Book Name:Jannati Zevar

بیٹیاں جہنم سے پردہ بنیں گی

        حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَانے بیان فرمایا کہ میرے پاس ایک عورت اپنی دو بیٹیوں کو لے کر بھیک مانگنے کے لیے آئی تو ایک کھجور کے سوا اس نے میرے پاس کچھ نہیں پایا وہی ایک کھجور میں نے اس کو دے دی تو اس نے اس ایک کھجور کو اپنی دونوں بیٹیوں کے درمیان تقسیم کردیا اور خود نہیں کھایا اور چلی گئی اس کے بعد جب رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمکان میں تشریف لائے اور میں نے اس واقعہ کا تذکرہ حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے کیا تو آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ان بیٹیوں کے ساتھ مبتلا کیا گیا اس نے ان بیٹیوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو یہ بیٹیاں اس کے لیے جہنم سے پردہ اور آڑ بن جائیں گی۔(صحیح مسلم ، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب فضل الاحسان الی البنات، رقم ۲۶۲۹، ص۱۴۱۴)

انسان کی تیس غلطیاں

(۱)اس خیال میں ہمیشہ مگن رہنا کہ جوانی اور تندرستی ہمیشہ رہے گی

(۲)مصیبتوں میں بے صبر بن کر چیخ پکار کرنا

(۳)اپنی عقل کو سب سے بڑھ کر سمجھنا        

 (۴)دشمن کو حقیر سمجھنا

(۵)بیماری کو معمولی سمجھ کر شروع میں علاج نہ کرنا

(۶) اپنی رائے پر عمل کرنا اور دوسروں کے مشوروں کو ٹھکرا دینا

(۷)کسی بدکار کو باربار آزماکر بھی اس کی چاپلوسی میں آجانا

(۸)بیکاری میں خوش رہنا اور روزی کی تلاش نہ کرنا

 (۹)اپنا راز کسی دوسرے کو بتا کر اسے پوشیدہ رکھنے کی تاکید کرنا

 (۱۰)آمدنی سے زیادہ خرچ کرنا

(۱۱)لوگوں کی تکلیف میں شریک نہ ہونا اور ان سے امداد کی امید رکھنا

(۱۲)ایک دو ہی ملاقات میں کسی شخص کی نسبت کوئی اچھی یا بری رائے قائم کرلینا (۱۳)والدین کی خدمت نہ کرنا اور اولاد سے خدمت کی امید رکھنا

(۱۴)کسی کام کو اس خیال سے ادھورا چھوڑ دینا کہ پھر کسی وقت مکمل کرلیا جائے گا   

 (۱۵)ہرشخص سے بدی کرنا اور لوگوں سے اپنے لیے نیکی کی توقع رکھنا

(۱۶)گمراہوں کی صحبت میں اٹھنا بیٹھنا

(۱۷)کوئی عمل صالح کی تلقین کرے تو اس پر دھیان نہ دینا

(۱۸)خود حرام و حلال کا خیال نہ کرنا اور دوسروں کو بھی اس راہ پر لگانا

(۱۹)جھوٹی قسم کھا کر جھوٹ بول کر دھوکا دے کر اپنی تجارت کو فروغ دینا

(۲۰)علم دین اور دینداری کو عزت نہ سمجھنا

(۲۱)خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنا

(۲۲)فقیروں اور سائلوں کو اپنے دروازہ سے دھکا دے کر بھگا دینا

(۲۳)ضرورت سے زیادہ بات چیت کرنا

(۲۴)اپنے پڑوسیوں سے بگاڑ رکھنا

(۲۵)بادشاہوں اور امیروں کی دوستی پر اعتبار کرنا

 (۲۶)خواہ مخواہ کسی کے گھریلو معاملات میں دخل دینا

(۲۷)بغیر سوچے سمجھے بات کرنا

(۲۸)تین دن سے زیادہ کسی کا مہمان بننا

(۲۹)اپنے گھر کا بھید دوسروں پر ظاہر کرنا

(۳۰)ہر شخص کے سامنے اپنے دکھ درد بیان کرنا۔

سلیقہ اور آرام کی چند باتیں

(۱)رات کو دروازہ بند کرتے وقت گھر کے اندر اچھی طرح دیکھ بھال لو کہ کوئی اجنبی یا کتا بلی اندر تو نہیں رہ گیا یہ عادت ڈال لینے سے اِنْ شَآءَ اﷲ   تَعَالٰی گھر میں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔   

(۲)گھر اور گھر کے تمام سامانوں کو صاف ستھرا رکھو اور ہر چیز کو اس کی جگہ پر رکھو۔

(۳)سب گھروالے آپس میں طے کر لیں کہ فلاں چیز فلاں جگہ پررہے گی پھر سب گھر والے اس کے پابند ہو جائیں کہ جب اس چیز کو وہاں سے اٹھائیں تو استعمال کر کے پھر اسی جگہ رکھ دیں تاکہ ہر



Total Pages: 188

Go To