Book Name:Jannati Zevar

کرنا۔(۹) اغلام بازی کرنا۔ (۱۰)چوری کرنا۔(۱۱)شراب پینا۔(۱۲)جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا۔ (۱۳)ظلم کرنا۔ (۱۴)ڈاکہ ڈالنا۔(۱۵)ماں باپ کو تکلیف دینا ۔ (۱۶)حیض و نفاس کی حالت میں بیوی سے صحبت کرنا۔(۱۷)جوا کھیلنا۔ (۱۸)صغیرہ گناہوں پر اصرار کرنا۔     

(۱۹)اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ  کی رحمت سے ناامید ہو جانا۔ (۲۰)اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ  کے عذاب سے بے خوف ہو جانا۔(۲۱)ناچ دیکھنا۔ (۲۲)عورتوں کا بے پردہ ہو کر پھرنا۔ (۲۳)ناپ تول میں کمی کرنا۔(۲۴)چغلی کھانا ۔ (۲۵)غیبت کرنا۔(۲۶)دو مسلمانوں کو آپس میں لڑا دینا۔(۲۷)امانت میں خیانت کرنا۔(۲۸)کسی کا مال یا زمین و سامان وغیرہ غصب کرلینا۔(۲۹)نماز و روزہ اور حج و زکوٰۃ وغیرہ فرائض کو چھوڑ دینا۔(۳۰)مسلمانوں کو گالی دینا۔ (فیوض الباری شرح بخاری ، کتاب الایمان ، ج۱، ص۱۶۰۔۱۶۱)

        ان سے نا حق طور پر مار پیٹ کرنا وغیرہ وغیرہ سینکڑوں گناہ کبیرہ ہیں ۔جن سے بچنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے اور ساتھ ہی دوسروں کو بھی ان گناہوں سے روکنا لازم اور ضروری ہے۔

        حدیث شریف میں ہے کہ اگر کسی مسلمان کو کو ئی گناہ کرتے دیکھے تو اس پر لازم ہے کہ اپنا ہاتھ بڑھا کر اسکو گناہ کرنے سے روک دے۔ اور اگر ہاتھ سے اس کو روکنے کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے منع کر دے اور اگر اسکی بھی طاقت نہ ہو تو کم سے کم اپنے دل سے اس گناہ کو برا سمجھ کر اس سے بیزاری ظاہر کردے اور یہ ایمان کا نہایت ہی کمزور درجہ ہے۔

(صحیح مسلم، کتاب الایمان ، باب بیان کون النھی عن المنکر من الایمان ۔۔۔الخ، رقم ۴۹، ص۴۴)

         ایک اور حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ کوئی آدمی کسی قوم میں رہ کر گناہ کا کام کرے اور وہ قوم قوت رکھتے ہوئے بھی اس آدمی کو گناہ کرنے سے نہ روکے تو اﷲ  تَعَالٰی اس ایک آدمی کے گناہ کے سبب پوری قوم کو ان کے مرنے سے پہلے عذاب میں مبتلا فرمائے گا۔ (الترغیب والترہیب، کتاب الحدود، الترغیب فی الامر بالمعروف والنھی عن المنکر ، والترہیب من ترکھما والمداھنۃ فیھما ، رقم ۱۸، ج۳، ص۱۶۱)   

گناہوں سے دنیاوی نقصان

        گناہوں سے آخرت کا نقصان‘ اور عذاب جہنم کی سزاؤں ‘ اور قبر میں قسم قسم کے عذابوں میں مبتلا ہونا۔ اس کو تو ہر شخص جانتا ہے مگر یاد رکھو کہ گناہوں کی نحوست سے آدمی کو دنیا میں بھی طرح طرح کے نقصان پہنچتے رہتے ہیں جن میں سے چند یہ ہیں ۔

(۱)روزی کم ہو جانا۔(۲)بلاؤں کا ہجوم۔(۳)عمر گھٹ جانا۔(۴)دل میں اور بعض مرتبہ تمام بدن میں اچانک کمزوری پیدا ہو کر صحت خراب ہو جانا۔ (۵)عبادتوں سے محروم ہو جانا۔ (۶)عقل میں فتور پیدا ہو جانا۔ (۷)لوگوں کی نظروں میں ذلیل و خوار ہو جانا۔ (۸)کھیتوں اور باغوں کی پیداوار میں کمی ہو جانا۔(۹)نعمتوں کا چھن جانا۔(۱۰)ہر وقت دل کا پریشان رہنا۔(۱۱)اچانک لاعلاج بیماریوں میں مبتلا ہو جانا۔(۱۲)اﷲ   تَعَالٰی اور اس کے فرشتوں ‘ اور اس کے نبیوں ‘ اور اس کے نیک بندوں کی لعنتوں میں گرفتار ہو جانا۔(۱۳)چہرے سے ایمان کا نور نکل جانے سے چہرے کا بے رونق ہو جانا۔(۱۴)شرم و غیرت کا جاتا رہنا۔(۱۵)ہر طرف سے ذلتوں ‘ رسوائیوں اور ناکامیوں کا ہجوم ہو جانا۔(۱۶)مرتے وقت منہ سے کلمہ نہ نکلنا وغیرہ وغیرہ گناہوں کی نحوست سے بڑے بڑے دنیاوی نقصان ہوا کرتے ہیں ۔

عبادتوں کے دنیاوی فوائد

        عبادتوں سے آخرت کے فوائد تو ہر شخص کو معلوم ہیں کہ اﷲ  تَعَالٰی اپنے عبادت گزار بندو ں کو آخرت میں جنت کی بے شمار نعمتیں عطا فرمائے گا۔ لیکن اس سے غافل نہ رہو کہ عبادت سے آخرت کے فائدوں کے علاوہ عبادت کی برکت سے بہت سے دنیاوی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں مثلاََ :     

 (۱)روزی بڑھنا(۲)مال وسامان واولاد ہر چیز میں برکت ہونا (۳)بہت سی دنیاوی تکلیفوں اور پریشانیوں کا رفع ہو جانا (۴)بہت سی بلاؤں کا ٹل جانا (۵)سب کے دلوں میں اس کی محبت پیدا ہو جانا (۶)نور ایمان کی وجہ سے چہرے کا با رونق ہو جانا (۷)عمر کا بڑھ جانا (۸)پیداوار میں خیروبرکت ہو جانا (۹)بارش ہونا (۱۰)ہر جگہ عزت و آبرو ملنا (۱۱)فاقہ سے بچا رہنا (۱۲)دن بدن نعمتوں میں ترقی ہونا (۱۳)بہت سی بیماریوں سے شفا پا جانا (۱۴)آئندہ آنے والی نسلوں کو فائدہ پہنچنا (۱۵)شادمانی و مسرت اور اطمینان قلب کی زندگی نصیب ہونا۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے دنیاوی فائدے ہیں جو عبادت کی برکت سے حاصل ہوتے ہیں ۔

عبادت کی شان

رحمت کبریا عبادت ہے

راحت مصطفیصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عبادت ہے

حسن نور خدا عبادت ہے

طلعت جاں فزا عبادت ہے

حاصل زیست معرفت حق کی

خلق کا مدعا عبادت ہے

دونوں عالم کا ہے بھلا اس سے

دولت بے بہا عبادت ہے

یہ خدا  سے تجھے ملائے گی



Total Pages: 188

Go To