Book Name:Jannati Zevar

ص۸)

مباح : ۔وہ ہے جس کا کرنا اور چھوڑ دینا دونوں برابر ہو۔ جس کے کرنے میں نہ کوئی ثواب ہو اور چھوڑدینے میں نہ کوئی عذاب ہو۔ جیسے لذیذ غذاؤں کا کھانا اور نفیس کپڑوں کا پہننا وغیرہ۔  

(بہار شریعت، ج۱، ح ۲، ص۹)

حرام : ۔وہ ہے جس کا ثبوت یقینی شرعی دلیل سے ہو۔ اس کا چھوڑنا ضروری اور باعث ثواب ہے اور اس کا ایک مرتبہ بھی قصداً کرنے والا فاسق و جہنمی اور گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے اور اس کا انکار کرنے والا کافر ہے۔(بہار شریعت، ج۱، ح ۲، ص۹)

        خوب سمجھ لو کہ حرام فرض کا مقابل ہے یعنی فرض کا کرنا ضروری ہے اور حرام کا چھوڑ دینا ضروری ہے۔

مکروہ تحریمی : ۔وہ ہے جو شریعت کی ظنی دلیل سے ثابت ہو۔ اس کا چھوڑنا لازم اور باعث ثواب ہے اور اس کا ایک مرتبہ بھی قصداً کرنے والا فاسق و جہنمی اور گناہ کبیرہ حرام کے کرنے سے کم ہے۔ مگر چند بار اس کو کر لینا گناہ کبیرہ ہے۔    (بہار شریعت، ج۱، ح ۲، ص۹)

        اچھی طرح ذہن نشین کر لو کہ یہ واجب کا مقابل ہے یعنی واجب کو کرنا لازم ہے اور مکروہ تحریمی کو چھوڑنا لازم ہے۔   

اسا ء ت : ۔وہ ہے جس کا کرنا برا اور کبھی اتفاقیہ کر لینے والا لائق عتاب اور اس کو کرنے کی عادت بنا لینے والامستحق عذاب ہے۔ (بہار شریعت، ج۱، ح ۲، ص۹)

        واضح رہے کہ یہ سنت موکدہ کا مقابل ہے یعنی سنت موکدہ کو کرنا ثواب اور چھوڑنا برا ہے اور اساء ت کو چھوڑنا ثواب اور کرنا برا ہے۔

مکروہ تنزیہی : ۔وہ ہے جس کا کرنا شریعت کو پسند نہیں مگر اس کے کرنے والے پر عذاب نہیں ہوگا۔ یہ سنت غیر موکدہ کا مقابل ہے۔ (بہار شریعت، ج۱، ح ۲، ص۹)

خلاف اولیٰ : ۔وہ ہے کہ اس کو چھوڑ دینا بہتر تھا لیکن اگر کر لیا تو کوئی مضائقہ نہیں ۔ یہ مستحب کا مقابل ہے۔ (بہار شریعت، ج۱، ح ۲، ص۹)

نماز

        ہر مسلمان مرد اور عورت کو یہ جان لینا چاہیے کہ ایمان اور عقیدوں کو صحیح کر لینے کے بعد سب فرضوں میں سب سے بڑا فرض نماز ہے۔ کیونکہ قرآن مجید اور احادیث میں بہت زیادہ بار بار اس کی تاکید آئی ہے۔ یاد رکھو کہ جو نماز کو فرض نہ مانے یا نماز کی توہین کرے یا نماز کو ایک ہلکی اور بے قدر چیز سمجھ کر اس کی طرف بے توجہی برتے وہ کافر اور اسلام سے خارج ہے اور جو شخص نماز نہ پڑھے وہ بہت بڑا گناہ گار‘ قہرقہار اور غضب جبار میں گرفتار اور عذاب جہنم کا حقدار ہے اور وہ اس لائق ہے کہ بادشاہ اسلام پہلے اس کو تنبیہ و سزا دے۔ پھر بھی وہ نماز نہ پڑھے تو اس کو قید کردے۔ یہاں تک کہ توبہ کرے اور نماز پڑھنے لگے بلکہ امام مالک و شافعی و احمد رحمۃ اﷲ تعالی علیہم کے نزدیک بادشاہ اسلام کو اس کے قتل کا حکم ہے۔ (درمختار، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۸)   

        شریعت کا یہ مسئلہ ہے کہ بچہ جب سات برس کا ہو جائے تو اس کو نماز سکھا کر نماز پڑھنے کا حکم دیں ۔ اور جب بچے کی عمر دس برس کی ہو جائے تو مار مار کر اس سے نماز پڑھوائیں ۔

