Book Name:Jannati Zevar

  (جامع الترمذی ، کتاب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی البخل، رقم ۱۹۷۰، ج۳، ص۳۸۸)

        اور یہ بھی حدیث میں آیا ہے کہ دو خصلتیں ایسی ہیں جو دونوں ایک ساتھ مومن میں اکٹھا جمع نہیں ہوں گی۔ ایک کنجوسی دوسری بد اخلاقی۔

(جامع الترمذی ، کتاب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی البخل، رقم ۱۹۶۹، ج۳، ص۳۸۷)

حدیث کا مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں خصلتیں بری ہیں اور یہ دونوں بری خصلتیں مومن میں ایک ساتھ نہیں پائی جائیں گی۔ مومن اگر بخیل ہوگا تو بد اخلاق نہیں ہوگا۔اور اگربد اخلاق ہوگا تو بخیل نہیں ہوگا۔ اور اگر تم کسی ایسے منحوس آدمی کو دیکھو کہ وہ بخیل بھی ہے اوربد اخلاق بھی ہے تو سمجھ لو کہ اس کے ایمان میں کچھ فتور ضرور ہے اور یہ کامل درجے کا مسلمان نہیں ہے۔

بخل کا علاج : ۔حضرت امام غزالی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے فرمایا کہ کنجوسی ایک ایسا مرض ہے کہ اس کا علاج بے حد  دشوار ہے خصوصاََ بڈھا آدمی بخیل ہو تو وہ تقریباً لاعلاج ہے اور کنجوسی کا سبب مال کی محبت ہے۔ جب تک مال کی محبت دل سے زائل نہیں ہوگی۔کنجوسی کی بیماری رفع نہیں ہو سکتی۔ پھر بھی اس کے دو علاج بہت ہی کامیاب اور کار آمد ہیں اور وہ یہ ہیں اول یہ کہ آدمی سوچے کہ مال کے مقاصد کیا ہیں ؟ اور میں کس لئے پیدا کیا گیا ہوں ؟ اور مجھے دنیا میں مال جمع کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ عالم آخرت کے لئے بھی ذخیرہ جمع کر نا چاہئے جب یہ خیال دل میں جم جائے گا تو پھر دل میں دنیا کی بے ثباتی اور عالم آخرت کا دھیان پیدا ہوگا اور ناگہاں دل میں ایک ایسا نور پیدا ہو جائے گا کہ دنیا سے اور دنیا کے مال و اسباب سے بے رغبتی اور نفرت پیدا ہونے لگے گی پھر بخیلی اور کنجوسی کی بیماری خود بخود دفع ہو جائے گی اور جذبہ سخاوت اس طرح پیدا ہوجائے گا کہ خدا کی راہ میں مال خرچ کرتے ہوئے اس کو لذت محسوس ہونے لگے گی۔

        اور دوسرا علاج یہ ہے کہ بخیلوں اور سخی لوگوں کی حکایات پڑھے اور عالموں سے بکثرت اس قسم کے واقعات سنتا رہے کہ بخیلوں کا انجام کتنا بُرا ہوا ہے اور سخی لوگوں کا انجام کتنا اچھا ہوا ہے اس قسم کے واقعات و حکایات پڑھتے پڑھتے‘ سنتے سنتے بخیلی سے نفرت اور سخاوت کی رغبت دل میں پیدا ہو جاتی ہے اور رفتہ رفتہ کنجوسی کا مرض زائل ہو جاتا ہے۔

(احیاء علوم الدین ، کتاب ذم البخل وذم حب المال ، بیان علاج البخل ، ج۳، ص۳۲۲)

(۵)تکبر : ۔یہ شیطانی خصلت اتنی بری اور اس قدر تباہ کن عادت ہے کہ یہ بھوت بن کر جس انسان کے سر پر سوار ہو جائے سمجھ لو کہ اس کی دنیا و آخرت کی تباہی یقینی ہے   

 شیطان اپنی اس منحوس خصلت کی وجہ سے مردود بارگاہ الٰہی  عَزَّ وَجَلَّ  ہوا۔ اور خداوند قہارو جبار نے لعنت کا طوق اس کے گلے میں پہنا کر اس کو جنت سے نکال دیا۔

        تکبر کے معنی یہ ہیں کہ آدمی دوسروں کو اپنے سے حقیر سمجھے۔ یہی جذبہ شیطان ملعون کے دل میں پیدا ہو گیا تھا کہ جب اﷲ  تَعَالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم فرمایا تو فرشتے چونکہ تکبر کی نحوست سے پاک تھے سب فرشتوں نے سجدہ کرلیا لیکن شیطان کے سر میں تکبر کا سودا سمایا ہوا تھا اس نے اکڑ کر کہہ دیا کہ۔

اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُؕ-خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ(۷۶) (پ۲۳، صٓ : ۷۶)

’’یعنی میں حضرت آدم سے اچھا ہوں ۔ اے اﷲ ! تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور آدم کو مٹی سے پیدا فرمایا‘‘

        اس ملعون نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنے سے حقیر سمجھا اور سجدہ نہیں کیا۔

