Book Name:Jannati Zevar

نہ ہو آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے جو کہا اور جو کیا سب دین ہی کے لئے کیا بلکہ آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے جو کیا اور کہا وہی دین ہے بلکہ آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی ذات اکرم ہی مجسم دین ہے۔اللھم صل وسلم و بارک علی سیدنامحمد و الہ وصحبہ اجمعین

        یہ حضور اکر م شہنشاہ کونین صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی وہ گیارہ ازواج مطہرات ہیں جن پر تمام مورخین کا اتفاق ہے ان کا مختصر تذکرہ تم نے پڑھ لیا اگر مفصل حال پڑھنا ہو تو ہماری کتاب ’’سیرت المصطفیٰ‘‘ پڑھو۔ 

        اب ہم حضور سلطان دو عالمصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی ان چار شہزادیوں کا مختصر تذکرہ لکھتے ہیں جو صالحات اور نیک بیبیوں کی لڑی میں آبدار موتیوں کی طرح چمک رہی ہیں ۔

(۱۲)حضرت زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی سب سے بڑی شہزادی ہیں جو اعلان نبوت سے دس سال قبل مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں یہ ابتدا ئے اسلام ہی میں مسلمان ہوگئی تھیں اور جنگ بدر کے بعد حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کو مکہ سے مدینہ بلالیا تھا مکہ میں کافروں نے ان پر جو ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے ان کا تو پوچھنا ہی کیا حد ہوگئی کہ جب یہ ہجرت کے ارادے سے اونٹ پر سوار ہو کر مکہ سے باہر نکلیں تو کافروں نے ان کا راستہ روک لیا اور ایک بدنصیب کافر جو بڑا ہی ظالم تھا ’’ہباربن الاسود‘‘ اس نے نیزہ مار کر ان کو اونٹ سے زمین پر گرا دیا جس کے صدمہ سے ان کا حمل ساقط ہوگیا یہ دیکھ کر ان کے دیور ’’کنانہ‘‘ کو جو اگرچہ کافر تھا ایک دم طیش آگیا اور اس نے جنگ کے لئے تیر کمان اٹھا لیا یہ ماجرا دیکھ کر ’’ابوسفیان‘‘ نے درمیان میں پڑ کر راستہ صاف کرا دیا اور یہ مدینہ منورہ پہنچ گئیں ۔

        حضور اکرمصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے قلب کو اس واقعہ سے بڑی چوٹ لگی چنانچہ آپ نے ان کے فضائل میں یہ ارشاد فرمایا کہ۔

ھِیَ اَفْضَلُ بَنَاتِیْ اُصِیْبَتْ فِیَّ

        یہ میری بیٹیوں میں اس اعتبار سے بہت فضیلت والی ہے کہ میری طرف ہجرت کرنے میں اتنی بڑی مصیبت اٹھائی۔

        پھر ان کے بعد ان کے شوہر حضرت ابو العاص رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُبھی مکہ سے ہجرت کر  کے مدینہ آگئے اور دونوں ایک ساتھ رہنے لگے ان کی اولاد میں ایک لڑکا جن کا نام ’’علی‘‘ تھا اور ایک لڑکی جن کا نام ’’امامہ‘‘ تھا زندہ رہے ابن عسا کر کا قول ہے کہ ’’علی‘‘ ’’جنگ یرموک‘‘ میں شہید ہوگئے حضرت امامہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاسے حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو بے حد محبت تھی بادشاہ حبشہ نے تحفہ میں ایک جوڑا اور ایک قیمتی انگوٹھی دربار نبوت میں بھیجی تو آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے یہ انگوٹھی حضرت امامہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکو عطا فرمائی اس طرح کسی نے ایک مرتبہ بہت ہی بیش قیمت اور انتہائی خوبصورت ایک ہار نذر کیا تو سب بیبیاں یہ سمجھتی تھیں کہ حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَیہ ہار حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکے گلے میں ڈالیں گے مگر آپ نے یہ فرمایا کہ میں یہ ہار اس کو پہناؤں گا جو میرے گھر والوں میں مجھ کو سب سے زیادہ پیاری ہے یہ فرما کر آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے یہ قیمتی ہار اپنی نواسی حضرت امامہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکے گلے میں ڈال دیا ۸ھ میں حضرت زینب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکا انتقال ہوگیا اور حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے تبرک کے طور پر اپنا تہبند شریف ان کے کفن میں دے دیا اور نماز جنازہ پڑھا کر خود اپنے مبارک ہاتھوں سے ان کو قبر میں اتارا ان کی قبر شریف بھی جنت البقیع مدینہ منورہ میں ہے۔ (شرح العلامۃ الزرقانی، الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام، ج۴، ص۳۱۸۔۳۲۱)

