Book Name:Jannati Zevar

صلوۃ التسبیح

        اس نماز کا بے انتہا ثواب ہے حدیث شریف میں ہے حضور اقدس صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنے چچا حضرت عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا کہ اے میرے چچا اگر ہو سکے تو صلوۃ التسبیح ہر روز ایک بار پڑھو اور اگر روزانہ نہ ہو سکے تو ہر جمعہ کو ایک بار پڑھو اور یہ بھی نہ ہوسکے تو ہر مہینہ میں ایک بار اور یہ بھی نہ ہو سکے تو سال میں ایک بار اور یہ بھی نہ ہوسکے تو عمر میں ایک بار۔ اس نماز کی ترکیب یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ کے بعد ثنا پڑھے پھر پندرہ مرتبہ یہ تسبیح پڑھے سُبْحَانَ اﷲ  وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰـہُ وَاللّٰـہُ اَکْبَرْ پھر اَعُوْذُ بِاﷲ  اور بِسْمِ اﷲ اور سورئہ فاتحہ اور کوئی سورہ پڑھ کر رکوع سے پہلے دس بار اوپر والی تسبیح پڑھے پھر رکوع کرے اور رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمتین مرتبہ پڑھ کر پھر دس مرتبہ اوپر والی تسبیح پڑھے پھر رکوع سے سر اٹھائے اور سَمِعَ اللّٰـہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ اور رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ پڑھ کر پھر کھڑے کھڑے دس مرتبہ اوپر والی تسبیح پڑھے پھر سجدہ میں جائے اور تین مرتبہ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی پڑھ کر پھر دس مرتبہ اوپر والی تسبیح پڑھے پھر سجدہ میں سے سر اٹھائے اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھ کر دس مرتبہ اوپر والی تسبیح پڑھے پھر دوسرے سجدہ میں جائے اورسُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی تین مرتبہ پڑھے پھر اس کے بعد اوپر والی تسبیح دس مرتبہ پڑھے اسی طرح چار  رکعت پڑھے اور خیا ل رہے کہ کھڑے ہونے کی حالت میں سورئہ فاتحہ سے پہلے پندرہ مرتبہ اوپر والی تسبیح پڑھے باقی سب جگہ دس دس بار اوپر والی تسبیح پڑھے ہر رکعت میں پچھتّر مرتبہ تسبیح پڑھی جائے گی اور چار رکعتوں میں تسبیح کی گنتی تین سو مرتبہ ہوگی اپنے خیال سے گنتا رہے یا انگلیوں کے اشاروں سے تسبیح کا شمار کرتا رہے۔  (جامع الترمذی، کتاب الوتر، باب ماجاء فی صلاۃ التسبیح، رقم۴۸۱۔۴۸۲، ج۲، ص۲۴، ۲۵)

نماز حاجت

        حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُراوی ہیں کہ جب حضور اقدس صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو کوئی اہم معاملہ پیش آتا تو آپ اس کے لئے دو یا چار رکعت نماز پڑھتے۔             

        (سنن ابی داود، کتاب التطوع، باب وقت قیام النبی۔۔۔الخ، رقم۱۳۱۹، ج۲، ص۵۲)

        حدیث شریف میں ہے کہ پہلی رکعت میں سورئہ فاتحہ اور تین بار آیۃ الکرسی پڑھے باقی تین رکعتوں میں سورئہ فاتحہ اور قل ھو اﷲ ، قل اعوذ برب الفلق ، قل اعوذ برب الناس ایک ایک بار پڑھے تو یہ ایسی ہیں جیسے شب قدر میں چار رکعتیں پڑھیں ۔ مشائخ فرماتے ہیں کہ ہم نے یہ نماز پڑھی اور ہماری حاجتیں پوری ہوئیں اور ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ جب کوئی حاجت پیش آجائے تو اچھا وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھے پھر تین مرتبہ اس آیت کو پڑھے ۔  

        ھُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ھُوَ ج عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ  پھر تین بار سُبْحَانَ اﷲ  وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰـہُ وَاللّٰـہُ اَکْبَرُ ط وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باﷲ  پڑھے پھر تین بار کوئی درود شریف پڑھے پھر یہ دعا پڑھے

        لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ ط سُبْحَانَ اﷲ  رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ ط اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ اَسْئَلُکَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِکَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِکَ وَالْغَنِیْمَۃَ مِنْ کُلِّ بِرٍّ وَّالسَّلَامَۃَ مِنْ کُلِّ اِثْمٍ لَّا تَدَعْ لِـیْ ذَنْبًا اِلَّا غَفَرْتَہٗ وَلَا ھَمًّا اِلَّا فَرَّجْتَہٗ وَلَا حَاجَۃً ھِیَ لَکَ رِضًا اِلَّا قَضَیْتَھَا یَا اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْنَ ۔ (جامع الترمذی، کتاب الوتر، باب صلاۃ الحاجۃ، رقم۴۷۸، ج۲، ص۲۱)

