Book Name:Jannati Zevar

مؤدب ہاتھ باندھے آگے آگے       چلے آتے ہیں کہتے آگے آگے

فدا جن کے شرف پر سب نبی ہیں            یہی ہیں وہ یہی ہیں وہ یہی ہیں

یہی والی ہیں سارے بیکسوں کے             یہی فریادرس ہیں بے بسوں کے

انہیں کی ذات ہے سب کا سہارا             انہیں کے درسے ہے سب کاگزارا

انہیں سے کرتی ہیں فریاد چڑیاں             انہیں سے چاہتی ہیں داد چڑیاں

یہی ہیں جو عطا فرمائیں دولت    کریں خود جو کی روٹی پر قناعت

انہیں پر دونوں عالم مر رہے ہیں        انہیں پر جان صدقے کر رہے ہیں

فزوں رتبہ ہے صبح وشام ان کا          محمد مصطفی ہے نام ان کا

کوئی دامن سے لپٹا رورہا ہے    کوئی ہر گام محوِالتجاء ہے

ادھر بھی اک نظر ہو تاج والے        کوئی کب تک دلِ مضطر سنبھالے

بہت نزدیک آپہنچا وہ پیارا           فدا ہے جان ودل جس پر ہمارا

اٹھیں تعظیم کو یارانِ محفل

ہوا جلوہ نما وہ جانِ محفل

میلادشریف

 اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  رب العٰلمین والصلوۃ والسلام علی رسولہ محمد و الہ وصحبہ اجمعین

سَلِّمُوْایَاقَوْمِ بَلْ صَلُّوْا عَلَی الصَّدْرِالْاَمِیْں

مُصْطَفٰی مَا جَائَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْں

آوازہوبلند درود و سلام کی   محفل ہے ذکر مولِدِخیر الانام کی

اللہ  کا وظیفہ ہے اور قدسیوں کابھی    کیا شان ہے رسول علیہ السلام کی

رَبِّ سَلِّمْ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہ

مَرْحَبَا  مَرْحَبَا  رَسُوْلِ اللّٰہ

بھیج اے رب میرے درودوسلام      اپنے پیارے نبی پہ بھیج مدام

   اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ

بزم ہستی کے تاجدار آئے     گلشن دہر کی بہار آئے

جس کے دامن میں چھپ سکے دنیا     وہ رسول کرم شعار آئے

        روایت ہے کہ ا للہ  تَعَالٰی نے زمین و آسمان بلکہ تمام عالم اور سارے جہان کے پیدا کرنے سے بہت پہلے اپنے حبیب حضرت محمد مصطفی  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے نور کو پیدا فرمایااور اپنے پیارے حبیب علیہ الصلوۃو السلام کے مقدس نور سے اپنی تمام کائنات کو شرفِ وجود سے سر فراز فرمایا جیسا کہ خود حضورِاقدس  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا کہ :  ’’  اَوَّلُ مَاخَلَقَ اللّٰہُ نُوْرِیْ‘‘ یعنی سب سے پہلے اللہ  تَعَالٰی نے میرے نور کو پیدا فرمایا :  ’’  وَکُلُّ الْخَلَائِقِ مِنْ نُوْرِیْ ‘‘ اور تمام مخلوق کو اللہ   تَعَالٰی نے میرے نور سے خلق فرمایا ’’وَاَنَا مِنْ نُوْرِ اللّٰہِ‘‘ اور میں اللہ  کا نور ہوں ۔

رَبِّ سَلِّمْ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہ

مَرْحَبَا مَرْحَبَا رَسُوْلِ اللّٰہ

بھیج اے رب میرے درودوسلام

اپنے پیارے نبی پہ بھیج مدام

        برسہابرس بلکہ ہزاروں برس تک یہ نور محمدی خداوند قدوس کی تسبیح وتقدیس میں مشغول ومصروف رہا یہاں تک کہ اللہ  تَعَالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا  فرمایا تو اس مقدس نور کو ان کی پیشانی میں امانت رکھا، اور جب تک خداوند عالم کو منظور تھا ، حضرت آدم علیہ السلام بہشت کے باغوں میں اپنی بیوی حضرت حوا کے ساتھ سکونت فرماتے تھے یہاں تک کہ جب خدا وند عالم کے حکم سے حضرت آدم وحوا علیہما السلام بہشت ِبریں سے روئے زمین پر تشریف لائے اوربال بچوں کی پیدائش کا سلسلہ شروع ہوا تو نور محمدی جو آپ کی پیشانی میں جلوہ گر تھا ، وہ آپ کے فرزند حضرت شیث علیہ السلام کی پیشانی میں منتقل ہوا اور سلسلہ بسلسلہ ، درجہ بدرجہ نورِ محمدی مقدس پیٹھوں سے مبارک شکموں کی طرف تفویض ہوتارہا، اور جن جن مقدس پیشانیوں میں یہ نور چمکتا رہا ہر جگہ عجیب عجیب معجزات وخوارق عادات کا ظہور ہوتا رہا اور اس نور پاک کی برکتوں کے فیوض طرح طرح سے ظاہر ہوتے رہے۔ چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام کی مقدس پیشانی میں اس نور محمدی نے یہ جلوہ دکھایا کہ حضرت آدم علیہ السلام مسجود ملائکہ ہو گئے اور تمام فرشتوں نے ان کے سامنے سجدہ کیا یہی نور جب حضرت نوح علیہ السلام کو ملاتو طوفان میں اسی نور کی بدولت ان کی کشتی سلامتی کے



Total Pages: 188

Go To