Book Name:Gunaho ke Azabat Hissa 1

دُرود ِ پاک پڑھو ۔( [1] )

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                       صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

( 12 )...سُود ( Usury )

سُود ( Usury ) کی تَعْرِیف

عقدِ مُعَاوَضَہ ( یعنی لَین دَین کے کسی مُعَامَلے ) میں جب دونوں طر ف مال ہو اورایک طرف زِیادتی ہوکہ اس کے مُقَابِل ( یعنی بدلے ) میں دوسری طرف کچھ نہ ہو یہ سُود ہے ۔( [2] ) اسی طرح قَرْض دینے والے کو قَرْض پر جو نفع، جو فائدہ حاصِل ہو وہ سب بھی سُود ہے ۔( [3] )

سود کی مِثَال

جو چیز ماپ یا تول سے بکتی ہو جب اس کو اپنی جِنْس سے بدلا جائے مثلا گیہوں ( گَنْدُم ) کے بدلے میں گیہوں ( گَنْدُم )، جَو کے بدلے میں جَو لئے اور ایک طرف زِیادہ ہو حرام ہے اور اگر وہ چیز ماپ یا تول کی نہ ہو یا ایک جِنْس کو دوسری جِنْس سے بدلا ہو تو سُود نہیں ۔ عمدہ اور خراب کا یہاں کوئی فرق نہیں یعنی تبادلۂ جِنْس میں ایک طرف کم ہے مگر یہ اچھی ہے دوسری طرف زیادہ ہے وہ خراب ہے جب بھی سُود اور حرام ہے ، لازِم ہے کہ دونوں ماپ یا تول میں برابر ہوں ۔ جس چیز پر سُود کی حرمت کا دار مدار ہے وہ قَدْر وجِنْس ہے ۔ قَدْر سے مُراد وَزْن یا ماپ ہے ۔( [4] )

”سُود“ کے مُتَعَلِّق  مختلف اَحْکَام

( 1 ): سُود حرامِ قَطْعِی ہے ، اس کی حُرمَت کا مُنْکِر ( یعنی حرام ہونے کا اِنکار کرنے والا ) کافِر ہے ۔( [5] ) ( 2 ): جس طرح سُود لینا حرام ہے سُود دینا بھی حرام ہے ۔( [6] )

آیتِ مُبَارَکہ

اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ     ( پ٣،البقرة: ٢٧٥ )

ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو سُود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چُھو کر مَخْبُوط ( پاگل ) بنادیاہو ۔

فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

رات میں نے دیکھا کہ میرے پاس دو۲شَخْص آئے اور مجھے زمینِ مُقَدَّس ( بَیْتُ المُقَدَّس ) میں لے گئے پھر ہم چلے یہاں تک کہ خون کے دریا پر پہنچے ، یہاں ایک شَخْص کنارے پر کھڑا ہے جس کے سامنے پتھر پڑے ہوئے ہیں اور ایک شَخْص بِیْچ دَرْیا میں ہے ، یہ کنارے کی طرف بڑھا اور نکلنا چاہتا تھا کہ کنارے والے شَخْص نے ایک پتھر ایسے زور سے اُس کے منہ پر ماراکہ جہاں تھا وہیں پہنچا دیا پھر جتنی بار وہ نکلنا چاہتا ہے کنارے والا منہ پر پتھر مارکر وَہیں لوٹا دیتا ہے ۔ میں نے پوچھا: یہ کون شَخْص ہے ؟ کہا، یہ شَخْص جو نہر میں ہے ، سُود خوار ( یعنی سود کھانے والا ) ہے ۔( [7] )

سُودی لَین دَین کے بَعْض اسباب

( 1 ): مال کی حرص( 2 ): فضول خرچی خاص طور پر شادی وغیرہ تقریبات ( Function’s ) میں فضول رسموں کی پابندی کہ ایسے اَفْرَاد کم خرچ پر قناعَت نہ کرنے کی وجہ سے سُود پر قَرْض اُٹھا لیتے ہیں ۔ ( 3 ): عِلْمِ دین کی کمی کہ بَعْض اَوْقَات سُود سے بچنے کا ذِہْن بھی ہوتا ہے مگر مَعْلُومات نہ ہونے کی وجہ سے آدمی اس کے لَیْن دَین میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔

 



[1]     مصنف عبد الرزاق ،  باب الصلاة على النبى صلى الله عليه وسلم ،  ٢ / ١٤٠ ،  حديث: ٣١١٦.

[2]    بہارِ شریعت ،  حصہ۱۱ ،  سُود کا بیان ،    ۲ / ۷۶۹.

[3]     فتاویٰ رضویہ ،  ۱۷ / ۷۱۳.

[4]     بہارِ شریعت ،  حصہ۱۱ ،  سُود کا بیان ،    ۲ / ۷۶۹.

[5]    بہارِ شریعت ،  حصہ۱۱ ،  سُود کا بیان ،    ۲ / ۷۶۸ ومنح الروض الازهر ،  ص٤٦٨.

[6]    بہارِ شریعت ،  حصہ۱۱ ،  سُود کا بیان ،  ۲ / ۷۷۶ ،  بتغیر قلیل.

[7]    بخارى ،  كتاب البيوع ،  باب آكل الربا و شاهده و كاتبه ،  ص٥٤٣ ،   حديث: ٢٠٨٥.



Total Pages: 42

Go To