Book Name:Sahabiyat Aur Shoq e Ibadat

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

صحابیات اورشوقِ عِبَادَت

دُرودِ پاک کی فضیلت

حضرتِ سیِّدُنا سَمُرَہ سُوَائی رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ہم سرکارِ عالی وَقار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دربارِ گُہربار میں حاضِر تھے کہ ایک شخص حاضِر ہو کر عَرْض گُزار ہوا: یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!بارگاہِ خُداوندی میں سب سے اچّھا عَمَل کون سا ہے؟ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا:سچ بولنا اور اَمانَت اَدا کرنا۔(راوِی فرماتے ہیں:) میں نے عرْض کی:یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مزید کچھ اِرشاد فرمائیے! فرمایا: کَثْرَتِ ذِکْر اور مجھ پر دُرودِ پاک پڑھنا (بھی اَچھّا عَمَل ہے) کہ یہ عَمَل فقْر(یعنی غُربت) کو دُور کرتا ہے۔[1]

بہرِ رَفعِ مَرَض و زَحمت و رنج و کُلْفَت

ڈھونڈتے پھرتے ہیں وہ لوگ کہاں کا تعویذ

تم پڑھو صاحبِ لَولاک پہ کَثْرَت سے دُرُود

ہے عجب دردِ نہاں اور اَماں کا تعویذ

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!          صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

شبِ عروسی عبادت میں گزری

جب آسمانِ رِسَالَت پر حضر تِ سیِّدَتُنا فاطِمہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کا آفتابِ حُسْن وجَمال چمکا اور اُفُقِ عَظَمَت و جَلَالَت پر آپ کا بَدْرِ کمال طُلوع ہوا، تو نیک خَصْلَت ذِہْنوں میں آپ کا خَیال آیا، مُہاجِرین و اَنْصَار کے مُعَزَّزین نے پیغامِ نِکاح دیا۔ لیکن رَضائے الٰہی کے ساتھ مَخْصُوص ذاتِ اَقدَس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جواباً اِرشَاد فرمایا:میں خُدائی فیصلے کا مُنْتَظِر ہوں۔بالآخر جب حضرت سَیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ، شیر خُدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے نِکاح کا پیغام دیا تو مَحْبُوبِ خُدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا چہرۂ اَنْوَر خوشی و مَسَرَّت سے کھِل اُٹھا اور مُناسِب اِنْتِظامات کے بعد (ہجرت کے دوسرے سال ماہِ صفر المظفّر میں[2]) اپنی لَخْتِ جِگَر کا نِکاح فرما دیا۔ جب اس نِکاح کو ایک مہینہ گزر گیا تو سَیِّدُنا علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی خواہش پر حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بَہُت بڑی دَعْوَتِ طَعام کا اِہتِمام فرمایا اور پھر خود پیدل چل کر کاشانۂ علی تک تشریف لائے اور دُعا دیتے ہوئے سیّدہ خاتونِ جنّت کو رُخْصَت فرمایا۔ جب رات کا اندھیرا چھا گیا اور سَیِّدُنا علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سیّدہ فاطمہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے مَحَبَّت بھری گفتگو فرمانے لگے تو اچانک آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے رونا شروع کر دیا۔شیرِ خُدا رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حیران ہو کر جب اس اَشک باری کی وجہ دَرْیَافْت کی تو فرمانے لگیں:میں تو اپنی اُس حَالَت و مُعَامَلے کے متعلِّق سوچ کر رو رہی ہوں کہ جب میری عُمْر  بِیت جائے گی اور مجھے قَبْر میں داخِل کر دیا جائے گا، آج میرا عزّت و فَخْر کے بِسْتَر میں داخِل ہونا کل قَبْر میں داخِل ہونے کی مَانِنْد ہے۔ لِہٰذا چاہیے کہ آج رات ہم اپنے رب عَزَّ  وَجَلَّکی بارگاہ میں کھڑے ہو کر عِبَادَت کریں کہ وُہی عِبَادَت کا زیادہ حَق رکھتا ہے۔چُنَانْچِہ اس کے بعد دونوں پاک ہستیاں اٹھیں اور ربّ ِقدیر عَزَّ وَجَلَّ کی عِبَادَت میں مَشْغُول ہوگئیں۔[3]

تخلیق انسانی کا مقصد

پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!شادی خانہ آبادی بلاشبہ دو۲ اَفراد کے درمیان ایک ایسے بندھن کا نام ہے جس کے دَوَام کیلئے ذہنی ہم آہنگی اور ہم مِزاجی کا اِعْتِبَار اور لِـحَاظ بَہُت ضَروری ہے۔چُنَانْچِہ جب دو۲ ہَم مِزاج اَفراد کے درمیان یہ رشتہ قائم ہوتا ہے تو جہاں ان کی خوشی کا ٹھکانا نہیں ہوتا وہیں وہ خوشی کے ان لمحات کو سمیٹنے میں اس قَدْر مگن ہو جاتے ہیں کہ بسا اَوقات انہیں کسی دوسرے کی کیا اپنی خَبَر تک نہیں رہتی۔ مگر قربان جائیے! سیّدہ خاتونِ جنت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی مَدَنی سوچ پر! جب یہ پاکیزہ بندھن میں بندھیں تو انہوں نے دنیا کی اس حقیقت سے منہ نہ موڑا کہ آج اگرچہ انہیں دلہن بنا کر ان کے دامَن کو خوشیوں سے بھر دیا گیا ہے مگر کل ان کا جَنازہ بھی تو اُٹھایا جانے والا ہے،کیونکہ یہی دنیا ہے کہ ایک طرف خوشی کے شادیانے بج رہے ہوتے ہیں تودوسری طرف کسی کی میّت پر آہ و فُغاں کا شور ہوتا ہے۔

نسیمِ صُبْح گُلشن میں گُلوں سے کھیلتی ہوگی

کسی کی آخِری ہچکی کسی کی دِل لگی ہوگی

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!          صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

لِہٰذا اس وَقْت بھی سیِّدہ خاتونِ جنّت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے نہ صِرف ایک نبی کی بیٹی ہونے کا حَق ادا کیا بلکہ یہ بھی ثابِت کر دیا کہ آپ واقعی جنّت کی تمام عورتوں کی سردارہیں۔ کیونکہ



[1]     القول البدیع ، الباب الثانی فی ثواب الصلاة علی رسول الله الخ ، ص۱۳۵ ، مختصرًا

[2]     سیرت سید الانبیا ، ص۲۹۶

[3]     الروض الفائق ، المجلس الثامن والاربعون : فی زواج علی الخ ، ص۲۷۴ ، ملتقطًاو مفهومًا



Total Pages: 24

Go To