Book Name:Jannati Zevar

قبر پر ہری ہری گھاس اگا کر ان کی قبر کو سرسبز و شاداب کر دیا ہے میری یہ تقریر سن کر تمام حاضرین پر ایسی رقت طاری ہوئی کہ سب لوگ چیخ مار مار کر رونے لگے اور میں خود بھی روتے روتے نڈھال ہوگیا پھر میرے محب مخلص سیٹھ الحاج عثمان غنی چھیپہ رنگ والے احمد آبادی نے عطر کی ایک بڑی سی شیشی جس میں سے دو دو تین تین قطرہ وہ ہر قبر پر عطر ڈالتے تھے ایک دم پوری شیشی انہوں نے حضرت بی بی حلیمہ کی قبر پر انڈیل دی اور روتے ہوئے کہا کہ اے دادی حلیمہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا! خدا کی قسم اگر آپ کی قبر احمد آباد میں ہوتی تو میں آپ کی قبر مبارک کو عطر سے دھودیتا پھر بڑی دیر کے بعد ہمارے دلوں کو سکون ہوا اور میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو لگ بھگ پچاس آدمی میرے پیچھے کھڑے تھے اور سب کی آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں (یااﷲ  عَزَّ وَجَلَّ ! پھر دوبارہ یہ موقع نصیب فرما آمین یارب العٰلمین)

(۲۵)حضرت ام ایمن رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا

        جب ہمارے پیارے رسول  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَحضرت بی بی حلیمہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکے گھر سے مکہ مکرمہ پہنچ گئے اور اپنی والدہ محترمہ کے پاس رہنے لگے تو حضرت ام ایمن رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاجو آپ کے والد ماجد کی باندی تھیں آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خاطر داری و خدمت گزاری میں دن رات جی جان سے مصروف رہنے لگیں یہی آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو کھانا کھلاتی تھیں ‘کپڑے پہناتی تھیں ‘ کپڑے دھوتی تھیں جب آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَبڑے ہوئے تو آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے ان کا نکاح کر دیا جن سے حضرت اسامہ بن زید پیدا ہوئے(رضی اﷲ   تَعَالٰی عنہم) حضرت بی بی ام ایمن رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاحضور علیہ الصلوۃ و السلام کے بعد کافی دنوں تک مدینہ میں زندہ رہیں اور حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اﷲ   تَعَالٰی عنہما اپنی اپنی خلافتوں کے دوران حضرت بی بی ام ایمن رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی زیارت و ملاقات کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے اور ان کی خبر گیری فرماتے تھے ۔(الاستیعاب ، کتاب کنی النسائ، باب الألف، رقم۳۵۵۷، ام أیمن خادمۃ الرسول صلی اللہ  علیہ وسلم، ج۴، ص۴۷۸)

تبصرہ : ۔ماں بہنو! غور کرو کہ امیر المومنین ہوتے ہوئے اپنی جلالت شان کے باوجود حضرت ابو بکر صدیق و حضرت عمر فاروق رضی اﷲ   تَعَالٰی عنہما ایک بڑھیا عورت کی زیارت کے لئے ان کے گھر جایا کرتے تھے ایسا کیوں ؟ اور کس لئے تھا؟ صرف اس لئے کہ حضرت ام ایمن رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکو حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے یہ تعلق تھا کہ انہوں نے بچپن میں آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خاطرداری اور خدمت گزاری کا شرف پایا تھا حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اﷲ   تَعَالٰی عنہما کے اس عمل سے ثابت یہ ہوا کہ جن جن ہستیوں کو بلکہ جن جن چیزوں کو حضور علیہ الصلوۃ و السلام سے تعلق رہاہو ان سے محبت و عقیدت اور ان کی تعظیم و تکریم اور ان کا ادب و احترام یہ ایمان کا نشان اور ہر مسلمان کی ایمانی شان ہے اﷲ   تَعَالٰی ہر مسلمان کو اس نیک عمل کی توفیق عطا فرمائے (آمین)

(۲۶)حضرت ام سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے سب سے پیارے خادم حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی ماں ہیں ان کے پہلے شوہر کا نام مالک تھا بیوہ ہوجانے کے بعد ان کا نکاح حضرت ابو طلحہ صحابی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے ہوگیا۔(الاستیعاب ، کتاب کنی النساء، باب السین ۳۵۹۷، ام سلیم بنت ملحان، ج۴، ص۴۹۴)

