Book Name:Jannati Zevar

دستگیر ہر دو عالم کر دیا سبطین کو

اے میں قرباں جان جاں انگشت کیالی ہاتھ میں

آہ وہ عالم کہ آنکھیں بند اور لب پر درود

وقف سنگ درجبیں روضہ کی جالی ہاتھ میں

حشر میں کیاکیا مزے وارفتگی کے لوں رضا

لوٹ جاؤں پاکے وہ دامان عالی ہاتھ میں   

وہ کمال حسن حضور ہے کہ گمان نقص جہاں نہیں

یہی پھول خارسے دورہے یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں

میں نثارتیرے کلام پرملی یوں تو کس کوزباں نہیں

وہ سخن ہے جس میں سخن نہ ہووہ بیاں ہے جس کا بیاں نہیں

بخداخدا کایہی ہے درنہیں اورکوئی مفر مقر

جو وہاں سے ہویہیں آکے ہو جویہاں نہیں توو ہاں نہیں

دوجہاں کی بہتریاں نہیں کہ امانیٔ دل وجاں نہیں

کہو کیاہے وہ جویہاں نہیں مگراک نہیں کہ وہ ہاں نہیں

وہی نورحق وہی ظل رب ہے انہیں سے سب ہے انہیں کاسب

نہیں ان کی ملک میں آسماں کہ زمیں نہیں کہ زماں نہیں     

سرعرش پر ہے تری گزر دل فرش پر ہے تیری نظر

ملکوت وملک میں کوئی شے نہیں وہ جوتجھ پہ عیاں نہیں

کروں مدح اہل دول رضا پڑے اس بلا میں میری بلا

میں گدا ہوں اپنے کریم کا میرا دین پارہ ناں نہیں

 

عرش حق ہے مسندرفعت رسول اللہ  کی

دیکھنی ہے حشر میں عزت رسول اللہ  کی

قبر میں لہرائیں گے تا حشر چشمے نور کے

جلوہ فرماہو گی جب طلعت رسول اللہ  کی

لاورب العرش جس کوجو ملا ان سے ملا

بٹتی ہے کونین میں نعمت رسول اللہ  کی

وہ جہنم میں گیاجوان سے مستغنی ہوا

ہے خلیل اللہ  کو حاجت رسول اللہ  کی

ٹوٹ جائیں گے گنہ گاروں کے فوراًقیدوبند

حشر کو کھل جائے گی طاقت رسول اللہ  کی

یارب اک ساعت میں دھل جائیں سیہ کاروں کے جرم

جوش پر آجائے اب رحمت رسول اللہ  کی

اے رضا خود صاحب قرآں ہے مدّاح حضور

تجھ سے کب ممکن ہے پھر مدحت رسول اللہ  کی   

از مولانا حسن بریلوی علیہ الرحمۃ

اے مدینے کے تاجدار سلام           اے غریبوں کے غم گسار سلام

تری اک اک اداپہ اے پیارے        سو درودیں فدا ہزار سلام

 



Total Pages: 188

Go To