Book Name:Jannati Zevar

دوا کا بدن میں لگانا بھی جائز ہے جس میں یہ چیزیں پڑی ہوں لیکن ان کو اتنی مقدار میں کھانا کہ نشہ ہو جائے حرام ہے ۔       (الد رالمختارمع ردالمحتار، کتاب الاشربۃ، ج۱۰، ص۴۳)

مسئلہ : ۔بعض جاہل عورتیں بچوں کو افیون پلا کر سلا دیتی ہیں کہ وہ نشہ میں پڑے سوتے رہیں روئیں دھوئیں نہیں یہ حرام ہے اور اس کا گناہ عورتوں کے سر پر ہے۔    (بہارشریعت، ج۳، ح۱۷، ص۱۲)

بلا اجازت کسی کی کوئی چیز لے لینا

مسئلہ : ۔کسی کی کوئی چیز زبردستی لے لینا یا پیٹھ پیچھے اس کی اجازت کے بغیر لے لینا بہت بڑا گناہ ہے بعض عورتیں اپنے شوہر یا اور کسی رشتہ دار کی چیز بلا اجازت لے لیتی ہیں اسی طرح بعض مرد اپنے دوستوں اور ساتھیوں یا اپنی عورتوں کی چیزیں بلا اجازت لے لیا کرتے ہیں یاد رکھو کہ یہ جائز اور درست نہیں بلکہ گناہ ہے اگر کسی کی کوئی چیز بلا اجازت لے لی ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ چیز ابھی موجود ہو تو بعینہ اس چیز کو واپس کر دینا ضروری ہے اور اگر خرچ یا ہلاک ہوگئی تو مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہ ایسی چیز ہے کہ اس کی مثل بازار میں مل سکتی ہے تو جیسی چیز لی ہے ویسی ہی خرید کر دے دینا واجب ہے اور اگر کوئی ایسی چیز لے کر ضائع کردی ہے کہ اس کی مثل ملنا مشکل ہے تو اس کی قیمت دینا واجب ہے یا یہ کہ جس کی چیز تھی اس سے معاف کرالے اور معاف کر دے تب چھٹکارا مل سکتا ہے۔   

تصویروں کا بیان

        حضرت رسول خدا صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ نہیں داخل ہوتے فرشتے(رحمت کے) جس گھر میں کتا یا تصویر ہو۔

 (صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ، باب تحریم تصویرصورۃ الحیوان ۔۔۔الخ، رقم ۲۱۰۶ص۲۱۶۵ )

 اور دوسری حدیث میں یہ بھی فرمایا کہ سب سے زیادہ عتاب اﷲ  کے نزدیک تصویر بنانے والوں کو ہو گا۔ (صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ، باب تحریم تصویرصورۃ الحیوان، رقم ۲۱۰۹ص۱۱۶۹ )

ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ تصویر بنانے والے پر خدا کی لعنت ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب الطلاق، باب مہر البغی والنکاح الفاسد، رقم ۵۳۴۷، ج۳، ص۵۰۹)

مسئلہ : ۔جاندار چیزوں کی تصویر بنانا‘بنوانا‘اس کا رکھنا ، اس کا بیچنا‘خریدنا‘حرام ہے ۔ ہاں البتہ غیر جاندار چیزوں جیسے درختوں ‘مکانوں وغیرہ کی تصویر بنانے اوران کے رکھنے ‘ ان کی خریدوفروخت میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اوپر کی حدیثوں میں جن تصویروں کی ممانعت ہے ان سے مراد جاندار کی تصویریں ہیں ۔

مسئلہ : ۔کچھ لوگ مکانوں میں زینت کے لئے انسانوں اور جانوروں کی تصویریں یا مورتیاں رکھتے ہیں یہ حرام ہے کچھ لوگ مٹی یا پلاسٹک یا دھاتوں کی مورتیاں بچوں کے کھیلنے کے لئے خریدتے ہیں یہ سب حرام و ممنوع ہیں اپنے بچوں کو اس سے روکنا چاہئے اور ایسے کھلونوں اور گڑیوں کو توڑ پھوڑ دینا یا جلا دینا چاہئے۔

مسئلہ : ۔جانوروں اور کھیتی اور مکان کی حفاظت اور شکار کے لئے کتا پالنا جائز ہے ان مقصدوں کے علاوہ کتا پالنا جائز نہیں ۔        ارشریعت، ح۱۱، ص۱۸۶)   

