Book Name:Jannati Zevar

جائے توحقوق اﷲ  (اﷲ  کے حقوق) سے زیادہ حقوق العباد (بندوں کے حقوق) سخت ہیں ۔ اﷲ  تَعَالٰی تو ارحم الراحمین ہے وہ اپنے فضل و کرم سے اپنے بندوں پر رحم فرما کر اپنے حقوق معاف فرما دے گا مگر بندوں کے حقوق کو اﷲ  تَعَالٰی اس وقت تک نہیں معاف فرمائے گا۔ جب تک بندے اپنے حقوق کو نہ معاف کردیں ۔ لہٰذا بندوں کے حقوق کو ادا کرنا یا معاف کرالینا بے حد ضروری ہے ورنہ قیامت میں بڑی مشکلوں کا سامنا ہوگا۔

        حدیث شریف میں ہے کہ حضور اکرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ایک مرتبہ صحابہ کرام علیھم الرضوان سے فرمایا کہ کیا تم لوگ جانتے ہو کہ مفلس کون شخص ہے؟  تو صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کیا کہ جس شخص کے پاس درہم اور دوسرے مال وسامان نہ ہوں وہی مفلس ہے تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ میری امت میں اعلیٰ درجے کا مفلس وہ شخص ہے کہ وہ قیامت کے دن نماز‘ روزہ اور زکوٰۃ کی نیکیوں کولے کر میدان حشر میں آئے گا مگر اس کا یہ حال ہوگا کہ اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی کسی پر تہمت لگائی ہوگی۔ کسی کا مال کھالیا ہوگا۔ کسی کا خون بہایا ہوگا‘ کسی کو مارا ہوگا تو یہ سب حقوق والے اپنے اپنے حقوق کو طلب کریں گے تو اﷲ  تَعَالٰی اس کی نیکیوں سے تمام حقوق والوں کو ان کے حقوق کے برابرنیکیاں دلائے گا۔ اگر اس کی نیکیوں سے تمام حقوق والوں کے حقوق نہ ادا ہو سکے بلکہ نیکیاں ختم ہوگئیں اور حقوق باقی رہ گئے تو اﷲ  تَعَالٰی حکم دے گا کہ تمام حقوق والوں کے گناہ اس کے سر پر لاد دو۔ چنانچہ سب حق والوں کے گناہوں کو یہ سر پر اٹھائے گا پھر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ تو یہ شخص سب سے بڑا مفلس ہوگا۔ (صحیح مسلم ، کتاب البروالصلۃ ، باب تحریم الظلم، رقم ۲۵۸۱، ص۱۳۹۴)

        اس لئے انتہائی ضروری ہے کہ یا تو حقوق کو ادا کردو۔ یا معاف کرالو۔ ورنہ قیامت کے دن حقوق والے تمہاری سب نیکیوں کو چھین لیں گے اور ان کے گناہوں کا بوجھ تم اپنے سر پر لے کر جہنم میں جاؤ گے۔ خدا کے لئے سوچو کہ تمہاری بے کسی و بے بسی اور مفلسی کا قیامت میں کیا حال ہوگا۔   

(۲) اخلاقیات

محمد یعنی وہ حرفِ نُخُستِین کِلکِ فطرت کا

کیا جس نے مکمل  نسخۂ  ’’اخلاقِ  انسانی‘‘

       چند بری باتیں

        ہرمرد وعورت پر لازم ہے کہ بری خصلتوں اور خراب عادتوں سے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو بچائے رکھے اور نیک خصلتوں اور اچھی عادتوں کو خود بھی اختیار کرے اور اپنے سب متعلقین کو بھی اس پر کاربند ہونے کی انتہائی تاکید کرے۔ یوں تواچھی عادتوں اور بری عادتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے مگر ہم یہاں ان چند بری خصلتوں اور خراب عادتوں کا ذکر کرتے ہیں ۔ جن میں اکثر مسلمان خصوصاََ عورتیں گرفتار ہیں اور ان بری عادتوں کی وجہ سے لوگ اپنے دین ودنیا کو تباہ و برباد کرکے دونوں جہاں کی سعادتوں سے محروم ہورہے ہیں ۔

(۱) غصہ : ۔بے محل اور بے موقع بات پر بکثرت غصہ کرنا‘ یہ بہت خراب عادت ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان غصہ میں آکر دنیا کے بہت سے بنے بنائے کاموں کو بگاڑ دیتا ہے اور کبھی کبھی غصہ کی جھلاہٹ میں خداوند کریم کی ناشکری اور کفر کا کلمہ بکنے لگتا ہے۔ اور اپنے ایمان کی دولت کو غارت اور برباد کر ڈالتا ہے۔ اسی لئے رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنی امت کو بے محل اور بات بات پر غصہ کرنے سے منع فرمایا ۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!مجھے کسی عمل کا حکم دیجئے مگر بہت ہی تھوڑا ہو تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ ’’غصہ مت کر‘‘ اس نے کہا کہ کچھ اور ارشاد فرمایئے تو آپ نے پھر یہی فرمایا کہ ’’غصہ مت کر‘‘ غرض کئی بار اس شخص نے دریافت کیا مگر ہر مرتبہ آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے یہی فرمایا کہ ’’غصہ مت کر‘‘ یہ بخاری شریف کی حدیث ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب الادب ، باب الحذرمن الغضب، رقم ۶۱۱۶، ج۴، ص۱۳۱)

        ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول خدا صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے یہ ارشاد فرمایا کہ پہلوان وہ نہیں ہے جو لوگوں کو پچھاڑ دیتا ہے بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصہ کی حالت میں اپنے نفس پر قابو رکھے۔ (صحیح البخاری، کتاب الادب ، باب الحذرمن الغضب، رقم ۶۱۱۴، ج۴، ص۱۳۰)

غصہ کب بُرا‘ کب اچھا ہے؟ : ۔غصہ کے معاملہ میں یہاں یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ غصہ بذات خود نہ اچھا ہے نہ برا۔ درحقیقت غصہ کی اچھائی اور برائی کا دارو مدار موقع اور محل کی اچھائی اور برائی پر ہے اگر بے محل غصہ کیا اور اس کے اثرات  برے ظاہر ہوئے تو یہ غصہ برا ہے ۔ اور اگر بر محل غصہ کیا اور اس کے اثرات اچھے ظاہر ہوئے تو یہ غصہ اچھا ہے۔ مثلاََ کسی بھوکے پیاسے دودھ پیتے بچے کے رونے پر تم کو غصہ آگیا اور تم نے بچے کا گلا گھونٹ دیا تو چونکہ تمہارا یہ غصہ بالکل ہی بے محل ہے اس لئے یہ غصہ برا ہے اور اگر کسی ڈاکو کو ڈاکہ ڈالتے وقت دیکھ کر تم کو غصہ آگیا اور تم نے بندوق چلا کر اس ڈاکو کا خاتمہ کردیا تو چونکہ تمہارا یہ غصہ بالکل بر محل ہے۔ لہٰذایہ غصہ برا نہیں بلکہ اچھا ہے۔ حدیث شریف میں جس غصہ کی مذمت اور برائی بیان کی گئی ہے۔ یہ وہی غصہ ہے جو بے محل ہو اور جس کے اثرات برے ہوں ۔ بالکل ظاہر بات ہے کہ غصہ میں رحم کی جگہ بے رحمی اور عدل کی جگہ ظلم، شکر کی جگہ ناشکری، ایمان کی جگہ کفر، ہو تو بھلا کون کہہ سکتا ہے کہ یہ غصہ اچھا ہے؟ یقینا یہ غصہ برا ہے اور یہ بہت ہی بری خصلت اور نہایت ہی خراب عادت ہے اس سے بچنا ہر مسلمان مردوعورت کے لئے لازم ہے۔

غصہ کا علاج : ۔جب بے محل غصہ کی جھلاہٹ آدمی پر سوار ہو جائے تو رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ اس کو چاہئے کہ وہ فوراً ہی وضو کرے۔ اس لئے کہ بے محل اور مضر غصہ دلانے والا شیطان ہے اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ پانی سے بجھ جاتی ہے اس لئے وضو غصہ کی آگ کو بجھا دیتا ہے۔   (سنن ابی داود ، کتاب الادب ، باب مایقال عند الغضب ، رقم ۴۷۸۴، ج۴، ص۳۲۷)

        اور ایک حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ اگر کھڑے ہونے کی حالت میں غصہ آجائے تو آدمی کو چاہئے کہ فوراً بیٹھ جائے تو غصہ اتر جائے گا۔ اور اگر بیٹھنے سے بھی غصہ نہ اترے تو لیٹ جائے تاکہ غصہ ختم ہو جائے۔   (المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند ابی ذر ، رقم ۲۱۴۰۶، ج۸، ص۸۰)

(۲)حسد : کسی کو کھاتا پیتا یا پھلتا پھولتا آسودہ حال دیکھ کر دل جلانا اور اس کی نعمتوں کے زوال کی تمنا کرنا۔ اس خراب جذبہ کا نام ’’حسد‘‘ ہے۔ یہ بہت ہی خبیث عادت اور نہایت ہی بری بلا، اور گناہ عظیم ہے۔ حسد کرنے والے کی ساری زندگی جلن اور گھٹن کی آگ میں جلتی رہتی ہے اور اسے چین اور سکون نصیب نہیں ہوتا۔ اﷲ  تَعَالٰی نے قرآن مجید میں اپنے پیارے رسول صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو حکم دیا ہے کہ۔ ’’حسد کرنے والے کے حسد سے آپ خدا کی پناہ مانگتے رہئے‘‘۔  (پ۳۰، الفلق : ۵)   

 



Total Pages: 188

Go To