Book Name:Jannati Zevar

بہت سے لوگ ہوں تو جب زمین کا مالک راضی نہ ہو نہیں چلنا چاہئے لیکن اگر راستہ میں پانی ہے اور اس کے کنارے کسی کی زمین ہے ایسی صورت میں اس زمین پر چل سکتا ہے ۔

(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب الثلا ثون فی المتفرقات، ج۵، ص۳۷۳)

        بعض مرتبہ کھیت بویا ہوتا ہے ظاہر ہے کہ اس میں چلنا کاشت کار کے نقصان کا سبب ہے ایسی صورت میں ہرگز اس میں نہ چلنا چاہئے بلکہ بعض مرتبہ کاشت کار کھیت کے کنارے پر کانٹے رکھ دیتے ہیں یہ صاف اس کی دلیل ہے کہ اس کی جانب سے چلنے کی ممانعت ہے اس پر بھی بعض لوگ توجہ نہیں کرتے ان لوگوں کو جان لینا چاہئے کہ اس صورت میں چلنا منع ہے۔

        (بہارشریعت، ج۳، حصہ۱۶، ص۷۱)

   آداب مجلس کا بیان

        اﷲ   تَعَالٰی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ۔

        یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ (پ۲۸، المجادلۃ : ۱۱)

          اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دے دو تو تم لوگ جگہ دے دو۔ اﷲ   تَعَالٰی تم کوجگہ دے گا اور جب تم سے کہا جائے کہ اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہوا کرو اﷲ  تَعَالٰی تم میں سے ایمان والوں اور علم والوں کے درجات کو بلند فرمادے گا۔

        رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی شخص ایسا نہ کرے کہ مجلس سے کسی کو اٹھا کر خود اس کی جگہ پر بیٹھ جائے بلکہ آنے والوں کے لئے ہٹ جائے اورجگہ کشادہ کر دے (بخاری وغیرہ) (صحیح البخاری، کتاب الاستئذان، باب ۳۲، رقم۶۲۷۰، ج۴، ص۱۷۹)      مجلسوں میں ہر مرد عورت کو ان چند آداب کا لحاظ رکھنا چاہئے۔

(۱)کسی کو اس کی جگہ سے اٹھاکر خود وہاں مت بیٹھو۔ (صحیح البخاری، کتاب الاستئذان، باب ۳۱، رقم۶۲۶۹، ج۴، ص۱۷۹)

(۲)کوئی مجلس سے اٹھ کر کسی کام کو گیا اور یہ معلوم ہے کہ وہ ابھی آئے گا تو ایسی صورت میں اس جگہ کسی اور کو بیٹھنا نہیں چاہئے وہ جگہ اسی کا حق ہے۔     

(سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب اذا قام الرجل، من مجلس ۔۔۔الخ، رقم۴۸۵۳، ج۴، ص۳۴۶)

(۳)اگر دو شخص مجلس میں پاس پاس بیٹھ کر باتیں کر رہے ہوں تو ان دونوں کے بیچ میں جاکر نہیں بیٹھ جانا چاہئے ہاں البتہ اگر وہ دونوں اپنی خوشی سے تمہیں اپنے درمیان میں بٹھائیں تو بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں ۔(سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی الرجل یجلس بین الرجلین ۔۔۔الخ، رقم۴۸۴۴، ج۴، ص۳۴۴)

(۴)جو تم سے ملاقات کے لئے آئے تو تم خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اس کے لئے ذرا اپنی جگہ سے کھسک جاؤ جس سے وہ یہ جانے کہ میری قدر و عزت کی۔

(۵)مجلس میں سردار بن کر مت بیٹھو بلکہ جہاں بھی جگہ ملے بیٹھ جاؤ گھمنڈ اور غرور اﷲ   تَعَالٰی کو بے حد ناپسند ہے اور تواضع اور انکساری اﷲ   تَعَالٰی کو بہت زیادہ محبوب ہے۔

(۶)مجلس میں چھینک آئے تو اپنے منہ پر اپنا ہاتھ یا کوئی کپڑا رکھ لو اور پست آواز سے چھینکو اور بلند آواز سے الحمدﷲ کہو اور بلند آواز سے حاضرین مجلس جواب میں یرحمک اﷲ  کہیں ۔

       (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراہیۃ، الباب السابع فی السلام۔۔۔إلخ، ج۵، ص۳۲۶)

(۷)جمائی کو جہاں تک ہو سکے روکو اگر پھر بھی نہ رکے تو ہاتھ یا کپڑے سے منہ ڈھانک لو۔

(۸)بہت زور سے قہقہہ لگا کر مت ہنسو کہ اس طرح ہنسنے سے دل مردہ ہو جاتا ہے۔             (سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب الحزن والبکائ، رقم۱۴۹۳، ج۴، ص۴۶۵)

(۹)مجلسوں میں لوگوں کے سامنے تیوری چڑھا کر اور ماتھے پر بل ڈال کر ناک منہ چڑھا کر مت دیکھو کہ یہ گھمنڈی لوگوں اور متکبروں کا طریقہ ہے بلکہ نہایت عاجزانہ انداز سے غریبوں کی طرح بیٹھو کوئی بات موقع کی ہو تو لوگوں سے بول چال بھی لو لیکن ہر گز ہرگز کسی کی بات مت کاٹو نہ کسی کی دل آزاری کرو نہ کوئی گناہ کی بات بولو۔   

(۱۰)مجلس میں خبردار خبردار کسی کی طرف پاؤں نہ پھیلاؤ یہ بالکل ہی خلاف ادب ہے۔

مجلس سے اٹھتے وقت کی دعا : ۔رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ جو شخص مجلس سے اٹھ کر تین مرتبہ یہ دعا پڑھ لے گا اﷲ  تَعَالٰی اس کے گناہوں کو مٹا دے گا اور جو شخص مجلس خیر اور مجلس ذکر میں اس دعا کو پڑھے گا اﷲ   تَعَالٰی اس کے لئے اس خیر پر مہر کردے گا ۔

سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَا اِلٰہَ اِلَّااَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْکَ۔