Book Name:Jannati Zevar

بدوش کھڑی ہو گئیں اور مردوں کی برابری کے درجہ پر پہنچ گئیں مردوں کی طرح عورتوں کے بھی حقوق مقرر ہوگئے اور ان کے حقوق کی حفاظت کیلئے خداوندی قانون آسمان سے نازل ہوگئے اوران کے حقوق دلانے کے لئے اسلامی قانون کی ماتحتی میں عدالتیں قائم ہوگئیں عورتوں کو مالکانہ حقوق حاصل ہوگئے چنانچہ عورتیں اپنے مہر کی رقموں ‘ اپنی تجارتوں ‘ اپنی جائدادوں کی مالک بنادی گئیں اور اپنے ماں  باپ‘بھائی بہن اولاد اور شوہر کی میراثوں کی وارث قرار دی گئیں ۔ غرض وہ عورتیں جو مردوں کی جوتیوں سے زیادہ ذلیل و خوار اور انتہائی مجبور و لاچار تھیں وہ مردوں کے دلوں کا سکون اور ان کے گھروں کی ملکہ بن گئیں چنانچہ قرآن مجید نے صاف صاف لفظوں میں اعلان فرمادیا کہ۔

خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةًؕ        (پ۲۱، روم : ۲۱)

’’اﷲ  نے تمہارے لئے تمہاری جنس سے بیویاں پیدا کر دیں تاکہ تمہیں ان سے تسکین حاصل ہو اور اس نے تمہارے درمیان محبت و شفقت پیدا کردی۔‘‘

        اب کوئی مرد بلا وجہ نہ عورتوں کو مار پیٹ سکتا ہے نہ ان کو گھروں سے نکال سکتا ہے اور نہ کوئی ان کے مال و اسباب یا جائدادوں کو چھین سکتا ہے بلکہ ہر مرد مذہبی طور پر عورتوں کے حقوق ادا کرنے پر مجبور ہے چنانچہ خداوند قدوس نے قرآن مجید میں فرمایا کہ۔

وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ۪      (پ۲، البقرہ : ۲۲۸)

’’عورتوں کے مردوں پر ایسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے عورتوں پر اچھے سلوک کے ساتھ۔‘‘

  اور مرد کے لئے فرمان جاری فرمادیا کہ

وَ  عَاشِرُوْهُنَّ  بِالْمَعْرُوْفِۚ (پ۴، النساء : ۱۹)

’’  اور اچھے سلوک سے عورتوں کے ساتھ زندگی بسر کرو۔‘‘                 

        تمام دنیا دیکھ لے کہ دین اسلام نے میاں بیوی کی اجتماعی زندگی کی صدارت اگرچہ مرد کو عطا فرمائی ہے اور مردوں کو عورتوں پر حاکم بنادیا ہے تاکہ نظام خانہ داری میں اگر کوئی بڑی مشکل آن پڑے تو مرد اپنی خداداد طاقت و صلاحیت سے اس مشکل کو حل کردے لیکن اس کے ساتھ ساتھ جہاں مردوں کے کچھ حقوق عورتوں پر واجب کر دیئے ہیں ۔ وہاں عورتوں کے بھی کچھ حقوق مردوں پر لازم ٹھہرا دیئے گئے ہیں ۔ اس لئے عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے حقوق میں جکڑے ہوئے ہیں تاکہ دونوں ایک دوسرے کے حقوق کو ادا کر کے اپنی اجتماعی زندگی کو شادمانی و مسرت کی جنت بنادیں ۔ اور نفاق و شقاق اور لڑائی جھگڑوں کے جہنم سے ہمیشہ کے لئے آزاد ہو جائیں ۔

        عورتوں کو درجات و مراتب کی اتنی بلند منزلوں پر پہنچا دینا یہ حضور نبی رحمت صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا وہ احسان عظیم ہے کہ تمام دنیا کی عورتیں اگر اپنی زندگی کی آخری سانس تک اس احسان کا شکریہ ادا کرتی رہیں پھر بھی وہ اس عظیم ا لشان احسان کی شکر گزاری کے فرض سے سبکدوش نہیں ہو سکتیں ۔ سبحان اﷲ !تمام دنیا کے محسن ا عظم حضور نبی اکرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان رحمت کا کیا کہنا؟   

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا

مرادیں غریبوں کی بر لانے والا

مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا

وہ   اپنے   پرائے  کا   غم  کھانے  والا

فقیروں کا ماویٰ ضعیفوں کا  ملجیٰ

یتیموں کا  والی  غلاموں  کا  مولیٰ

عورت کی زندگی کے چا ر د ور

        عورت کی زندگی کے راستہ میں یوں تو بہت سے موڑ آتے ہیں مگر اس کی زندگی کے چار دور خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔   

        (۱)عورت کا بچپن(۲)عورت بالغ ہونے کے بعد(۳) عورت بیوی بن جانے کے بعد(۴)عورت ماں بن جانے کے بعد

     اب ہم عورت کے ان چاروں زمانوں کا اور ان وقتوں میں عورت کے فرائض اور ان کے حقوق کا مختصر تذکرہ صاف صاف لفظوں میں تحریر کرتے ہیں ۔ تاکہ ہر عورت ان حقوق و فرائض کو ادا کرکے اپنی زندگی کو دنیا میں بھی خوشحال بنائے اور آخرت میں بھی جنت کی لازوال نعمتوں اوردولتوں سے سر فراز ہو کر مالا مال ہو جائے۔

(۱) عورت کا بچپن

        عورت بچپن میں اپنے ماں باپ کی پیاری بیٹی کہلاتی ہے اس زمانے میں جب تک وہ نا بالغ بچی رہتی ہے شریعت کی طرف سے نہ اس پر کوئی چیز فرض ہوتی ہے نہ اس پر کسی قسم کی ذمہ داریوں کا کوئی بوجھ ہوتا ہے وہ شریعت کی پابندیوں سے بالکل آزاد رہتی ہے اور اپنے ماں باپ کی پیاری اور لاڈلی بیٹی بنی ہوئی کھاتی پیتی‘ پہنتی اوڑھتی اور ہنستی کھیلتی رہتی ہے اور وہ اس بات کی حقدار ہوتی ہے کہ ماں باپ‘  بھائی بہن اور سب رشتہ ناتا والے اس سے پیارو محبت کرتے رہیں اور اس کی دل بستگی اور دل جوئی میں لگے رہیں اور اس کی صحت و صفائی اور اس کی عافیت اور بھلائی میں ہر قسم کی انتہائی کوشش کرتے رہیں تاکہ وہ ہر قسم کی فکروں اور رنجوں سے فارغ البال اور ہر وقت خوش و خرم اورخوشحال رہے جب وہ کچھ بولنے لگے تو ماں باپ پر لازم ہے کہ اس کو اﷲ  و رسول صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا نام سنائیں پھر اس کو کلمہ وغیرہ پڑھائیں جب وہ کچھ اور زیادہ سمجھدار ہو جائے تو اس کو صفائی ستھرائی کے ڈھنگ اور سلیقے سکھائیں اس کو نہایت پیار ومحبت اور نرمی کے ساتھ انسانی شرافتوں کی باتیں بتائیں اور اچھی اچھی باتوں کا شوق اور بری باتوں سے نفرت دلائیں جب پڑھنے کے قابل ہو جائے تو سب سے پہلے اس کو قرآن شریف پڑھائیں ۔ جب کچھ اور زیادہ ہوشیار ہوجائے تو اس کو



Total Pages: 188

Go To