Book Name:Gunaho ke Azabat Hissa 1

کے وارِثوں کا پتا نہ چلے تو وہ مال فقیروں پر صَدقہ کر دے ، خرید و فَروخْت وغیرہ میں ا س مال کو لگانا حرام ہے ۔ اس کے عِلَاوہ اور کوئی طریقہ مالِ رشْوت کے وبال سے سُبُک دَوش ہونے ( یعنی نجات پانے ) کا نہیں ہے ۔( [1] )

آیتِ مُبَارَکہ

وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠( ۱۸۸ )

( پ٢، البقرة: ١٨٨ )

 ترجمۂ کنزالایمان: اور آپس میں ایک  دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤاور نہ حاکموں کے پاس ان کا مُقَدَّمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھالو  جان بوجھ کر ۔

اس آیت میں باطِل طور پر کسی کا مال کھانا حرام فرمایا گیا خواہ لُوٹ کر ہو یا چھین کر، چوری سے یا جوئے سے یا حرام تماشوں یا حرام کاموں یا حرام چیزوں کے بدلے یا رِشْوت یا جھوٹی گواہی سے ، یہ سب ممنوع وحَرام ہے ۔( [2] )

فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

اَلرَّاشِیْ وَالْمُرْتَشِیْ فِیْ النَّارِ یعنی رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں ۔( [3] )

رِشْوَت کے لَین دَین میں مبتلا ہونے کے بَعْض اسباب

( 1 ): مال کی حِرْص، بہت سارے اَفْرَاد منصب، عہدے یا نوکری حاصِل کرنے کی جُسْتُجو میں رِشْوت دیتے ہیں ۔  ( 2 ): جَلْد بازی کہ کام جَلْد کروانے کے لئے بھی رِشْوت کا لَین دَین پایا جاتا ہے ۔ ( 3 ): ناجائز طور پر کام نکلوانا ( 4 ): ظُلْم کہ کسی کے ساتھ نااِنصافی کرنے کے لئے بھی رشْوت دی اور لی جاتی ہے ۔

رِشْوَت کے لَین دَین سے مَحْفُوظ  رہنے کے لئے

٭ موت کو کثرت سے یاد کیجئے تاکہ دل سے مال کی حِرْص نکلے ، گُنَاہوں سے بچنے کا ذِہْن بنے اور نیکیاں کرنے کی رَغبت ملے ۔ ٭ اپنی طبیعت میں اِطْمِینان اور سُکُون پیدا کیجئے اور جَلْدبازی سے بچئے ۔ ٭ رِشْوت کی تباہ کاریوں پر غور کیجئے کہ یہ کس قدر دُنْیَوی واُخْرَوِی نقصانات کا سبب ہے ، اِنْ شَآءَ اللہ! اس سے بچنے کا ذِہْن بنے گا ۔

حلقوں میں یاد کروائی جانے والی دُعا

عِلْم میں اِضافے کی دُعا

رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا ( پ١٦، طٰهٰ: ١١٤ )

ترجمۂ کنزالایمان: اے میرے ربّ مجھے عِلْم زِیادہ دے ۔( [4] )

٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭

 

دُرُود شریف کی فضیلت

فرمانِ مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: مجھ پر دُرُود پاک کی کثر ت کرو بے شک تمہارا مجھ پر دُرُودِ پاک پڑھنا تمہارے لئے پاکیزگی کا باعِث ہے ۔( [5] )

 



[1]     فتاویٰ رضویہ ،  ۲۳ / ۵۵۱ ،  بتغیر قلیل.

[2]     صراط الجنان ، پ۲ ،  البقرہ ،  تحت الآیہ: ۱۸۸ ،  ۱ / ۳۰۲.

[3]     معجم اوسط ،  ١ / ٥٥٠ ،  حديث: ٢٠٢٦.

[4]     مدنی پنج سورہ ،  ص۲۰۸.

[5]     مسند ابى يعلى ،  ٥ / ٦٢ ،  حديث: ٦٤٠٧.



Total Pages: 42

Go To