Book Name:Gunaho ke Azabat Hissa 1

شریعت، حِصَّہ5 اور فیضانِ زکوٰۃ  کا مُطَالعہ کیجئے ۔

حلقوں میں یاد کروائی جانے والی دُعا

کھانے کے بعد کی دُعا

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْۤ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِیْنَ

ترجمہ: اللہ پاک کا شُکْر ہے جس نے ہمیں کِھلایا، پِلایا اور ہمیں مسلمان بنایا ۔( [1] )

٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭

دُرُود شریف کی فضیلت

فرمانِ مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: جس نے مجھ پر ایک بار دُرُودِ پاک پڑھا اللہ پاک اُس پر دس رَحمتیں نازِل فرماتا ہے ، دس گُنَاہ مٹاتا ہے اور دس دَرَجات بُلند فرماتا ہے ۔( [2] )

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                       صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

( 7 )... حج تَرْک کرنا

” حج نہ کرنے “ کے مُتَعَلِّق  مختلف اَحْکَام

( 1 ): جو ( مسلمان، عاقِل وبالغ، آزاد ) حج پر قادِر ہو ( یعنی تَندْرُسْت ہو  اور سَفَر کے لئے ضروری خَرْچ بھی رکھتا ہو ) اور ( پھر بھی ) حج نہ کرے ( تَو ) وہ سخت مُجْرِم و گنہگار ہے ۔( [3] ) ( 2 ): جب حج کے لئے جانے پر قادِر ہو حج فوراً فرض ہوگیا یعنی اُسی سال میں اور اب تاخِیْر گُنَاہ ہے اور چند سال تک نہ کیا تو فاسِق ہے مگر جب کرے گا  ادا ہی ہے قضا نہیں ۔( [4] ) ( 3 ): جب ایک مرتبہ حج فَرْض ہو جاتا ہے تو اگرچہ مال فنا ہو جائے اور یہ فقیر ہو جائے جب بھی حج فَرْض ہی رہے گا، اس صُورت میں فَرْض ہے کہ قَرْض لے کر حج کرے اور نیت یہ رکھے کہ میں یہ قَرْض ادا کر دوں گا ،تو اللہ پاک قَرْض کی ادائیگی کے ذَرَائع پیدا فرما دے گا ۔( [5] ) ( 4 ): اگر کسی پر حج فَرْض ہو اور اس نے ادا نہ کیا یہاں تک کہ اب اس کے ادا کرنے پر قادِر نہ رہ گیا مثلاً اپاہج یا مَفْلُوْج ہو گیا یا عورت تھی اب اس کا مَحْرَم نہیں رہ گیا تو اس پر وہ حجِ فَرْض باقی ہے خود نہ کر سکے تو حجِ بَدَل کرائے ۔( [6] )

آیتِ مُبَارَکہ

وَ  لِلّٰهِ  عَلَى  النَّاسِ   حِجُّ  الْبَیْتِ  مَنِ  اسْتَطَاعَ  اِلَیْهِ  سَبِیْلًاؕ-وَ  مَنْ  كَفَرَ  فَاِنَّ  اللّٰهَ  غَنِیٌّ  عَنِ  الْعٰلَمِیْنَ( ۹۷ ) ( پ٤،آل عمران: ٩٧ )

ترجمۂ کنزالایمان: اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے اور جو منکر ہو تو اللہ سارے جہان سے بے پرواہ ہے ۔

فرمان مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

جسے کوئی ظاہِری حاجَت، سَخْت مَرَض يا ظالم بادشاہ نہ روکے پھر بھی وہ حج نہ کرے توچاہے يہودی ہو کر مَرے يا نَصْرَانی ۔( [7] )  

حج سے مَحْرُومی کے بَعْض اَسْبَاب

( 1 ): بُخْل کہ حج کرنے میں کَثیر مال خرچ کرنا پڑتا ہے اور بعض لوگ مَحْض اِسی وجہ سے حج فَرْض ہونے کے باوُجُود ادا کرنے سے مَحْرُوم رہتے ہیں



[1]    ابو داود ،  كتاب الاطعمة ،   ص٦٠٧ ،  حديث: ٣٨٥٠ ومدنی پنج سورہ ،  ص۲۰۶.

[2]    نسائى ،  كتاب السهو ،  باب الفضل فى الصلاة     الخ ،  ص٢٢٢ ،  حديث: ١٢٩٤.

[3]    تفسیرِ نعیمی ،  پ۴ ،  آل عمران ،  تحت الآیہ: ۹۷ ،  ۴ / ۴۰.

[4]    بہارِ شریعت ،  حصہ ششم ،  حج کا بیان ،  ۱ / ۱۰۳۶ ،  ملتقطًا والبحر الرائق ،  كتاب الحج ،  ٢ / ٥٤٢ و٥٤٣ ،  ملخصًا.

[5]    وقار الفتاوی ،  ۲ / ۴۴۲ ،  ملتقطًا.

[6]    فتاوی فیض رسول ،  ۱ / ۵۴۰.                                     

[7]..شعب الایمان ،  باب فی المناسك ،  ٣ / ٤٣٠ ،  حدیث: ٣٩٧٩.



Total Pages: 42

Go To