Book Name:Gunaho ke Azabat Hissa 1

اور جہنّم کا حق دار قرار پاؤں گا کہ یہ گُنَاہ کے ذریعے غصّہ ٹھنڈا کرنا ہوا اَور فرمانِ مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : جہنّم میں ایک دروازہ ہے اس سے وُہی داخِل ہوں گے جن کا غصّہ کسی گُنَاہ کے بعد ہی ٹھنڈا ہوتا ہے ۔( [1] )

مَدَنی مشورہ: چُغْلِی کے مُتَعَلِّق مزید مَعْلُومات اور اس کے دِینی اور دُنْیَوی نقصانوں کو جاننے کے لئے دعوتِ اسلامی کے اِشَاعَتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1286 صفحات پر مشتمل کتاب اِحْیَاءُ الْعُلُوم“ جلد سِوُم، صفحہ 468 تا 480 کا مُطَالعہ کیجئے ۔

حلقوں میں یاد کروائی جانے والی دُعا

سِتارہ ٹوٹتا دیکھتے وقت کی دُعا

مَا شَاۤءَ اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ

ترجمہ: جو اللہ پاک چاہے ، کوئی قوت نہیں مگر اللہ پاک کی مدد سے ۔( [2] )

٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭

دُرُود شریف کی فضیلت

فرمانِ مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: فرض حج کرو، بے شک اِس کا اجر بیس غَزوات میں شرکت کرنے سے زیادہ ہے اور مجھ پر ایک مرتبہ دُرُودِ پاک پڑھنا اِس کے برابر ہے ۔( [3] )

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                       صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

( 20 )...بُہْتَان

”بُہتان کی تَعْرِیف

کسی شَخْص کی مَوْجُودَگی یا غیر مَوْجُودَگی میں اس پر جھوٹ باندھنا بُہْتَان کہلاتا ہے ۔( [4] )

مِثَال اور وضاحت

اس کو آسان لفظوں میں یوں سمجھئے کہ بُرائی نہ ہونے کے باوُجُود اگر پیٹھ پیچھے ( غیر موجودگی ) یا رُوبَرو ( سامنے ) وہ بُرائی اُس کی طرف مَنْسُوب کردی تو یہ بُہتان ہوا مثلاً پیٹھ پیچھے یا مُنْہ پر کسی کو چور کہہ دیا حالانکہ اُس نے کوئی چوری نہیں کی تو اُس کو چور کہنا بُہتان ہوا ۔

بُہتان تراشی کا حکم

بُہتان تراشی حرام، گُنَاہِ کبیرہ ( [5] )اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے ۔

آیتِ مُبَارَکہ

اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ

ترجمۂ کنزالایمان: جھوٹ بُہتان وہی باندھتے

 

 لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ( ۱۰۵ )        ( پ١٤، النحل: ١٠٥ )

ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور وہی جھوٹے ہیں ۔

 



[1]    مسند الفردوس ،  باب الالف ،  ١ / ٢٠٥ ،  حديث: ٧٨٤.

[2]    عمل اليوم والليلة ،  باب مايقول اذا انقض كوكب ،  ص٣٩٥ ،  حديث: ٦٥٣ ومدنی پنج سورہ ،  ص۲۱۱.

[3]    مسند الفردوس ،  ٢ / ١٣٠ ،  حديث: ٢٦٦٢.

[4]    الذريعة الى مكارم الشريعة ،  الباب الثامن والثلاثون ،  ص١٧٧.

[5]    منحة السلوك ،  كتاب الكسب والادب ،  فصل في بيان انواع الكلام ،  ص٤٨٣ وصراط الجنان ،  پ۱۸ ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۱۸ ،  ۶ / ۵۹۹.



Total Pages: 42

Go To