تبصرہ : ۔ حضور نبی اکرمصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی صاحبزادی کو اسلام لانے کی بنا پر کافروں نے جس قدر ستایا اور دکھ دیا اس سے مسلمان بیبیوں کو سبق لینا چاہئے کہ کافروں اور ظالموں کے ظلم پر صبر کرنا ہمارے رسولصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاور رسولصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے گھر والوں کی سنت ہے اور خدا کی راہ میں دین کے لئے تکلیف اٹھانا اور برداشت کرنا بہت بڑے اجرو ثواب کا کام ہے۔

(۱۳)حضرت رقیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        اعلان نبوت سے سات برس قبل جب کہ حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی عمر شریف کا تینتیسواں سال تھا یہ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں پہلے ان کا نکاح ابولہب کے بیٹے ’’عتبہ‘‘ سے ہوا تھا مگر ابھی رخصتی بھی نہیں ہوئی تھی کہ ’’سورئہ تبت یدا‘‘ نازل ہوئی اس غصہ میں ابو لہب کے بیٹے عتبہ نے حضرت رقیہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکو طلاق دے دی اس کے بعد حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے ان کا نکاح کر دیا اور ان دونوں میاں بیوی نے حبشہ کی طرف پھر مدینہ کی طرف ہجرت کی اور دونوں صاحب الہجرتین (دو ہجرتوں والے) کے معزز لقب سے سرفراز ہوئے۔

        جنگ بدر کے دنوں میں حضرت رقیہ زیادہ بیمار تھیں چنانچہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت عثمان رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکو ان کی تیمارداری کے لئے مدینہ میں رہنے کا حکم دے دیا اور جنگ بدر میں جانے سے روک دیا حضرت زید بن حارثہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُجس دن جنگ بدر میں فتح مبین کی خوشخبری لے کر مدینہ پہنچے اسی دن بی بی رقیہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَانے بیس برس کی عمر پاکر مدینہ میں انتقال کیا حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَجنگ بدر کی وجہ سے ان کے جنازہ میں شریک نہ ہوسکے حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُاگرچہ جنگ بدر میں شریک نہیں ہوئے مگر حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کو جنگ بدر کے مجاہدین میں شمار فرمایا اور مجاہدین کے برابر مال غنیمت میں سے حصہ بھی عطا فرمایا حضرت بی بی رقیہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکے شکم مبارک سے ایک فرزند پیدا ہوئے تھے جن کا نام ’’عبداﷲ ‘‘ تھا مگر وہ اپنی والدہ کی وفات کے بعد ۴ھ میں وفات پا گئے بی بی رقیہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی قبر بھی جنت البقیع میں ہے ۔

 (شرح العلامۃ الزرقانی، الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام، ج۴، ص۳۲۲۔۳۲۳)

(۱۴)حضرت ام کلثوم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ بھی پہلے ابو لہب کے دوسرے بیٹے ’’عتیبہ‘‘ سے بیاہی گئی تھیں مگر ’’سورئہ تبت یدا‘‘ میں ابو لہب کی برائی سن کر ’’عتیبہ‘‘ اس قدر طیش میں آگیا کہ اس نے گستاخی کرتے ہوئے حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر جھپٹ کر آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے پیراہن شریف کو پھاڑ ڈالا اور حضرت ام کلثوم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکو طلاق دے دی حضور رحمت عالم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے قلب نازک پر اس گستاخی اور بے ادبی سے انتہائی صدمہ گزرا اور جوش غم سے آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی زبان مبارک سے بے اختیار یہ الفاظ نکل گئے کہ۔

 



Total Pages: 188

Go To