Book Name:Jannati Zevar

اعتکاف واجب : ۔جیسے کسی نے یہ منت مانی کہ میرا فلاں کام ہو جائے تومیں ایک دن یا دو دن کا اعتکاف کروں گا اور اس کا کام ہو گیا تو یہ اعتکاف واجب ہے اور اس کا  پورا کرنا ضروری ہے یاد رکھو کہ اعتکاف واجب کے لئے روزہ شرط ہے بغیر روزہ کے اعتکاف واجب صحیح نہیں ۔  (الدرالمختارمع ردالمحتار، کتاب الصوم ، باب الاعتکاف، ج۳، ص۴۹۵۔۴۹۶)

اعتکاف سنت موکدہ : ۔رمضان کے آخری دس دنوں میں کیا جائے گا یعنی بیسویں رمضان کو سورج ڈوبنے سے پہلے اعتکاف کی نیت سے مسجد میں داخل ہو جائے اور تیسویں رمضان کو سورج ڈوبنے کے بعد انتیسویں رمضان کو چاند ہونے کے بعد مسجد سے نکلے یاد رکھو کہ اعتکاف سنت موکدہ کفایہ ہے یعنی اگر محلّہ کے سب لوگ چھوڑدیں تو سب آخرت کے مواخذہ میں گرفتار ہوں گے اور کسی ایک نے بھی اعتکاف کر لیا تو سب آخرت کے مواخذہ سے بری ہو جائیں گے اس اعتکاف میں بھی روزہ شرط ہے مگر وہی رمضان کے روزے کافی ہیں ۔

  (الدرالمختارمع ردالمحتار، کتاب الصوم ، باب الاعتکاف، ج۳، ص۴۹۵۔۴۹۶)

اعتکاف مستحب : ۔اعتکاف مستحب یہ ہے کہ جب کبھی بھی دن یا رات میں مسجد کے اندر داخل ہو تو اعتکاف کی نیت کرے جتنی دیر تک مسجد میں رہے گا اعتکاف کا ثواب پائے گا نیت میں صرف اتنا دل میں خیال کر لینا اور منہ سے کہہ لینا کافی ہے کہ میں نے خدا کے لئے اعتکاف مستحب کی نیت کی۔

مسئلہ : ۔مرد کے لئے ضروری ہے کہ مسجد میں اعتکاف کرے اور عورت اپنے گھر میں اس جگہ اعتکاف کرے گی جو جگہ اس نے نماز پڑھنے کے لئے مقرر کی ہو ۔

            (الد رالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۴۹۳۔۴۹۴)

مسئلہ : ۔   اعتکاف کرنے والے کے لئے بلا عذر مسجد سے نکلنا حرام ہے اگر نکلا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا چاہے قصداً  نکلا ہو یا بھول کر اسی طرح عورت نے جس مکان میں اعتکاف کیا ہے اس کو اس گھر سے باہر نکلنا حرام ہے اگر عورت اس مکان سے باہر نکل گئی تو خواہ وہ قصداً نکلی ہو یا بھول کر اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا ۔    (الد رالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۵۰۰۔۵۰۳)

مسئلہ : ۔اعتکاف کرنے والا صرف دو عذروں کی وجہ سے مسجد سے باہر نکل سکتا ہے ایک عذر طبعی جیسے پیشاب پاخانہ اور غسل فرض و وضو کے لئے دوسرے عذر شرعی جیسے نماز جمعہ کے لئے جانا ان عذروں کے سوا کسی اور وجہ سے اگر چہ ایک ہی منٹ کے لئے ہو مسجد سے اگر نکلا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا اگرچہ بھول کر ہی نکلے ۔   (الدرالمختارمع ردالمحتار، کتاب الصیام، باب الاعتکاف، ج۳، ص۵۰۱، ۵۰۳)

مسئلہ : ۔اعتکاف کرنے والا دن رات مسجد ہی میں رہے گا  وہیں کھائے پئے سوئے مگر یہ احتیاط رکھے کہ کھانے پینے سے مسجد گندی نہ ہونے پائے معتکف کے سوا کسی اور کو مسجد میں کھانے پینے اور سونے کی اجازت نہیں ہے اس لئے اگر کوئی آدمی مسجد میں کھانا پینا اور سونا چاہے تو اس کو چاہئے کہ اعتکاف مستحب کی نیت کر کے مسجد میں داخل ہو اور نماز پڑھے یا ذکر الہٰی کرے پھر اس کے لئے کھانے پینے اور سونے کی بھی اجازت ہے۔             (الدرالمختارمع ردالمحتار، کتاب الصیام، باب الاعتکاف، ج۳، ص۵۰۶)

