Book Name:Jannati Zevar

تَعَالٰی عَنْہَانے کیسی اچھی مثال دے کر شوہر کو تسلی دی اگر ہر آدمی اس بات کو اچھی طرح سمجھ لے تو کبھی بے صبری نہ کرے گا اور دیکھو کہ صبر کا پھل خداوند کریم نے کتنی جلدی حضرت بی بی ام سلیم کو دیا کہ حضرت عبداﷲ  ایک سال پورا ہونے سے پہلے ہی پیدا ہوگئے اور پھر ان کا گھر عالموں سے بھر گیا۔

(۲۷) حضرت ام حرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ حضرت بی بی ام سلیم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی بہن ہیں جن کا ذکر تم نے اوپر پڑھا ہے ان کے مکان پر بھی کبھی کبھی حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَدوپہر کو قیلولہ فرمایا کرتے تھے ایک دن حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمسکراتے ہوئے نیند سے بیدار ہوئے تو حضرت بی بی ام حرام رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَانے عرض کی کہ یا رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! آپ کے مسکرانے کا کیا سبب ہے؟ تو ارشاد فرمایا کہ میں نے ابھی ابھی اپنی امت کے کچھ مجاہدین کو خواب میں دیکھا ہے کہ وہ سمندر میں کشتیوں پر اس طرح بیٹھے ہوئے جہاد کے لئے جا رہے ہیں جس طرح بادشاہ لوگ اپنے اپنے تخت پر بیٹھے رہا کرتے ہیں حضرت ام حرام رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَانے کہا کہ یا رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! دعا فرمایئے کہ اﷲ  تَعَالٰی مجھے ان مجاہدین میں شامل فرمائے پھر آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسو گئے اور دوبارہ پھر اسی طرح ہنستے ہوئے اٹھے اور یہی خواب بیان فرمایا تو ام حرام رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَانے کہاکہ آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَدعافرمایئے کہ میں ان مجاہدوں میں شامل رہوں تو آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ تم پہلے مجاہدین کی صف میں رہوگی چنانچہ جب حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے دور حکومت میں بحری بیڑہ تیار ہوا اور مجاہدین کشتیوں میں سوار ہونے لگے تو حضرت بی بی ام حرام رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَابھی اپنے شوہر حضرت عبادہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے ساتھ ان مجاہدین کی جماعت میں شامل ہو کر جہاد کے لئے روانہ ہوگئیں سمندر سے پار ہوجانے کے بعد یہ اونٹ پر سوار ہونے لگیں تو اونٹ پر سے گر پڑیں اور اونٹ کے پاؤں سے کچل کر ان کی روح پرواز کر گئی اس طرح یہ شہادت کے شرف سے سرفراز ہوگئیں ۔

(صحیح البخاری، کتاب الجہاد، باب غزوالمرأۃ فی البحر، رقم۲۸۷۷، ۲۸۷۸، ج۲، ص۲۷۵)

تبصرہ : ۔.5مسلمان بیبیو! حضرت بی بی ام حرام.5 رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا .5 کے اس واقعہ سے جہاد کا شوق اور اسلام پر قربان ہونے کا جذبہ سیکھو ان دونوں بوڑھے میاں بیوی کو بڑھاپے کے باوجود جہاد کا کس قدر شوق تھا؟ اور شہادت کی کتنی زیادہ تمنا تھیاﷲ اکبر! اﷲ اکبر۔