 بعض بچے کتوں کے بچوں کو شوقیہ پالتے اور گھروں میں لاتے ہیں ماں باپ کو لازم ہے کہ بچوں کو اس سے روکیں اور اگر وہ نہ مانیں تو سختی کریں حدیث میں جن کتوں کے گھر میں رہنے سے رحمت کے فرشتوں کے نہ آنے کا ذکر ہے ان کتوں سے مراد وہی کتے ہیں جن کو پالنا جائز نہیں ہے۔ (بہارشریعت، ح۱۱، ص۱۸۶)

بیوہ عورتوں کا نکاح

        مسلمانوں میں ہندوؤں کے میل جول سے جہاں بہت سی بیہودہ رسموں کا رواج اور چلن ہوگیا ہے ان میں سے ایک رسم یہ بھی ہے کہ بیوہ عورت کے نکاح کو برا اور عار سمجھتے ہیں اور خاص کر اپنے کو شریف کہلانے والے مسلمان اس بلا میں بہت زیادہ گرفتار ہیں حالانکہ شرعاً اور عقلاً جیسا پہلا نکاح ویسا دوسرا ان دونوں میں فرق سمجھنا انتہائی حماقت اور بے وقوفی بلکہ شرمناک جہالت ہے عورتوں کی ایسی بری عادت ہے کہ خود دوسرا نکاح کرنا یا دوسروں کو اس کی رغبت دلانا تو درکنار اگر کوئی اﷲ  کی بندی اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ  و رسول صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حکم کو اپنے سر اور آنکھوں پر لے کر دوسرا نکاح کر لیتی ہے تو وہ عمر بھر حقارت کی نظر سے دیکھی جاتی ہے اور عورتیں بات بات پر اس کو طعنہ دے کر ذلیل کرتی ہیں یاد رکھو کہ دوسرا نکاح کرنے والی عورتوں کو حقیر و ذلیل سمجھنا اور نکاح ثانی کو برا جاننا یہ بہت بڑا گناہ ہے بلکہ اس کو عیب سمجھنے میں کفر کا خوف ہے کیونکہ شریعت کے کسی حکم کو عیب سمجھنا اور اس کے کرنے والے کو ذلیل جاننا کفر ہے کون نہیں جانتا کہ ہمارے رسول صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی جتنی بیبیاں تھیں حضرت عائشہ رضی اﷲ  تَعَالٰی عنہا کے سوا کوئی کنواری نہ تھیں ایک ایک دو دو نکاح ان کے پہلے ہو چکے تھے تو کیا نعوذ باﷲ  کوئی ان امت کی ماؤں کو ذلیل یا بر اکہہ سکتا ہے؟ توبہ نعوذباﷲ   

        بہر حال یاد رکھو کہ بیوہ عورتوں سے نکاح یہ رسول خدا صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنت ہے اور حدیث شریف میں ہے کہ جو کوئی کسی چھوڑی ہوئی اور مردہ سنت کو زندہ اور جاری کرے اس کو سو شہیدوں کا ثواب ملے گا لہٰذا مسلمان مردوں اور عورتوں پر واجب ہے کہ اس بیہودہ رسم کو دنیا سے مٹا دیں اور اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ  و رسول صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خوشنودی کے لئے بیوہ عورتوں کا نکاح ضرور کردیں اور ان بیچاری دکھیاری اﷲ  کی بندیوں کو بیکسی اور تباہی و بربادی سے بچاکر ایک سو شہیدوں کا ثواب حاصل کریں اور بیوہ عورتوں کو بھی لازم ہے کہ اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ  و رسول صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حکم کو اپنے سر اور آنکھوں پر رکھتے ہوئے بغیر کسی شرم اور عار کے خوشی خوشی دوسرا نکاح کر لیں اور سو شہیدوں کے ثواب کی حق دار بن جائیں اﷲ   تَعَالٰی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ۔

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآىٕكُمْؕ   (پ ۱۸، النور : ۳۲)

اور نکاح کر دو اپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہوں اور اپنے لائق غلاموں اور کنیزوں کا۔

        اور حضور اکرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ۔

من تمسک بسنّتی عند فساد امّتی فلہٗ اجر مائۃ شھیدٍ۔

(الترغیب والترہیب، الترغیب فی اتباع الکتاب والسنۃ، رقم ۵، ج۱، ص۴۱)

        یعنی میری امت میں فساد پھیل جانے کے وقت جو شخص مضبوطی کے ساتھ میری سنت پر عمل کرے اس کو ایک سو شہیدوں کا ثواب ملے گا۔

 



Total Pages: 188

Go To