Book Name:Gunaho ke Azabat Hissa 1

دُرُود شریف کی فضیلت

فرمانِ مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: شبِ جمعہ اور روزِ جمعہ مجھ پر کثرت سے دُرُود شریف پڑھو کیونکہ تمہارا دُرُود پاک مجھ پر پیش کیا جاتا ہے ۔( [1] )

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                       صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

( 25 )...بدگُمَانی

بدگمانی کی تَعْرِیف

بِلا دلیل دُوسرے کے بُرے ہونے کا دِل سے اِعْتِقَادِ جازِم ( یعنی یقین ) کر لینا بَدْگُمَانِی کہلاتا ہے ۔( [2] )

بدگمانی کی چند مِثَالَیں

٭ نعت شریف یا سُنَّتوں بھرا بیان سُن کر کسی کو روتا دیکھا تو اس کے بارے میں یہ خیال دل میں جما لینا ( یعنی یقین کر لینا ) کہ یہ لوگوں کو دِکھانے کے لئے رو رہا ہے ۔ ٭ کال رسیو نہ ہونے پر بِلاوجہ اس بات کا یقین کر لینا کہ وہ جان بوجھ کر میری کال رسیو نہیں کر رہا ۔ ٭ طے کئے گئے وَقْت اور مقام پر کوئی آدمی نہیں پہنچ پایا تو بِلاوجہ اُس کے بارے میں یہ یقین کر لینا کہ یہ دھوکا باز ہے ۔

”بدگمانی“ کے مُتَعَلِّق مختلف اَحْکَام

( 1 ): مسلمان پر بدگمانی حرام وکبیرہ ( گُنَاہ ہے ) ۔( [3] ) ( 2 ): اگر کوئی شک میں مبتلا کرنے والے بُرے کاموں میں اِعْلَانیہ طَور پر مَشْغُول ہو جیسے شراب کی دُکان میں آنا جانا تو اس صورت میں بدگمانی حرام نہیں ۔( [4] ) ( 3 ): یاد رہے کہ اِعْلَانیہ گُنَاہ کرنے والوں سے بدگمانی جائز ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کی بدگوئی کرنا یا عیب اُچھالنا شروع کر دیا جائے بلکہ ایسی صورت میں رِضَائے اِلٰہی کے لئے صِرْف دل میں انہیں بُرا سمجھا جائے ۔( [5] )

آیتِ مُبَارَکہ

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا ( پ٢٦، الحجرات: ١٢ )

ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو بے شک کوئی گمان گُنَاہ ہو جاتا ہے اور عیب نہ ڈھونڈو ۔

فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

اللہ پاک نے مسلمان کا خون، مال اور اس سے بد گمانی ( کو دوسرے مسلمان پر ) حرام کیا ہے ۔( [6] )

بدگمانی کے گُنَاہ میں مبتلا ہونے کے بَعْض اسباب

( 1 ): بُغْض وکینہ  ( 2 ): تَـجَسُّس یعنی دوسروں کے چُھپے حال کی جُسْتُجُو ۔

بدگمانی سے بچنے کے لئے

٭ اپنے مسلمان بھائیوں کی خُوبیوں پر نظر رکھئے ۔ ٭ اپنی بُرائیوں پر نظر کیجئے اور انہیں دُور کرنے میں لگ جائیے ۔ ٭ جب بھی دل میں کسی مسلمان کے بارے میں بدگمانی پیدا ہو تو اپنی تَوَجُّہ اس کی طرف کرنے کے بجائے بدگمانی کے شَرْعِی اَحْکَام کو پیشِ نظر رکھئے اور بدگمانی کے انجام پر نِگاہ رکھتے ہوئے خود کو عذابِ الٰہی سے ڈرائیے ۔ ٭ جس سے بدگمانی ہو اس کے لئے دُعَائے خیر کیجئے ۔

 



[1]     معجم اوسط ،  ١ / ٨٤ ،  حديث: ٢٤١.

[2]     فيض القدير ،  ٣ / ١٥٧ ،  تحت الحديث: ٢٩٠١.

[3]    فتاویٰ رضویہ ،  ۸ / ۸۰.

[4]     روح المعانى ،  پ٢٦ ،  الحجرات ،  تحت الآيه: ١٢ ،  ٢٦ / ٤٢٨ ،  ملتقطًا.

[5]     الحديقة الندية ،  الخلق الرابع و العشرون ،  ٢ / ١٢ ،  ملخصًا.

[6]     شعب الايمان ،  باب فى تحريم اعراض الناس ،  فصل     الاخبارفى التشديد    الخ ،  ٥ / ٢٩٧ ،  حديث: ٦٧٠٦.



Total Pages: 42

Go To