یاد رکھو کہ جس آدمی میں تکبر کی شیطانی خصلت پیدا ہو جائے گی اس کا وہی انجام ہوگا جو شیطان کا ہوا کہ وہ دونوں جہان میں خداوند قہار و جبار کی پھٹکار سے مردود اور ذلیل و خوار ہوگیا۔ یاد رکھو کہ تکبر خدا کو بے حد ناپسند ہے اور یہ بہت ہی بڑا گناہ ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جس شخص کے دل میں  رائی برابر ایمان ہوگا وہ جہنم میں نہیں داخل ہوگا اور جس شخص کے دل میں رائی برابر تکبر ہو گا وہ جنت میں نہیں داخل ہوگا۔         (صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، باب تحریم الکبر وبیانہ ، رقم ۹۱، ص۶۱)

         ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ میدان محشر میں تکبر کرنے والوں کو اس طرح لایا جائے گا کہ ان کی صورتیں انسانوں کی ہوں گی مگر ان کے قد چیونٹیوں کے برابر ہوں گے اور ذلت و رسوائی میں یہ گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ لوگ گھسیٹتے ہوئے جہنم کی طرف لائے جائیں گے اور جہنم کے اس جیل خانہ میں قید کردیئے جائیں گے جس کا نام’’بولس‘‘ (ناامیدی) ہے اور وہ ایسی آگ میں جلائے جائیں گے جو تمام آگوں کو جلادے گی جس کا نام ’’نارالانیار‘‘ ہے اور ان لوگوں کو جہنمیوں کا پیپ پلایا جائے گا۔     (جامع الترمذی ، کتاب صفۃ القیامۃ ، باب ت، ۱۱۲، رقم ۲۵۰۰، ج۴، ص۲۲۱)

        پیاری بہنو اور عزیز بھائیو! کان کھول کر سن لو کہ تم لوگ جو کھانے، کپڑے، چال چلن، مکان وسامان، تہذیب و تمدن، مال و دولت ہر چیز میں اپنے کو دوسروں سے اچھا اور دوسروں کو حقیر سمجھتے رہتے ہو۔ اسی طرح بعض علماء اور بعض عبادت گزار علم و عبادت میں اپنے کو دوسروں سے بہتر اور دوسروں کو اپنے سے حقیر سمجھ کر اکڑتے ہیں ۔ یہی تکبر ہے خدا کے لئے اس شیطانی عادت کو چھوڑ دو اور تواضع و انکساری کی عادت ڈالو۔ یعنی دوسروں کو اپنے سے بہتر اور اپنے کو دوسروں سے کمتر سمجھو۔

        حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے تواضع و انکساری کرے گا اﷲ  تَعَالٰی اس کو  بلند فرمادے گا۔ وہ خود کو چھوٹا سمجھے گا مگر اﷲ  تَعَالٰی تمام انسانوں کی نگاہوں میں اس کو عظمت والا بنادے گا اور جو شخص گھمنڈ اور تکبر کرے گا۔ اﷲ  تَعَالٰی اس کو پست کردے گا وہ خود کو بڑا سمجھے گا مگر اﷲ  تَعَالٰی اس کو تمام انسانوں کی نظر میں کتے اور خنزیر سے زیادہ ذلیل بنادے گا۔

(المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند ابی سعید الخدری ، رقم ۱۱۷۲۴، ج۴، ص۱۵۲)

گھمنڈ کا علاج : ۔گھمنڈ کا علاج یہ ہے کہ غریبوں اور مسکینوں کی صحبت میں رہنے لگے اور ان لوگوں کی خدمت کرے۔ تواضع و انکساری کا طریقہ اختیار کرے اور اپنے دل میں یہ ٹھان لے کہ میں ہر مسلمان کی تعظیم اور اس کا اعزاز و اکرام کروں گا۔ خواہ اس کے کپڑے کتنے ہی میلے کیوں نہ ہوں میں اس کو اپنے برابر بٹھاؤں گا اور ہر وقت اس کا دھیان رکھے کہ خداوند کریم کا شکر ہے کہ مجھ کو اس نے دوسروں سے اچھا بنایا ہے لیکن وہ جب چاہے مجھ کو سارے جہان سے بدتر بنا سکتا ہے اپنی کمتری اور کو تاہی کا خیال اگر دل میں جم گیا تو تکبر کا بھوت لاکھوں کوس دور بھاگ جائے گا۔ اﷲ اعلم)

(۶)چغلی : یعنی کسی کی بات سن کر کسی دوسرے سے اس طور پر کہہ دینا کہ دونوں میں اختلاف اور جھگڑا ہو جائے۔ یہ بہت بڑا گناہ اور بہت خراب عادت ہے۔ تجربہ ہے کہ مردوں سے زیادہ عورتیں اس گناہ میں مبتلا ہیں ۔ حدیث شریف میں چغلخوری کو رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے گناہ کبیرہ بتایا ہے۔             (کتاب الکبائر للامام الذھبی ، الکبیرۃ الثالثۃ والاربعون ، النمام ، ص۱۸۲)

 



Total Pages: 188

Go To