Book Name:Jannati Zevar

(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوۃ، الباب الاول، الفصل الاول فی اوقات الصلوٰۃ، ج۱، ص۵۱۔۵۳)

مکروہ وقتوں کا بیان

مسئلہ : ۔سورج نکلتے وقت‘ سورج ڈوبتے وقت اور ٹھیک دوپہر کے وقت کوئی نماز پڑھنی جائز نہیں ۔ لیکن اس دن کی عصر اگر نہیں پڑھی ہے تو سورج ڈوبنے کے وقت پڑھ لے۔ مگر عصر میں اتنی دیر کر کے نماز پڑھنی سخت گناہ ہے۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوۃ، الباب الاول، الفصل الثالث فی بیان الاوقات لاتجوز فیھا الصلاۃ وتکرہ فیھا، ج۱، ص۵۲)

مسئلہ : ۔ان تینوں وقتوں میں قرآن مجید کی تلاوت بہتر نہیں ہے۔ اچھا یہ ہے کہ ان تینوں وقتوں میں کلمہ‘ یا تسبیح یا درود شریف وغیرہ پڑھنے میں مشغول رہے۔

 (الدرالمختار مع ردالمحتار، کتاب الصلٰوۃ، مطلب بشرط العلم بدخول الوقت، ج۲، ص۴۴)

مسئلہ : ۔اگر ان تینوں وقتوں میں جنازہ لایا گیا تو اسی وقت پڑھیں کوئی کراہت نہیں ۔ کراہت اس صورت میں ہے کہ جنازہ ان وقتوں سے پہلے لایاگیا مگر نماز جنازہ پڑھنے میں اتنی دیر کر دی کہ مکروہ وقت آگیا۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوۃ، الباب الاول، الفصل الثالث فی بیان الاوقات لاتجوز فیھا الصلاۃ وتکرہ فیھا، ج۱، ص۵۲)

مسئلہ : ۔جب سورج کا کنارا ظاہر ہو اس وقت سے لے کر تقریباً بیس منٹ تک کوئی نماز جائز نہیں ۔ سورج نکلنے کے بیس منٹ بعد جب سورج ایک لاٹھی کے برابر اونچا ہو جائے اس کے بعد ہر نماز چاہے نفل ہو یا قضا یا کوئی دوسری پڑھنی چاہئے۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوۃ، الباب الاول، الفصل الثالث فی بیان الاوقات التی لاتجوز فیھا الصلاۃ وتکرہ فیھا، ج۱، ص۵۲)

مسئلہ : ۔جب سورج ڈوبنے سے پہلے پیلا پڑ جائے تو اس وقت سے سورج ڈوبنے تک کوئی نماز جائز نہیں ۔ ہاں اگر اس دن کی عصر ابھی تک نہیں پڑھی تو اس کو پڑھ لے۔ نماز عصر ادا ہو جائے گی اگرچہ مکروہ ہوگی۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوۃ، الباب الاول، الفصل الثالث فی بیان الاوقات التی لاتجوز فیھا الصلاۃ وتکرہ فیھا، ج۱، ص۵۲)

مسئلہ : ۔ٹھیک دوپہر میں کوئی نماز جائز نہیں ۔   (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوۃ، الباب الاول، الفصل الثالث، ج۱، ص۵۲)

مسئلہ : ۔بارہ وقتوں میں نفل اور سنت نمازیں پڑھنے کی مما نعت ہے وہ بارہ وقت یہ ہیں ۔

(۱)صبح صادق سے سورج نکلنے تک فجر کی دو رکعت سنت اور دو رکعت فرض کے سوا دوسری کوئی نماز پڑھنی منع ہے۔(بہار شریعت، ج۱، ح۳، ص۲۲، والفتاوی الھندیۃ ، کتاب الصلاۃ، الباب الاول، الفصل الثالث، ج۱، ص۵۲)  

(۲)اقامت شروع ہونے سے جماعت ختم ہونے تک کوئی سنت و نفل پڑھنی مکروہ تحریمی ہے۔ ہاں البتہ اگر نماز فجر کی اقامت ہونے لگی اور اس کو معلوم ہے کہ سنت پڑھے گا۔ جب بھی جماعت مل جائے گی۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب الاول، الفصل الثالث، ج۱، ص۵۳)

 اگر چہ قعدہ ہی سہی تو اس کو چاہئے کہ صفوں سے کچھ دور ہٹ کر فجر کی سنت پڑھ لے۔ اور پھر جماعت میں شامل ہو جائے اور اگر وہ یہ جانتا ہے کہ سنت پڑھے گا تو جماعت نہیں ملے گی تو اس کو سنت پڑھنے کی اجازت نہیں بلکہ اس کو چاہیئے کہ بغیر سنت پڑھے جماعت میں شامل ہوجائے۔ فجر کی نماز کے علاوہ دوسری نمازوں میں اقامت ہوجانے کے بعد اگرچہ یہ جان لے کہ سنت پڑھنے کے بعد بھی جماعت مل جائے گی پھر بھی سنت پڑھنے کی اجازت نہیں بلکہ سنت پڑھے بغیر فوراً ہی جماعت میں شامل ہو جانا ضروری ہے۔ (بہارشریعت، ج۱، ح۴، ص۱۳)

(۳)نماز عصر پڑھ لینے کے بعد سورج ڈوبنے تک کو ئی نفل نماز پڑھنی مکروہ ہے۔ قضا نمازیں سورج ڈوبنے سے بیس منٹ پہلے تک پڑھ سکتا ہے۔  

(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب الاول، الفصل الثالث، ج۱، ص۵۳)

(۴)سورج ڈوبنے کے بعد اور مغرب کے فرض پڑھنے سے پہلے کوئی نفل جائز نہیں ۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب الاول، الفصل الثالث، ج۱، ص۵۳)

(۵)جس وقت امام اپنی جگہ سے جمعہ کے خطبہ کے لئے کھڑا ہوا اس وقت سے لے کر نماز جمعہ ختم ہونے تک کوئی نماز سنت و نفل وغیرہ جائز نہیں ۔

 (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب الاول، الفصل الثالث، ج۱، ص۵۳)

(۶)عین خطبہ کے درمیان کوئی نماز سنت و نفل وغیرہ جائز نہیں ۔ چاہے جمعہ کا خطبہ ہو یا عیدین کا یا گرہن کی نماز کا یا نماز استسقاء کا یا نکاح کا۔ لیکن ہاں صاحب ترتیب کے لئے جمعہ کے خطبہ کے دوران بھی قضا نماز پڑھ لینا لازم ہے۔

(۷)عید کی نماز سے پہلے نفل نماز مکروہ ہے چاہے گھر میں پڑھے‘ یا مسجد میں یا عیدگاہ میں ۔

(۸)عیدین کی نماز کے بعد بھی عید گاہ یا مسجد میں نماز نفل پڑھنی مکروہ ہے۔ ہاں اگر گھر میں نفل پڑھے تو یہ مکروہ نہیں ۔

(۹)میدان عرفات میں ظہر و عصر ایک ساتھ پڑھتے ہیں ان دونوں نمازوں کے درمیان میں اور بعد میں نفل و سنت مکروہ ہے۔

(۱۰)مزدلفہ میں جو مغرب و عشاء ایک ساتھ پڑھتے ہیں ان دونوں نمازوں کے بیچ میں نفل و سنت پڑھنی مکروہ ہے۔            

Total Pages: 188

Go To