Book Name:Jannati Zevar

میمونہ (برکت والی) رکھ دیا ۷ھ عمرۃ القضاء کی واپسی میں حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان سے نکاح فرمایا اور مقام ’’سرف‘‘ میں یہ پہلی مرتبہ بستر نبوت پر سوئیں ۔ کل چھہتر حدیثیں ان سے مروی ہیں ان کے انتقال کے سال میں اختلاف ہے بعض نے ۵۱ھ بعض نے ۶۱ھ لکھا لیکن ابن اسحقٰ کا قول ہے کہ ۶۳ھ میں ان کی وفات مقام ’’سرف‘‘ میں ہوئی جب ان کا جنازہ اٹھایا گیا تو ان کے بھانجے حضرت عبداﷲ  بن عباس رضی اﷲ   تَعَالٰی عنہما نے بلند آواز سے فرمایا کہ اے لوگو! یہ رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بیوی ہیں جنازہ بہت آہستہ آہستہ لے کر چلو اور ان کی مقدس لاش کو ہلنے نہ دو حضرت یزید بن اصم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکا بیان ہے کہ ہم لوگوں نے حضرت میمونہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکو مقام سرف میں اسی چھپر کے اندر دفن کیا جس میں پہلی بار ان کو حضور سید عالمصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنی قربت سے سرفراز فرمایا تھا  (شرح العلامۃ الزرقانی، حضرت میمونہ ام المؤمنین رضی اللہ  عنہا، ج۴، ص۴۱۸۔۴۲۳)

تبصرہ : ۔ان کو رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے انتہائی محبت بلکہ عشق تھا انہوں نے خود حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے نکاح کی تمنا ظاہرکی تھی بلکہ یہ کہا تھا کہ میں اپنی جان رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکوہبہ کرتی ہوں اور مجھے مہرلینے کی بھی کوئی خواہش نہیں ہے چنانچہ قرآن مجید میں ایک آیت بھی اس کے بارے میں نازل ہوئی ہے ماں بہنو! دیکھ لو حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی مقدس بیبیوں کو حضور سے کیسی والہانہ محبت تھی سبحان اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ ! سبحان اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ ! کیا کہنا؟ ان امت کی ماؤں کے ایمان کی نورانیت کا ۔

(۱۰)حضرت جویریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ قبیلہ بنی مُصْطَلِقْ کے سردار اعظم حارث بن ضرار کی بیٹی ہیں غزوہ ’’ مُرَیْسَیَع‘‘ میں ان کا سارا قبیلہ گرفتار ہو کر مسلمانوں کے ہاتھوں میں قیدی بن چکا تھا اور سب مسلمانوں کے لونڈی غلام بن چکے تھے مگر رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے جب حضرت جویریہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکو آزاد کر کے ان سے نکاح فرمالیا تو حضرت جویریہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکی شادمانی و مسرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب اسلامی لشکر میں یہ خبر پھیلی کہ رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرت جویریہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاسے نکاح فرما لیاتو تمام مجاہدین اسلام ایک زبان ہو کر کہنے لگے کہ جس خاندان میں ہمارے رسول نے نکاح فرمالیا اُس خاندان کا کوئی فرد لونڈی غلام نہیں رہ سکتا چنانچہ اس خاندان کے جتنے لونڈی غلام مسلمانوں کے قبضہ میں تھے سب کے سب آزاد کر دیئے گئے یہی وجہ ہے کہ حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَافرمایا کرتی تھیں کہ دنیا میں کسی عورت کا نکاح حضرت جویریہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکے نکاح سے زیادہ مبارک نہیں ثابت ہوا کیونکہ اس نکاح کی وجہ سے تمام خاندان بنی مصطلق کو غلامی سے نجات مل گئی حضرت جویریہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکا بیان ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے میرے قبیلے میں آنے سے پہلے میں نے یہ خواب دیکھا تھا کہ مدینہ کی جانب سے ایک چاند چلتا ہوا آیا اور میری گود میں گر پڑا میں نے خواب کا ذکر نہیں کیا لیکن جب حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے مجھ سے نکاح فرمالیا تو میں نے سمجھ لیا کہ یہی میرے اس خواب کی تعبیر ہے ان کا اصلی نام ’’برہ‘‘ تھا مگر حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کا نام ’’جویریہ‘‘ رکھ دیا ان کے دو بھائی عمرو بن حارث و عبداﷲ بن حارث اور ان کی ایک بہن عمرہ بنت حارث نے بھی اسلام قبول کر کے صحابی کا شرف پایا حضرت جویریہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَابڑی عبادت گزار اور دین دار تھیں نماز فجر سے نماز چاشت تک ہمیشہ اپنے وظیفوں میں مشغول رہا کرتی تھیں ۵۰ھ میں پینسٹھ برس کی عمر پاکر وفات پائی حاکم مدینہ مروان نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور یہ جنت البقیع میں سپرد خاک کی گئیں ۔         (شرح العلامۃ الزرقانی، حضرت جویریۃ رضی اللہ  عنہا، ج۴، ص۴۲۴۔۴۲۸)

