Book Name:Jannati Zevar

بہائے اور عورت پر صرف بال کی جڑوں کو تر کر لینا ضروری ہے گندھے ہوئے بالوں کو کھولنا ضروری نہیں ۔ ہاں اگر چوٹی اتنی سخت گندھی ہوئی ہو کہ بے کھولے جڑیں تر نہ ہوں گی تو چوٹی کو کھولنا ضروری ہے۔ (درمختاروردالمحتار، کتاب الطہارۃ، مطلب فی ابحاث الغسل، ج۱، ص۳۱۵۔۳۱۶)

مسئلہ : ۔غسل میں کانوں کی بالیوں اور ناک کی کیل کے سوراخوں میں بالیوں اور کیل کو پھرا کر پانی پہنچانا ضروری ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج۱، ص۴۴۸)

کن کن چیزوں سے غسل فرض ہو جاتا ہے : ۔جن چیزوں سے غسل فرض ہو جاتا ہے وہ پانچ ہیں ۔ (۱)منی کا اپنی جگہ سے شہوت کے ساتھ جدا ہو کر نکلنا(۲)احتلام یعنی سوتے میں منی نکل جانا (۳)ذکر کے سر کا عورت کے آگے یا پیچھے یا مرد کے پیچھے داخل ہونادونوں پر غسل فرض کر دیتا ہے(۴)حیض کا ختم ہو جانا (۵)نفاس سے فارغ ہونا۔

(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الطہارۃ، الباب الثانی فی الغسل، الفصل الثالث فی المعانی الموجبۃ للغسل وھی ثلاثۃ، ج۱، ص۱۴۔۱۶)

مسئلہ : ۔جمعہ‘ عید‘ بقر عید‘ عرفہ کے دن اور احرام باندھتے وقت غسل کرلینا سنت ہے۔ (الفتاوی الھندیۃکتاب الطہارۃ، الباب الثانی فی الغسل، الفصل الثالث فی المعانی الموجبۃ للغسل، ج۱، ص۱۶)

مسئلہ : ۔میدان عرفات اور مزدلفہ میں ٹھہرنے حرم کعبہ اور روضہ منورہ کی حاضری‘ طواف کعبہ۔ منیٰ میں داخل ہونے‘ جمروں کو کنکریاں مارنے کے لئے غسل کرلینا مستحب ہے۔ اسی طرح شب قدر‘ شب برات‘ عرفہ کی رات میں ‘ مردہ نہلانے کے بعد‘ جنون اور غشی سے ہوش میں آنے کے بعد‘ گناہ سے توبہ کرنے کے لئے‘ نماز استسقاء کے لئے‘ گرہن کے وقت نماز کے لئے‘ خوف‘ تاریکی‘ آندھی کے وقت ان سب صورتوں میں غسل کرلینا مستحب ہے۔   (درمختاروردالمحتار، کتاب الطہارۃ، مطلب یوم عرفۃ افضل من یوم الجمعۃ، ج۱، ص۳۴۱۔۳۴۲)

مسئلہ : ۔جس پر غسل فرض ہو اس کو بغیر نہائے (۱)مسجد میں جانا(۲)طواف کرنا (۳)قرآن مجید کا چھونا (۴)قرآن شریف کا پڑھنا (۵) کسی آیت کو لکھنا حرام ہے اور فقہ و حدیث اور دوسرے دینی کتابوں کا چھونا مکروہ ہے مگر آیت کی جگہوں پر ان کتابوں میں بھی ہاتھ لگانا حرام ہے۔    (درمختاروردالمحتار، کتاب الطہارۃ، مطلب یطلق الدعاء علی مایشمل الثناء ، ج۱، ص۳۴۶۔۳۵۶)

مسئلہ : ۔درود شریف اور دعاؤں کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں مگر بہتر ہے کہ وضو یا کلی کرلے۔ (بہارشریعت، ج۱، ح۲، ص۴۳)

مسئلہ : ۔غسل خانہ کے اندر اگرچہ چھت نہ ہوننگے بدن نہانے میں کو ئی حرج نہیں ہاں عورتوں کو بہت احتیاط کی ضرورت ہے مگر ننگے نہائے تو قبلہ کی طرف منہ نہ کرے اور اگر تہبند باندھے ہوئے ہو تو نہاتے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ (مراقی الفلاح، کتاب الطہارۃ، فصل آداب الغسل، ص۲۵)   

مسئلہ : ۔عورتوں کو بیٹھ کر نہانا بہتر ہے۔ مرد کھڑے ہو کر نہائے یا بیٹھ کر دونو ں میں کوئی حرج نہیں ۔ (بہار شریعت، ج۱، ح۲، ص۳۷)

مسئلہ : ۔غسل کے بعد فوراً کپڑے پہن لے۔ دیر تک ننگے بدن نہ رہے۔ (بہارشریعت، ج۱، ح۲، ص۳۷)

مسئلہ : ۔جس طرح مردوں کو مردوں کے سامنے ستر کھول کر نہانا حرام ہے اسی طرح عورتوں کو بھی عورتوں کے سامنے ستر کھول کر نہانا جائز نہیں کیونکہ دوسروں کے سامنے     بلا ضرورت ستر کھولنا حرام ہے۔ (ردالمحتار، کتاب الطہارۃ، مطلب فی ابحاث الغسل، ج۱، ص۳۱۸/بہارشریعت، ج۱، ح۲، ص۳۸)

مسئلہ : ۔جس پر غسل واجب ہے اسے چاہئے کہ نہانے میں تاخیر نہ کرے بلکہ جلد سے جلد غسل کرے کیونکہ حدیث شریف میں ہے جس گھر میں جنب یعنی ایسا آدمی ہو جس پر غسل فرض ہے اس گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے اور اگر غسل کرنے میں اتنی دیر کر چکا کہ نماز کا آخر وقت آگیا تو اب فوراً نہانا فرض ہے۔ اب تاخیر کرے گا تو گناہگار ہوگا۔ (بہارشریعت، ج۱، ح۲، ص۴۲)

مسئلہ : ۔جس شخص پر غسل فرض ہے اگر وہ کھانا کھانا چاہتا ہے یا عورت سے جماع کرنا چاہتا ہے تو اس کو چاہئے کہ وضو کرلے یا کم سے کم ہاتھ منہ دھولے اور کلی کرے اور اگر ویسے ہی کھا پی لیا تو گناہ نہیں مگر مکروہ ہے اور محتاجی لاتا ہے اور بے نہائے یا بے وضو کئے جماع کر لیا تو بھی کچھ گناہ نہیں مگر جس شخص کو احتلام ہوا ہو اس کو بے نہائے عورت کے پاس نہیں جانا چاہئے۔

(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الطہارۃ، الباب الثانی فی الغسل، الفصل الثالث فی المعانی الموجبۃ۔۔۔الخ، ج۱، ص۱۶)

تیمم کا بیان

        اگر کسی وجہ سے پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہو تو وضو اور غسل دونوں کے لئے تیمم کر لینا جائز ہے۔ مثلاً ایسی جگہ ہو کہ وہاں چاروں طرف ایک میل تک پانی کا پتا نہ ہو۔ یا پانی تو قریب ہی میں ہو مگر دشمن یا درندہ جانور کے خوف یا کسی دوسری وجہ سے پانی نہ لے سکتا ہو۔ پانی کے استعمال سے بیماری بڑھ جانے کا اندیشہ اور گمان غالب ہو۔ تو ان صورتوں میں بجائے وضو اور غسل کے تیمم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے۔    (