Book Name:Jannati Zevar

مسئلہ : ۔اگر لاٹھی یا دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوسکتا ہے۔ تو اس پر فرض ہے کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے۔ اس صورت میں اگر بیٹھ کر نماز پڑھے گا تو نماز نہیں ہوگی۔

           (الدرالمختار وردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المریض، ج۲، ص۶۸۳)

مسئلہ : ۔اگر کچھ دیر کے لئے بھی کھڑا ہو سکتا ہے اگرچہ اتنا ہی کھڑا ہو کہ کھڑا ہو کر اﷲ اکبرکہہ لے تو ضروری ہے کہ کھڑا ہو کر اﷲ اکبر کہے پھر بیٹھے ورنہ نماز نہ ہوگی۔

 (الدرالمختار ، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المریض، ج۲، ص۶۸۳)

مسئلہ : ۔اگر رکوع و سجود نہ کر سکتا ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھے اور رکوع وسجود اشارہ سے کرے مگر رکوع کے اشارہ میں سجدہ کے اشارہ سے سر کو زیادہ نہ جھکائے۔

(الدرالمختار ، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المریض، ج۲، ص۶۸۴۔۶۸۵)

مسئلہ : ۔اگر بیٹھ کر بھی نماز نہ پڑھ سکتا ہو تو ایسی صورت میں لیٹ کر نماز پڑھے اس طرح کہ چت لیٹ کر قبلہ کی طرف پاؤں کرے۔ مگر پاؤں نہ پھیلائے بلکہ گھٹنے کھڑے رکھے اور سر کے نیچے تکیہ رکھ کر ذرا سا سر کو اونچا کرے اور رکوع و سجود سر کے اشارہ سے کرے۔ (الدرالمختار ، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المریض، ج۲، ص۶۸۶۔۶۸۷)

مسئلہ : ۔اگر مریض سر سے اشارہ بھی نہ کر سکے تو نماز ساقط ہو جاتی ہے پھر اگر نماز کے چھ وقت اسی حالت میں گزر گئے تو قضا بھی ساقط ہو جاتی ہے۔

          (الدرالمختار ، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المریض، ج۲، ص۶۸۷)

مسافر کی نماز کا بیان

        جو شخص تقریباً ۹۲ کلومیٹر کی دوری کا سفر کا ارادہ کرکے گھر سے نکلا اور اپنی بستی سے باہر چلا گیا۔ تو شریعت میں یہ شخص مسافر ہوگیا۔ اب اس پر واجب ہوگیا کہ قصر کرے یعنی ظہر‘ عصر اور عشاء چار رکعت والی فرض نمازوں کو دو ہی رکعت پڑھے۔ کیونکہ اس کے حق میں دو ہی رکعت پوری نماز ہے۔ (الدرالمختار ، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۲۲، ۷۲۶)

مسئلہ : ۔اگر مسافر نے قصداً چار رکعت پڑھی اور دوپر قعدہ کیا تو فرض ادا ہو گیا اور آخری دو رکعتیں نفل ہوگئیں مگر گنہگار ہوا اگر دو رکعت پر قعدہ نہیں کیا تو فرض ادا نہ ہوا۔    

(الدرالمختار ، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۳۳۔۷۳۴)

مسئلہ : ۔مسافر جب تک کسی جگہ پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت نہ کرے یا اپنی بستی میں نہ پہنچ جائے قصر کرتا رہے گا۔

مسئلہ : ۔مسافر اگر مقیم امام کے پیچھے نماز پڑھے تو چار رکعت پوری پڑھے قصر نہ کرے۔ (الدرالمختار ، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۳۶)

مسئلہ : ۔مقیم اگر مسافر امام کے پیچھے نماز پڑھے تو امام مسافر ہونے کی وجہ سے دو ہی رکعت پر سلام پھیر دے گا اب مقیم مقتدیوں کو چاہئے کہ امام کے سلام پھیر دینے کے بعد اپنی باقی دو رکعتیں پڑھیں اور ان دونوں رکعتوں میں قرأت نہ کریں بلکہ سورئہ فاتحہ پڑھنے کی مقدار تک چپ چاپ کھڑے رہیں ۔      (الدرالمختار ، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۳۵)

مسئلہ : ۔فجر و مغرب اور وتر میں قصر نہیں ۔

مسئلہ : ۔سنتوں میں قصر نہیں ہے اگر موقع ہو تو پوری پڑھیں ورنہ معاف ہیں ۔ (ردالمحتارودرالمختار ، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۳۷)

مسئلہ : ۔مسافر اپنی بستی سے باہر نکلتے ہی قصر شروع کردے گا اور جب تک اپنی بستی میں داخل نہ ہو جائے یا کسی بستی میں پندرہ دن یا اس سے زیادہ دن ٹھہرنے کی نیت نہ کرے برابر قصر ہی کرتا رہے گا۔ (الدرالمختار ، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج۲، ص۷۲۶۔۷۲۸)   

سجد ۂ تلاوت کا بیان

        قرآن مجید میں چودہ آیتیں ایسی ہیں کہ جن کے پڑھنے یا سننے سے پڑھنے والے اور سننے والے دونوں پر سجدہ کرنا واجب ہو جاتا ہے اس کو سجدئہ تلاوت کہتے ہیں ۔          

(الدرالمختار ، کتاب الصلاۃ، باب سجودالتلاوۃ ، ج۲، ص۶۹۴، ۶۹۵)

مسئلہ : ۔سجدئہ تلاوت کا طریقہ یہ ہے کہ قبلہ رخ کھڑے ہو کر اﷲ اکبر کہتا ہوا سجدہ میں جائے اور کم سے کم تین بار سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہے پھر اﷲ اَکْبَرْ کہتا ہوا کھڑا ہو جائے بس‘ نہ اس میں اﷲ اَکْبَرْ کہتے ہوئے ہاتھ اٹھانا ہے نہ اس میں تشہد ہے نہ سلام۔ (الدرالمختار ، کتاب الصلاۃ، باب سجودالتلاوۃ ، ج۲، ص۶۹۹، ۷۰۰)

مسئلہ : ۔اگر آیت سجدہ نماز کے باہر پڑھی ہے تو فوراً ہی سجدہ کر لینا واجب نہیں ہے ہاں بہتر یہی ہے کہ فوراً ہی کر لے اور وضو ہو تو دیر کرنی مکروہ تنزیہی ہے۔

 (الدرالمختار ، کتاب الصلاۃ،