تبصرہ : ۔ان کا زندگی بھر کا یہ عمل کہ نماز فجر سے نماز چاشت تک ہمیشہ لگاتار ذکر الہٰی اور وظیفوں میں مشغول رہنا یہ ان عورتوں کے لئے تازیانہ عبرت ہے جو نماز چاشت تک سوتی رہتی ہیں اﷲ  اکبر! نبیصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بیبیاں تو اتنی عبادت گزار اور دین دار اور امتیوں کا یہ حال زار کہ نوافل کا تو پوچھنا ہی کیا؟ فرائض سے بھی بیزار بلکہ الٹے دن رات طرح طرح کے گناہوں کے آزار میں گرفتار الہٰی  عَزَّ وَجَلَّ  توبہ! الہٰی  عَزَّ وَجَلَّ  تیری پناہ۔   

(۱۱)حضرت صفیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا

        یہ خیبر کے سردار اعظم ’’    حُیَیْ بن اخطب‘‘ کی بیٹی اور قبیلہ بنو نضیرکے رئیس اعظم ’’کنانہ بن الحقیق‘‘ کی بیوی تھیں جو ’’جنگ خیبر‘‘ میں مسلمانوں کے ہاتھوں سے قتل ہوا یہ خیبر کے قیدیوں میں گرفتار ہو کر آئیں رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کی خاندانی عزت و و جاہت کا خیال فرما کر اپنی ازواج مطہرات اور امت کی ماؤں میں شامل فرمالیا جنگ خیبر سے واپسی میں تین دنوں تک منزل صہبا میں آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کو اپنے خیمہ کے اندر اپنی قربت سے سرفراز فرمایا اور ان کے ولیمہ میں کھجور‘ گھی‘ پنیر کا ملیدہ آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے صحابہ کرام کو کھلایا حضور اکرمصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَان کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے ایک مرتبہ حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَانے ان کو ’’پستہ قد‘‘ کہہ دیا تو حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکو اس قدر غصہ میں بھرکر ڈانٹا کہ کبھی بھی ان کو اتنا نہیں ڈانٹا تھا اسی طرح ایک مرتبہ حضرت زینب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَانے ان کو ’’یہودیہ‘‘ کہہ دیا تو یہ سن کر رسول اﷲ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَحضرت زینب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاپر اس قدر خفا ہوگئے کہ دو تین ماہ تک ان کے بستر پر قدم نہیں رکھا یہ بہت ہی عبادت گزار اور دین دار ہونے کے ساتھ ساتھ حدیث و فقہ سیکھنے کا بھی جذبہ رکھتی تھیں چنانچہ دس حدیثیں بھی ان سے مروی ہیں ان کی وفات کے سال میں اختلاف ہے واقدی نے ۵۰ھ اور ابن سعد نے ۵۲ھ لکھا ہے یہ بھی مدینہ کے مشہور قبرستان جنت البقیع میں مدفون ہیں ۔  (شرح العلامۃ الزرقانی، حضرت صفیہ ام المؤمنین رضی اللہ  عنہا، ج۴، ص۴۲۸۔۴۳۱/مدارج النبوۃ، ام المؤمنین صفیۃ، ج۲، ص۴۸۳)

تبصرہ : ۔حضور اکرمصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان سے محض اس بنا پر خود نکاح فرما لیا  تاکہ ان کے خاندانی اعزاز واکرام میں کوئی کمی نہ ہونے پائے تم غور سے دیکھو گے تو حضور اقدسصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے زیادہ تر جن جن عورتوں سے نکاح فرمایا وہ کسی نہ کسی دینی مصلحت ہی کی بنا پر ہوا کچھ عورتوں کی بے کسی پر رحم فرما کر اور کچھ عورتوں کے خاندانی اعزاز و اکرام کو بچانے کے لئے کچھ عورتوں سے اس بنا پر نکاح فرمالیا کہ وہ رنج و غم کے صدموں سے نڈھال تھیں لہٰذا حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کے زخمی دلوں پر مرہم رکھنے کے لئے ان کو اعزاز بخش دیا کہ اپنی ازواج مطہرات میں ان کو شامل کر لیا۔

        حضور علیہ الصلوۃ السلام کا اتنی عورتوں سے نکاح فرمانا ہر گز ہرگز اپنی خواہش نفسانی کی بنا پر نہیں تھا اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بیبیوں میں حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَاکے سوا کوئی بھی کنواری نہیں تھیں بلکہ سب عمردراز اور بیوہ تھیں حالانکہ اگر حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَخواہش فرماتے تو کون سی ایسی کنواری لڑکی تھی جو حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے نکاح کرنے کی تمنا نہ کرتی مگر دربار نبوت کا تو یہ معاملہ ہے کہ شہنشاہ دو عالمصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا کوئی قول فعل کوئی اشارہ بھی ایسا نہیں ہوا جو دنیا اور دین کی بھلائی کے لئے



Total Pages: 188

Go To