Book Name:Gunaho ke Azabat Hissa 1

اور دل سے مسلمانوں کا بُغْض وکینہ نِکال دیجئے ۔ ٭ خود کو جہنّم کے عذاب سے ڈرائیے ۔ رِوَایت میں ہے کہ جس کو سب سے کم درجہ کا عذاب ہو گا اسے آگ کی جُوتِیاں پہنا دی جائیں گی جس سے اس کا دِمَاغ ایسا کھولے گا جیسے تانبے کی پتیلی کھولتی ہے ، وہ سمجھے گا کہ سب سے زِیادہ عذاب اس پر ہو رہا ہے حالانکہ اس پر سب سے ہلکا ہے ۔( [1] )

مَدَنی مشورہ: تَجَسُّس کے متعلق مزید مَعْلُومات کے لئے شیخِ طریقت، اَمِیْرِ اہلسنت حضرت علَّامہ ابوبِلال محمد الیاس عطَّار قادِری دَامَتْ بَـرَکَاتُہُمُ الْعَالِـیَہ کی مایہ ناز تصنیفنیکی کی دعوت“صفحہ 397 تا 402 کا مُطَالعہ کیجئے ۔

حلقوں میں یاد کروائی جانے والی دُعا

تَعْزِیَت کرتے وَقْت کی دُعا

اِنَّ لِلّٰہِ مَاۤ اَخَذَ وَلَہٗ مَاۤ اَعْطٰی وَکُلٌّ عِنْدَہٗ بِاَجَلٍ مُّسَمًّی فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ

ترجمہ: بے شک اللہ پاک ہی کا ہے جو اُس نے لے لیا اور جو کچھ اُس نے دیا ہے اور ہر چیز کی اُس کی بارگاہ میں مِیْعَاد مُقَرَّر ہے پس چاہئے کہ تُو صَبْر کرے اور ثواب کی اُمید رکھے ۔( [2] )

٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭

دُرُود شریف کی فضیلت

فرمانِ مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: مجھ پر دُرُود شریف پڑھو، اللہ پاک تم پر رَحْمت بھیجے گا ۔( [3] )

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                       صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

( 22 )...تَمَسْخُر ( مذاق اُڑانا )

”تَمَسْخُر“ کی تَعْرِیف

کسی کی اِس طرح توہین وتذلیل کرنا یا اس کے عُیُوب ونَقَائِص کو اِس طرح ظاہِر کرنا کہ اُس کا مذاق بنے ، تَمَسْخُر کہلاتا ہے ۔( [4] ) اِس کو اِسْتِہْزَاء بھی کہتے ہیں ۔

تَـمَسْخُـر کی چند مِثَالَیں

٭ کسی شَخْص کے بیٹھنے ، اُٹھنے ، چلنے یا گفتگو کرنے کے انداز کی نَقْل اُتاری جائے مثلاً زید لنگڑا کر چلتا ہے بَکْر بھی اس کی طرح لنگڑاتے ہوئے چل کر اس کا مذاق بنائے تو وہ زید کے ساتھ تَمَسْخُـر کرنے والا ہو گا ۔ ٭ کسی کی شکل وصورت وغیرہ جسمانی ساخْت کو مَضْحَکَہ خَیْز ( یعنی ہنسی لانے والے ) انداز سے بیان کیا جائے مثلاً ایک شَخْص بہت موٹا ہے بَکْر نے اس کو آتے دیکھ کر کہا: دیکھو! ہاتھی کا چھوٹا بھائی آ رہا ہے ، یہ بھی تَمَسْخُـر ہے ۔

” تَمَسْخُر“ کے مُتَعَلِّق مختلف اَحْکَام

( 1 ): ( کسی مسلمان کے ساتھ ) تَمَسْخُـر کرنا ( یعنی اُس کا مذاق اُڑانا ) حرام ہے کیونکہ اِس سے ( اُس کی ) دل آزاری ہوتی ہے ۔( [5] ) ( 2 ): دِین کی کسی چیز کا مذاق اُڑانا کُفر ہے ۔( [6] ) ( 3 ): مِزَاح  یعنی ایسی بات جس میں کسی کی دل آزاری نہ ہو بلکہ اپنا اور سننے والے کا دِل خوش ہو جائے یہ اچھی چیز ہے جبکہ



[1]    مسلم ،  كتاب الايمان ،  باب اهون اهل النار عذابا ،  ص١٠٢ ،  حديث: ٣٦٤.

[2]    بخارى ،  كتاب الجنائز ،  ص٣٦٤ ،  حديث: ١٢٨٤ ومدنی پنج سورہ ،  ص۲۲۳.

[3]    كنز العمال ،  كتاب الاذكار ،  قسم الاقوال ،  ١ / ٢٤٩ ،  حديث: ٢١٦٥.

[4]    احياء العلوم ،  كتاب آفات اللسان ،  الآفة الحادية عشر السخرية والاستهزاء ،  ٣ / ١٦٢.

[5]    عين العلم وزين الحلم ،  الباب التاسع فى الصمت و آفات اللسان ،  كراهية الاستهزاء    الخ ، ١ / ٤٦٧.

[6]    صراط الجنان ،  پ۶ ،  المائدہ ،  تحت الآیہ: ۵۸ ،  ۲ / ۴۵۷.



Total Pages: 42

Go To