مسئلہ : ۔اعتکاف کرنے والا بالکل ہی چپ نہ رہے نہ بہت زیادہ لوگوں سے بات چیت کرے بلکہ اس کو چاہئے کہ نفل نمازیں پڑھے‘ تلاوت کرے‘ علم دین کا درس دے‘ اولیاء و صالحین کے حالات سنے اور دوسروں کو سنائے‘ کثرت سے درود شریف پڑھے اور ذکر الہٰی کرے اور اکثر باوضو رہے اور دنیا داری کے خیالات سے دل کو پاک صاف رکھے اور بکثرت رو رو کر اور گڑ گڑا کر خدا سے دعائیں مانگے۔

حج کا بیان

        حج ۹ھ میں فرض ہوا نماز و زکوٰۃ اور روزہ کی طرح حج بھی اسلام کا ایک رکن ہے اس کا فرض ہونا قطعی اور یقینی ہے جو اس کی فرضیت کا انکار کرے وہ کافر ہے اور اس کی ادائیگی میں تاخیر کرنے والا گنہگار اور اس کا ترک کرنے والا فاسق اور عذاب جہنم کا سزاوار ہے۔ اﷲ  تَعَالٰی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ :

   وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِؕ       (پ۲، البقرۃ : ۱۹۶)

یعنی حج و عمرہ کو اﷲ  کے لئے پورا کرو۔

        احادیث میں حج و عمرہ کے فضائل اور اجر و ثواب کے بارے میں بڑی بڑی بشارتیں آئی ہیں مگر حج عمر میں صرف ایک بار ہی فرض ہے۔

حدیث : ۔ایک حدیث میں رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا کہ جس نے حج کیا اورحج کے درمیان رفث (فحش کلام) اور فسق نہ کیا تو وہ اس طرح گناہوں سے پاک صاف ہو کر لوٹا جیسے اس دن کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا ۔(صحیح البخاری، کتاب الحج، باب فضل الحج المبرور، رقم۱۵۲۱، ج۱، ص۵۱۲)

حدیث : ۔حج و عمرہ محتاجی اور گناہوں کو اس طرح دور کرتے ہیں جیسے بھٹی لوہے اور چاندی سونے کے میل کو دور کرتی ہے اور حج مبرور کا ثواب جنت ہی ہے ۔

(سنن الترمذی، کتاب الحج، باب ماجاء فی ثواب الحج والعمرۃ، رقم۸۱۰، ج۲، ص۲۱۸)

حج واجب ہونے کی شرطیں : ۔حج واجب ہونے کی آٹھ شرطیں ہیں جب تک یہ سب نہ پائی جائیں حج فرض نہیں ۔

 (۱)مسلمان ہونا کافر پر حج فرض نہیں (۲)دارالحرب میں ہو تو یہ بھی ضروری ہے کہ جانتا ہو کہ حج اسلام کے ارکان میں سے ہے(۳)بالغ ہونا یعنی نابالغ پر حج فرض نہیں (۴)عاقل ہونا لہٰذا مجنون پر حج فرض نہیں (۵)آزاد ہونا یعنی لونڈی غلام پر حج فرض نہیں (۶)تندرست ہونا کہ حج کو جاسکے اس کے اعضاء سلامت ہوں ‘ انکھیارا ہو لہٰذا اپاہج اور فالج والے اور جس کے پاؤں کٹے ہوں اور اس بوڑھے پر کہ سواری پر خود نہ بیٹھ سکتا ہو حج فرض نہیں یوں ہی اندھے پر بھی حج فرض نہیں اگرچہ پکڑ کر لے چلنے والا اسے ملے ان سب پر بھی یہ ضروری نہیں کہ کسی کو بھیج کر اپنی طرف سے حج کرادیں (۷) سفر خرچ کا مالک ہونا اور سواری کی قدرت ہونا چاہئے سواری کا مالک ہو یا اس کے  پاس اتنا مال ہو کہ سواری کرایہ پر لے سکے(۸)حج کا وقت یعنی حج کے مہینوں میں تمام شرائط پائے جائیں ۔

 (ردالمحتارمع الدرالمختار، کتاب الحج، مطلب فیمن حج بمال حرام، ج۳، ص۵۲۱)

 



Total Pages: 188

Go To