Book Name:Jannati Zevar

جن کا بیان

        اﷲ  تَعَالٰی نے کچھ مخلوق کو آگ سے پیدا فرما کر ان کو یہ طاقت دی ہے کہ وہ جونسی شکل چاہیں بن جائیں ۔ اس مخلوق کا نام ’’جن‘‘ ہے یہ بھی ہم کو دکھائی نہیں دیتے۔ یہ انسانوں کی طرح کھاتے پیتے‘ جیتے مرتے ہیں ۔ ان کے بچے بھی پیدا ہوتے ہیں ۔

(پ۱۴، الحجر : ۲۷/ التفسیر الکبیر، المسألۃ الثالثۃفی ان ابلیس ھل کان من الملائکۃ ام لا ۔۔۔۔ج۱، ص۴۲۹/ النبراس، مبحث الملائکۃ علیہم السلام، ص۲۸۷/ الیواقیت والجواہر، المبحث الثالث والعشرون فی اثبات وجودالجن۔۔۔الخ، الجزء الاول، ص۱۸۳)

 اور ان میں مسلمان بھی ہیں اور کافر بھی۔ نیک بھی ہیں اور فاسق بھی۔

(پ۲۹، الجن : ۱۴۔۱۵/ تفسیر روح البیان، ج۱۰، ص۱۹۴، الیواقیت والجواہر، المبحث الثالث والعشرون فی اثبات وجود الجن ووجوب الایمان بھم، الجزء الاول، ص۱۸۲)

 جن کے وجود کا انکار کرنے والا کافر ہے ۔ (الفتاوٰی الرضویۃ الجدیدۃ، ج۲۹، ص۳۸۴)   

کیونکہ جن ایک مخلوق ہیں یہ قرآن مجید سے ثابت ہے۔

        لہٰذا جن کے وجود کا انکار درحقیقت قرآن مجید کا انکار ہے۔

آسمانی کتابیں

عقیدہ : ۱اﷲ  تَعَالٰی نے جتنے صحیفے اور کتابیں آسمان سے نازل فرمائی ہیں سب حق ہیں اور سب اﷲ  تَعَالٰی کا کلام ہیں ۔ ان کتابوں میں جو کچھ ارشاد خداوندی ہوا۔ سب پر ایمان لانا اور ان کو سچ ماننا ضروری ہے۔ (النبراس، بیان الکتب المنزلۃ، ص۲۹۰)

 کسی ایک کتاب کا انکار کرنا کفر ہے۔(الشفاء بتعریف حقوق المصطفی صلی اللہ  علیہ وسلم، فصل واعلم ان من استخف بالقرآن، الجزء الثانی، ص۲۶۴)

 ہاں البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگلی کتابوں کی حفاظت اللہ   تَعَالٰی نے امتوں کے سپرد فرمائی تھی مگر امتوں سے ان کتابوں کی حفاظت نہ ہوسکی۔ بلکہ شریر لوگوں نے ان کتابوں میں اپنی خواہش کے مطابق کمی بیشی کردی۔ لہٰذا جب کوئی بات ان کتابوں کی ہمارے سامنے پیش ہو تو وہ اگر قرآن مجید کے مطابق ہو جب تو ہم اس کی تصدیق کریں گے اور اگر وہ قرآن کے مخالف ہو تو ہم یقین کرلیں گے کہ یہ شریروں کی تحریف ہے اور ہم اس بات کو رد کردیں گے۔ اور اگر مخالفت یا موافقت کچھ بھی معلوم نہ ہو تو یہ حکم ہے کہ ہم اس بات کی نہ تصدیق کریں نہ تکذیب کریں بلکہ یہ کہہ دیں کہ اﷲ  تَعَالٰی اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ہمارا ایمان ہے۔(تفسیر روح البیان، پ۱۴، الحجر : ۹، ج۴، ص۴۴۳۔۴۴۴/ تفسیر الخازن، پ۱۴، الحجر : ۹، ج۳، ص۹۵)

عقیدہ : ۲دین اسلام چونکہ ہمیشہ رہنے والا دین ہے۔ لہٰذا قرآن مجید کی حفاظت کی ذمہ داری اﷲ  تَعَالٰی نے امت کے سپرد نہیں فرمائی بلکہ اس کی حفاظت خود اﷲ  تَعَالٰی نے اپنے ذمہ رکھی ہے چنانچہ اس نے ارشاد فرمایا کہ۔

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(۹) (پ۱۴، الحجر : ۹)

’’یعنی بے شک ہم نے قرآن اتارا۔ اور یقیناً ہم خود اس کے نگہبان ہیں ۔‘‘

        اس لئے قرآن مجید میں کوئی کمی بیشی کردے یہ محال ہے ۔   (حاشیۃ الجمل علی الجلالین، پ۱۴، الحجر : ۹، ج۴، ص۱۸۳)

اور جو یہ کہے کہ قرآن میں کسی نے کچھ ردوبدل یا کم یا زیادہ کردیا ہے۔ وہ کافر ہے۔(الشفاء بتعریف حقوق المصطفی صلی اللہ  علیہ وسلم، فصل واعلم ان من استخف بالقرآن، ص۲۶۴)

عقیدہ : ۳اگلی کتابیں صرف نبیوں ہی کو یاد ہوا کرتی تھیں ۔ لیکن یہ ہمارے نبی اور قرآن کا معجزہ ہے کہ قرآن مجید کو مسلمان کا بچہ بچہ یاد کرلیتا ہے۔

(تفسیر روح البیان، پ۲۱، العنکبوت : ۴۹، ج۶، ص۴۸۱/ تفسیر الخازن، پ۲۷، القمر : ۱۷، ج۴، ص۲۰۴)

تقدیر کا بیان

        عالم میں جو کچھ بھلا‘ برا ہوتا ہے۔ سب کو اﷲ  تَعَالٰی اس کے ہونے سے پہلے ہمیشہ سے جانتا ہے اور اس نے اپنے اسی علم ازلی کے موافق پر بھلائی برائی مقدر فرمادی ہے’’تقدیر‘‘ اسی کا نام ہے جیسا ہونے والا ہے اور جو جیسا کرنے والا تھا اس کو پہلے ہی اﷲ  تَعَالٰی نے اپنے علم سے جانا اور اسی کو لوح محفوظ پر لکھ دیا۔ تو یہ نہ سمجھو کہ جیسا اس نے لکھ دیا مجبوراً ہم کو ویسا ہی کرنا پڑتا ہے بلکہ واقعہ یہ ہے جیسا ہم کرنے والے تھے ویسا ہی اس نے بہت پہلے لکھ دیا۔ زید کے ذمہ برائی لکھی اس لئے کہ زید برائی کرنے والا تھا۔ اگر زید بھلائی کرنے والا ہوتا تو وہ زید کے لئے بھلائی لکھتا ۔ تو اﷲ  تَعَالٰی نے تقدیر لکھ کر کسی کو بھلائی یا برائی کرنے پر مجبور نہیں کر دیا ہے۔(النبراس، مسئلۃالقضاء والقدر، ص۱۷۴۔۱۷۵/ شرح الملاء علی القاری علی الفقہ الاکبر، لم یجبراللہ  احدًا من خلقہ، ص۴۸۔۵۳)

عقیدہ : ۱تقدیر پر ایمان لانا بھی ضروریات دین میں سے ہے تقدیر کے انکار کرنے والوں کو نبی اکرم    صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اس امت کا ’’مجوس‘‘ بتایا ہے۔

 (المعتقد المنتقدمع المستند المعتمد، منہ