(شعب الایمان للبیہقی، باب فی حقوق الاولاد والاھلین، رقم ۸۶۵۰، ج۶، ص۳۹۸)

مسئلہ : ۔نماز خالص بدنی عبادت ہے۔ اس میں نیابت جاری نہیں ہو سکتی۔ یعنی ایک کی طرف سے دوسرا نہیں پڑھ سکتا۔ نہ یہ ہو سکتا ہے کہ زندگی میں نماز کے بدلے کچھ مال بطور فدیہ ادا کرکے نماز سے چھٹکارا حاصل کرلے۔ ہاں البتہ اگر کسی پر کچھ نمازیں رہ گئی ہیں اور انتقال کر گیا اور وصیت کر گیا کہ اس کی نمازوں کا فدیہ ادا کیا جائے تو امید ہے کہ اِنْ شَآءَ اﷲ  یہ قبول ہو۔ اور یہ وصیت بھی وارثوں کو اس کی طرف سے پوری کرنی چاہیے کہ قبول و عفو کی امید ہے۔   (درمختاروردالمحتار، کتاب الصلاۃ، مطلب فیما یعیر الکافر بہ مسلمامن الافعال، ج۲، ص۱۲۔۱۳)

شرائط نماز     : ۔اس سے پہلے کہ ہم نماز کا طریقہ بتائیں ان چھ چیزوں کو بتا دینا ضروری ہے جن کے بغیر نماز شروع نہیں ہوسکتی۔ ان چھ چیزوں کو ’’شرائط نماز‘‘ کہتے ہیں اور وہ یہ ہیں ۔

        پہلی پاکی۔ دوسری شرمگاہ کو چھپانا۔ تیسری نماز کا وقت۔ چوتھی قبلہ کی طرف منہ کرنا۔ پانچویں نیت۔ چھٹی تکبیر تحریمہ۔

(الدرالمختاروردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب فی استقبال القبلۃ، ج۲، ص۹۰۔۱۳۳)

پہلی شرط)یعنی ’’پاکی‘‘ کا مطلب ہے کہ نمازی کا بدن، اسکے کپڑے، نماز کی جگہ سب پاک ہوں اور کوئی نجاست جیسے پیشاب، پاخانہ، خون، لید، گوبر، مرغی کی بیٹ وغیرہ نہ لگی ہو۔ اور نمازی بے غسل اور بے وضو بھی نہ ہو۔   

دوسری شرط)یعنی ’’شرمگاہ چھپانے‘‘ کا یہ مطلب ہے کہ مرد کا بدن ناف سے لے کر گھٹنوں کے نیچے تک شرمگاہ ہے اس لئے نماز کی حالت میں کم سے کم ناف سے لے کر گھٹنوں کے نیچے تک چھپا رہنا ضروری ہے اور عورت کا پورا بدن شرمگاہ ہے اس لئے نماز کی حالت میں عورت کے تمام بدن کا ڈھکا رہنا ضروری ہے۔ صرف چہرہ اور ہتھیلی اور ٹخنوں کے نیچے قدم کے کھلے رہنے کی اجازت ہے۔ ٹخنے کو بھی چھپا رہنا چاہیے۔

تیسری شرط)یعنی ’’وقت‘‘ کا یہ مطلب ہے کہ جس نماز کے لئے جو وقت مقرر ہے وہ نماز اسی وقت میں پڑھی جائے۔

چوتھی شرط)یعنی ’’قبلہ کو منہ کرنا‘‘ اس کا مطلب ظاہر ہے کہ نماز میں خانہ کعبہ کی طرف اپنا چہرہ کرے۔

پانچویں شرط)یعنی ’’نیت‘‘ کا یہ مطلب ہے کہ جس وقت کی جو نماز فرض یا واجب یا سنت یا نفل یا قضا پڑھتا ہو۔ دل میں اس کا پکا ارادہ کرنا کہ میں فلاں نماز پڑھ رہا ہوں اور اگر دل میں ارادہ کے ساتھ زبان سے بھی کہہ لے تو بہتر ہے۔

چھٹی شرط)’’تکبیر تحریمہ‘‘ یعنی اﷲ  اکبر کہنا۔ یہ نماز کی آخری شرط ہے کہ اس کے کہتے ہی نماز شروع ہو گئی۔ اب اگر نماز کے سوا دوسرا کوئی کام کیا یا کچھ بولا تو نماز ٹوٹ گئی۔ پہلی پانچوں شرطوں کا تکبیر تحریمہ سے پہلے اور نماز ختم ہونے تک موجود رہنا ضروری ہے اگر ایک شرط بھی نہ پائی گئی تو نماز نہیں ہو گی۔   

پاکی کے مسائل کا بیان

 



Total Pages: 188

Go To