Book Name:Jannati Zevar

السابع فی السلام۔۔۔الخ، ، ج۵، ص۳۲۶)

مسئلہ : ۔جب اپنے گھر میں جائے تو گھر والوں کو سلام کرے‘ بچوں کے سامنے گزرے تو ان بچوں کو سلام کرے ۔(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب السابع فی السلام۔۔۔الخ، ، ج۵، ص۳۲۵)

مسئلہ : ۔مرد عورت کی ملاقات ہو تو مرد عورت کو سلام کرے اور اگر کسی اجنبیہ عورت نے مرد کو سلام کیا اور وہ بوڑھی ہو تو اس طرح جواب دے کہ وہ بھی سنے اور وہ جوان ہو تو اس طرح جواب دے کہ وہ نہ سنے ۔(فتاوی قاضی خان، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی التسبیح والتسلیم۔۔۔الخ، ج۴، ص۳۷۷)

مسئلہ : ۔بعض لوگ سلام کرتے وقت جھک جاتے ہیں اگر یہ جھکنا رکوع کے برابر ہو جائے تو حرام ہے اور اگر رکوع کی حد سے کم ہو تو مکروہ ہے۔  (بہارشریعت، ج۳، ح۱۶، ص۹۲)

مسئلہ : ۔کسی کے نام کے ساتھ ’’علیہ السلام‘‘ کہنا یہ حضرات انبیاء اور ملائکہ کے ساتھ خاص ہے مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی اورفرشتے کے علاوہ کسی دوسرے کے نام کے ساتھ علیہ السلام نہیں کہنا چاہئے ۔        (بہارشریعت، ج۳، ح۱۶، ص۹۳)

مسئلہ : ۔سلام محبت پیدا ہونے کا ذریعہ ہے حدیث شریف میں ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم ہے کہ جس کے دست قدرت میں میری جان ہے کہ تم لوگ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوگے یہاں تک کہ تم مومن بن جاؤ اور تم لوگ مومن نہیں بنو گے یہاں تک کہ تم ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو لہٰذا میں تم لوگوں کو ایک ایسے کام کی رہنمائی کرتا ہوں کہ جب تم لوگ وہ کام کرنے لگو گے تو تم ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو گے وہ کام یہ ہے کہ تم لوگ آپس میں سلام کا چرچا کرو ۔    (سنن ابی داؤد ، کتاب الادب، باب فی افشاء السلام، رقم۵۱۹۳، ج۴، ص۴۴۸)

مسئلہ : ۔سلام خیر و برکت کا سبب ہے حضور اکرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے خادم خاص حضرت انس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا کہ اے پیارے بیٹے! جب تو گھر میں داخل ہوا کرے تو گھر والوں کوسلام کر کیونکہ تیرا سلام تیرے اور تیرے گھر والوں کے لئے برکت کا سبب ہوگا ۔(جامع الترمذی، کتاب الاستئذان والآداب، باب ماجاء فی التسلیم۔۔۔الخ، رقم۲۷۰۷، ج۴، ص۳۲۰)

مسئلہ : ۔سوار پیدل چلنے والوں کو سلام کرے اور چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں ۔

  (صحیح البخاری، کتاب الاستئذان، باب تسلیم الماشی علی القاعد، رقم۶۲۳۳، ج۴، ص۱۶۶)

مسئلہ : ۔ہر مسلمان کے دوسرے مسلمان کے اوپر چھ حقوق ہیں (۱)جب وہ بیمار ہو تو عیادت کرے (۲)جب وہ مرجائے تواس کے جنازہ پرحاضر ہو (۳) جب دعوت کرے تواس کی دعوت قبول کرے (۴)جب وہ ملاقات کرے تو اس کو سلام کرے (۵)جب وہ چھینکے تو  یرحمک اﷲ  کہہ کر اس کی چھینک کا جواب دے (۶) اس کی غیر حاضری اور موجودگی دونوں صورتوں میں اس کی خیر خواہی کرے۔ (جامع الترمذی، کتاب الأدب، باب ماجاء فی تشمیت العاطس، رقم۲۷۴۶، ج۴، ص۳۳۸)

مصافحہ و معانقہ و بوسہ و قیام

        حدیث شریف میں ہے کہ جب دو مسلمان ملیں اور مصافحہ کریں اور اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ  کی حمد کریں اور استغفار کریں تو دونوں کی مغفرت ہو جائے گی۔         (سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی المصافحۃ، رقم۵۲۱۱، ج۴، ص۴۵۳)

مسئلہ : ۔مصافحہ سنت ہے اور اس کا ثبوت متواتر حدیثوں سے ہے اور احادیث میں اس کی بہت بڑی فضیلت آئی ہے ایک حدیث میں ہے کہ جس نے اپنے مسلمان بھائی سے مصافحہ کیا اور ہاتھ کو ہلایا تو اس کے تمام گناہ گر جائیں گے جتنی بار ملاقات ہو ہر بار مصافحہ کرنا مستحب ہے مطلقاً مصافحہ کا جائز ہونا یہ بتاتا ہے کہ نماز فجر و نماز عصر کے بعد جو اکثر جگہ مصافحہ کرنے کا مسلمانوں میں رواج ہے یہ بھی جائز ہے اور فقہ کی جو بعض کتابوں میں اس کو بدعت کہا گیا ہے اس سے مراد بدعت حسنہ ہے اور ہر بدعت حسنہ جائز ہی ہوا کرتی ہے۔ اور جس طرح نماز فجر و عصر کے بعد مصافحہ جائز ہے دوسری نمازوں کے بعد بھی مصافحہ کرنا جائز ہے کیونکہ جب اصل مصافحہ کرنا جائز ہے تو جس وقت بھی مصافحہ کیا جائے جائز ہی رہے گا جب تک کہ شریعت مطہرہ سے اس کی ممانعت ثابت نہ ہو جائے اور ظاہر ہے کہ پانچوں نمازوں کے بعد مصافحہ کرنے کی کوئی ممانعت شریعت کی طرف سے ثابت نہیں ہے لہٰذا پانچوں نمازوں کے بعد مصافحہ جائز ہے ۔

     (الدرالمختارمع ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، باب الاستبرائ، ج۹، ص۶۲۸)

مسئلہ : ۔مصافحہ کا ایک طریقہ وہ ہے جو بخاری شریف میں حضرت عبداﷲ  بن مسعود رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور اقدس صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مبارک ہاتھ ان کے دونوں ہاتھوں کے درمیان میں تھا یعنی ہر ایک کا ایک ہاتھ دوسرے کے دونوں ہاتھوں کے درمیان میں ہو دوسرا طریقہ جس کو بعض فقہا نے بیان کیا ہے اور اس کو بھی حدیث سے ثابت بتاتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہر ایک اپنا داہنا ہاتھ دوسرے کے داہنے ہاتھ سے اور بایاں ہاتھ بائیں ہاتھ سے ملائے اور انگوٹھے کو دبائے کہ انگوٹھے میں ایک رگ ہے کہ اس کے پکڑنے سے محبت پیدا ہوتی ہے ۔        (بہارشریعت، ج۳، ح۱۶، ص۹۸)

مسئلہ : ۔وہابی غیر مقلد دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنے کو ناجائز اور خلاف سنت بتاتے ہیں اور صرف ایک ہاتھ سے مصافحہ کرتے ہیں یہ ان لوگوں کی جہالت ہے حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ  علیہ نے صاف صاف تحریر فرمایا ہے کہ۔

        ’’ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا سنت ہے اور دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنا چاہئے۔‘‘ (اشعۃ اللمعات، کتاب الآداب، باب المصافحۃ والمعانقۃ،