         یہ رشتہ میں ایک طرح سے رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خالہ ہوتی تھیں اور ان کے بھائی حضور علیہ الصلوۃ و السلام کے ساتھ ایک جہاد میں شہید ہوگئے تھے ان سب باتوں کی وجہ سے رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَان پر بہت مہربان تھے اور کبھی کبھی ان کے گھر بھی تشریف لے جایا کرتے تھے بخاری شریف وغیرہ میں ان کا ایک بہت ہی نصیحت آموز اور عبرت خیز واقعہ لکھا ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت ام سلیم کا ایک بچہ بیمار تھا جب حضرت ابو طلحہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُصبح کو اپنے کام دھندے کے لئے باہر جانے لگے تو اس بچہ کا سانس بہت زور زور سے چل رہا تھا ابھی حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمکان پر نہیں آئے تھے کہ بچہ کا انتقال ہوگیا حضرت بی بی ام سلیم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَانے سوچا کہ دن بھر کے تھکے ماندے میرے شوہر مکان پر آئیں گے اور بچے کے انتقال کی خبر سنیں گے تو نہ کھانا کھائیں گے نہ آرام کر سکیں گے اس لئے انہوں نے بچے کی لاش کو ایک الگ مکان میں لٹا دیا اور کپڑا اوڑھا دیا اور خود روزانہ کی طرح کھانا پکایا پھر خوب اچھی طرح بناؤ سنگار کر کے بیٹھ کر شوہر کے آنے کا انتظار کرنے لگیں جب حضرت ابو طلحہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُرات کو گھر میں آئے تو پوچھا کہ بچہ کا کیا حال ہے؟ تو بی بی ام سلیم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَانے کہہ دیا کہ اب اس کا سانس ٹھہر گیا ہے حضرت ابو طلحہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمطمئن ہو گئے اور انہوں نے یہ سمجھا کہ سانس کا کھنچاؤ تھم گیا ہے پھر فوراً ہی کھانا سامنے آگیا اور انہوں نے شکم سیر ہو کر کھانا کھایا پھر بیوی کے بناؤ سنگار کو دیکھ کر انہوں نے بیوی سے صحبت بھی کی جب سب کاموں سے فارغ ہو کر بالکل ہی مطمئن ہوگئے تو بی بی ام سلیم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَانے کہا کہ اے میرے پیارے شوہر! مجھے یہ مسئلہ بتایئے کہ اگر ہمارے پاس کسی کی کوئی امانت ہو اور وہ اپنی امانت ہم سے لے لے تو کیا ہم کو برا ماننے یا ناراض ہونے کا کوئی حق ہے؟ حضرت ابو طلحہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ ہرگز نہیں امانت والے کو اس کی امانت خوشی خوشی دے دینی چاہئے شوہر کا یہ جواب سن کر حضرت ام سلیم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَانے کہا کہ اے میرے سرتاج! آج ہمارے گھر میں یہی معاملہ پیش آیا کہ ہمارا بچہ جو ہمارے پاس خدا کی ایک امانت تھا آج خدا نے وہ امانت واپس لے لی اور ہمارا بچہ مرگیا یہ سن کر حضرت ابو طلحہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُچونک کر اٹھ بیٹھے اور حیران ہو کر بولے کہ کیا میرا بچہ مر گیا؟ بی بی نے کہا کہ ’’جی ہاں ‘‘ حضرت ابو طلحہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ تم نے تو کہا تھا کہ اس کے سانس کا کھنچاؤ تھم گیا ہے بیوی نے کہا کہ جی ہاں مرنے والا کہاں سانس لیتاہے؟ حضرت ابو طلحہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکو بے حد افسوس ہوا کہ ہائے میرے بچے کی لاش گھر میں پڑی رہی اور میں نے بھر پیٹ کھانا کھایا اور صحبت کی ۔ بیوی نے اپنا خیال ظاہر کر دیا کہ آپ دن بھر کے تھکے ہوئے گھر آئے تھے میں فوراً ہی اگر بچے کی موت کا حال کہہ دیتی تو آپ رنج و غم میں ڈوب جاتے نہ کھانا کھاتے نہ آرام کرتے اس لیے میں نے اس خبر کو چھپایا حضرت ابو طلحہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُصبح کو مسجد نبوی میں نماز فجر کے لیے گئے اور رات کا پورا ماجرا حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے عرض کردیا آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرت ابو طلحہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے لیے یہ دعا فرمائی کہ تمہاری رات کی اس صحبت میں اﷲ   تَعَالٰی خیر و برکت عطا فرمائے اس دعائے نبوی کا یہ اثر ہوا کہ اسی رات میں حضرت بی بی ام سلیم کے حمل ٹھہر گیا اور ایک بچہ پیدا ہوا جس کانام عبداﷲ  رکھاگیا اور ان عبداﷲ  کے بیٹوں میں بڑے بڑے علماء پیدا ہوئے۔     

تبصرہ : ۔مسلمان ماؤں اور بہنو! حضرت بی بی ام سلیم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاسے صبر کرنا سیکھو اور شوہر کو آرام پہنچانے کا طریقہ اور سلیقہ بھی اس واقعہ سے ذہن نشین کرو اور دیکھو کہ بی بی ام سلیم رَضِیَ اللہ  



Total Pages: 188

Go To