اِنْ شَآءَ اﷲ   تَعَالٰی اس کی حاجت پوری ہوگی اسی طرح حضرت عثمان بن حنیف رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں کہ ایک صاحب جو نابینا تھے بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ یا رسول اﷲ   صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! آپ دعا کیجیے کہ اﷲ  تَعَالٰی مجھے عافیت دے آپ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا کہ اگر تم چاہو تو صبر کرو اور یہ تمہارے حق میں بہتر ہے انہوں نے عرض کی کہ حضور دعا کردیں تو آپ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کو یہ حکم دیا کہ تم خوب اچھی طرح وضو کرو اور دو رکعت نماز پڑھ کر یہ دعا پڑھو

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ وَاَتَوَجَّہُ اِلَیْکَ بِنَبِیـِّکَ مُحَمَّدٍ نَّبِیِّ الرَّحْمَۃِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ تَوَجَّھْتُ بِکَ اِلٰی رَبِّیْ فِیْ حَاجَتِیْ ھَذِہٖ لِیُقْضٰی لِیْٓ اَللّٰھُمَّ فَشَفِّعْہُ فِیَّ

         حضرت عثمان بن حنیف رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکا بیان ہے کہ خدا کی قسم ہم اٹھنے بھی نہ پائے تھے ابھی باتیں ہی کر رہے تھے کہ وہ نابینا ہمارے پاس انکھیارے ہو کر اس شان سے آئے کہ گویاکبھی اندھے تھے ہی نہیں ۔ (جامع الترمذی، کتاب احادیث شتی ، باب ۱۲۷، رقم۳۵۸۹، ج۵، ص۳۳۶۔المعجم الکبیر للطبرانی، ج۹، رقم۸۳۱۱، ص۳۰)   

 ’’صلوۃ الاسرار‘‘

        دعاؤں کی مقبولیت اور حاجتوں کے پوری ہونے کے لئے ایک مجرب نماز صلوۃ الاسرار بھی ہے جس کو امام ابوالحسن نور الدین علی بن جریر لحمی شطنوفی نے بہجۃ الاسرار میں اور ملا علی قاری و شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہم الرحمۃ نے حضرت غوث اعظم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے اس کی ترکیب یہ ہے کہ بعد نماز مغرب سنتیں پڑھ کر دو رکعت نماز نفل پڑھے اور بہتر یہ ہے کہ الحمد کے بعد ہر رکعت میں گیارہ گیارہ مرتبہ قل ھو اﷲ  پڑھے اور گیارہ مرتبہ یہ پڑھے یَا رَسُوْلَ اﷲ  یَانَبِیَّ اﷲ اَغِثْنِیْ وَامْدُدْنِیْ فِیْ قَضَائِ حَاجَتِیْ یَا قَاضِیَ الْحَاجَاتِ پھر عراق کی جانب گیارہ قدم چلے اور ہر قدم پر یہ پڑھے یَاغَوْثَ الثَّقَلَیْنِ یَا کَرِیْمَ الطَّرَفَیْنِ اَغِثْنِیْ وَامْدُدْنِیْ فِیْ قَضَائِ حَاجَتِیْ یَا قَاضِیَ الْحَاجَاتِ ط پھر حضور اقدس صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو وسیلہ بنا کر اﷲ  تَعَالٰی سے اپنی حاجت کے لئے دعا مانگے۔     (بہجۃ الاسرار، ذکر فضل اصحابہ وبشراہم، ص۱۹۷۔بہارشریعت ، ج۱، حصہ۴، ص۳۱)

نماز استخارہ

        حدیثوں میں آیا ہے کہ جب کوئی شخص کسی کام کا ارادہ کرے تو دو رکعت نماز نفل پڑھے جس کی پہلی رکعت میں الحمد کے بعد قُلْ یٰٓـاَ یُّھَا الْکَافِرُوْنَ اور دوسری رکعت میں الحمد کے بعد قُلْ ھُوَاللّٰہُ پڑھے پھر یہ دعا پڑھ کر باوضو قبلہ کی طرف منہ کرکے سورہے دعا کے اول و آخر سورئہ فاتحہ اور درود شریف بھی پڑھے دعا یہ ہے۔

        اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْتَخِیْرُُکَ بِعِلْمِکَ وَاَسْتَقْدِ رُکَ بِقُدْرَتِکَ وَاَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ ط اَللّٰھُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ خَیْرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعِیْشَتِیْ وَ عَاقِبَۃِ اَمْرِیْ وَ عَاجِلِ اَمْرِیْ وَ اٰجِلِہٖ فَاقْدُرْہُ لِیْ وَیَسِّرْہُ لِیْ ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْہِ وَاِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ شَرٌّ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعِیْشَتِیْ وَعَاقِبَۃِ اَمْرِیْ وَعَاجِلِ اَمْرِیْ وَآ جِلِہٖ فَاصْرِفْہُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْہُ وَاقْدُرْلِی الْخَیْرَحَیْثُ کَانَ ثُمَّ اَرْضِنِیْ بہٖ دونوں جگہ الامر کی جگہ اپنی ضرورت کا نام لے جیسے پہلی جگہ ھٰذَا السَّفَرَخَیْرٌ لِّیْ اور دوسری جگہ میں ھٰذَا السَّفَرَشَرٌّلِّیْ۔

 



Total Pages: 188

Go To