(۲۸)حضرت فاطمہ بنت خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ حضرت عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی بہن ہیں یہ اور ان کے شوہر حضرت سعید بن زید رضی اﷲ   تَعَالٰی عنہما شروع ہی میں مسلمان ہوگئے تھے مگر یہ دونوں حضرت عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے ڈر سے اپنا اسلام پوشیدہ رکھتے تھے حضرت عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکو ان دونوں کے مسلمان ہونے کی خبر ملی تو غصہ میں آگ بگولا ہو کر بہن کے گھر پہنچے کو اڑ بند تھے مگر اندر سے قرآن پڑھنے کی آواز آ رہی تھی دروازہ کھٹکھٹایا تو حضرت عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی آواز سن کر سب گھر والے ادھر ادھر چھپ گئے بہن نے دروازہ کھولا تو حضرت عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُچلا کر بولے کہ اے اپنی جان کی دشمن! کیا تو نے بھی اسلام قبول کر لیا ہے؟ پھر اپنے بہنوئی حضرت سعید بن زید رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُپر جھپٹے اور ان کی داڑھی پکڑ کر زمین پر پچھاڑ دیا اور مارنے لگے ان کی بہن حضرت فاطمہ بنت خطاب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَااپنے شوہر کو بچانے کے لئے حضرت عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکو پکڑنے لگیں تو ان کو حضرت عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے ایسا طمانچہ مارا کہ کان کے جھومر ٹوٹ کر گر پڑے اور چہرہ خون سے رنگین ہوگیا بہن نے نہایت جرأت کے ساتھ صاف صاف کہہ دیا کہ عمر! سن لو تم سے جو ہوسکے کر لو مگر اب ہم اسلام سے کبھی ہرگز ہرگز نہیں پھر سکتے حضرت عمر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے بہن کا جو لہولہان چہرہ دیکھا اور ان کا جوش و جذبات میں بھرا ہوا جملہ سنا تو ایک دم ان کا دل نرم پڑ گیا تھوڑی دیر چپ کھڑے رہے پھر کہا کہ اچھا تم لوگ جو پڑھ رہے تھے وہ مجھے بھی دکھاؤ بہن نے قرآن شریف کے ورقوں کو سامنے رکھ دیا حضرت عمر نے سورئہ حدید کی چند آیتوں کو بغور پڑھا تو کانپنے لگے اور قرآن کی حقانیت کی تاثیر سے دل بے قابو ہو کر تھرا گیا جب اس آیت پر پہنچے کہ اٰمِنُوْا بِاﷲ  وَ رَسُوْلِہٖ  یعنی اﷲ  اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ تو پھر حضرت عمر ضبط نہ کرسکے آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے بدن کی بوٹی بوٹی کانپ اٹھی اور زور زور سے پڑھنے لگے اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّاا للّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسولُہٗ  پھر ایک دم اٹھے اور حضرت زید بن ارقم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے مکان پر جاکر رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے دامن رحمت سے چمٹ گئے اور پھر حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاور سب مسلمانوں کو اپنے ساتھ لے کر خانہ کعبہ میں گئے اور اپنے اسلام کا اعلان کر دیا اس دن سے مسلمانوں کو خوف و ہراس سے کچھ سکون ملا اور حرم کعبہ میں علانیہ نماز پڑھنے کا موقع ملا ورنہ لوگ پہلے گھروں میں چھپ چھپ کر نماز و قرآن پڑھا کرتے تھے۔(تاریخ الخلفاء، فصل فی الاخبار الموارد ماجاء فی اسلامہ ، ص۹۰)

تبصرہ : ۔اے اسلامی بہنو! حضرت فاطمہ بنت خطاب سے ایمانی جوش اور اسلامی  جرأ ت کا سبق سیکھو۔   

 (۲۹)حضرت ام الفضل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ ہمارے رسول اکرمصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی چچی اور حضرت عبداﷲ  بن عباس رضی اﷲ   تَعَالٰی عنہما کی والدہ اور حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے چچا حضرت عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی بیوی ہیں یہ حضرت عباس سے پہلے مسلمان ہوگئی تھیں اور حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَبھی ان پر بے حد مہربان تھے اور حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کو دین و دنیا کی بڑی بڑی بشارتیں دی تھیں یہ ہجرت کے لئے بے قرار تھیں مگر یہ ہجرت کا سامان نہ ہونے سے لاچار تھیں چنانچہ ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ ہجرت کا سامان نہ ہونے کی وجہ سے ہجرت نہیں کرسکتی ہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں ۔

(۳۰)حضرت ربیع بنت معوذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ انصاریہ صحابیہ ہیں اور جنگ بدر میں ابو جہل کو قتل کرنے والے صحابی حضرت معوذ بن عفرا رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی بیٹی ہیں انہوں نے بیعت الرضوان میں حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے دست مبارک پربیعت کی تھی حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا ان پر بڑا خاص کرم تھا ان کی شادی کے دن حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَان کے مکان پر تشریف لے گئے تھے اور ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں کھجور کا ایک خوشہ نذر کیا تو آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اس کو قبول فرما کر کچھ سونا یا چاندی ان کو عطا فرمایا اور ارشاد فرمایاکہ



Total Pages: 188

Go To