٧.



Total Pages: 42

Go To