Book Name:Naat Khwani K Mutaleq Suwal Jawab

گانوں کی طَرز پر نعت پڑھنا کیسا؟

عرض :  گانوں کی طَرز پر نعت پڑھنا کیسا ہے ؟

اِرشاد :  نعت کو ایسے  مشہور و مَعروف گانے  کی طرز پر پڑھنا کہ نعت سُنتے ہی فوراً ذہن  اس گانے کی طرف چلا جائے اس  سے بچنا چاہیے اور اگر کبھی اِتفاقاً طرز میں کچھ مُمَاثَلَت ہو بھی جائے تو نعت خواں کو چاہیے کہ  تھوڑی بہت تبدیلی  کر لے ۔  فی زمانہ یہ اِمتیاز کرنا بہت مشکل ہے کہ نعت گانے کی طرز پر پڑھی جا رہی ہے یا گانا نعت کی طرز پر گایا جا رہا ہے ، اَلبتہ پہلے والی طرزوں میں پڑھی جانے والی نعتوں میں جو رِقَّت اور سوز و گداز ہوا  کرتا تھا وہ اب نئے اَنداز پر پڑھی جانے والی  نعتوں میں نہیں ہے ۔   

بہرحال موجودہ دور میں سب نعتیں گانوں کی طرز پر پڑھی جاتی ہوں یہ ضَروری نہیں کیونکہ یہ بھی تو ممکن ہے کہ  گلوکار نعتوں کی طرز پر گانے گاتے ہوں لہٰذا موجودہ دور میں پڑھی جانے والی سب نعتوں کو گانوں کی طرز پر   کہنا اور  نعتیں سننے سے بچنا یا بچنے کے لیے کہنا   خود کو نعت خوانی کی بَرکتوں سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو نعت خوانی سے متنفر بھی کر سکتا ہے ۔  نعتوں کے گانوں کی طرز پر ہونے کے وَساوِس بھی انہیں کو آئیں گے جو گانے سُننے  کے شوقین ہوں گے ، جو سِرے سے گانے ہی  نہیں سُنتے ان  کے لیے ہر طرز نعت ہی  کی طرز ہو گی ، لہٰذا اِن وَساوِس کی بِنا پر نعتیں  سننا چھوڑنے کے بجائے گانے چھوڑنے میں عافیت ہے ۔  نعت شریف پڑھنے اور سُننے والا سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی تعریف و توصیف  ہی کی نیت سے اسے پڑھتا  اور سُنتا ہے ، نہ اس لیے کہ وہ کسی  گانے کی طرز پر ہے ۔     

ثنائے سرکار ہے وظیفہ قبولِ سرکار ہے تمنا

نہ شاعری کی ہوس نہ پروا  ردی تھی کیا کیسے قافیے تھے    ( حدائقِ  بخشش )

نعت میں” تُو “یا”تیرا “ کا اِستعمال

عرض : کیا نعت میں سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے لیے ” تُو“ یا ”تیرا“ کے اَلفاظ اِستعمال کرنا بے اَدَبی ہے ؟

اِرشاد : جی نہیں !اس لیے کہ  تعظیم و توہین کا دار و مَدار عُرف پر ہوتا ہے اور ہمارے مُعاشرے میں نعتیہ کلام میں ایسے اَلفاظ کے اِستعمال کو بے اَدَبی نہیں سمجھا جاتا لہٰذا اس میں حَرج  نہیں ۔  نعت  لکھنا ایک فَنّ ہے جس میں  مختلف بحروں کے مَخصُوص اَوزان  پر اَلفاظ لائے جاتے ہیں جس سے کلام میں حُسن پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ اسے طَرز میں پڑھنا بھی  آسان  ہو جاتا ہے ۔  یہی وجہ ہے کہ  کسی شاعِر کے لکھے ہوئے  کلام  میں تبدیلی بلکہ ایک حَرف  کا بھی فرق کرنے سے  نہ صرف کلام کا سارا حُسن ختم ہو جاتا  بلکہ اسے کسی طَرز میں پڑھنا بھی دُشوار ہو جاتا ہے لہٰذا اَدب اسی میں ہے کہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی شان میں شریعت کے دائرے میں لکھے گئے نعتیہ کلام  کو مِنْ وَ عَنْ( جیسا  لکھا ہے ویسے ہی ) پڑھ کر اس کے حُسن کو بَرقرار رکھا جائے جیسے اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت   کا مشہورِ زمانہ کلام ہے :  

واہ کیا جُود و کرم ہے شَہ بطحا تیرا

نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا  ( حدائقِ بخشش )

بعض لوگ اسے یوں پڑھتے ہیں :

واہ کیا جُود و کرم ہے شَہ بطحا آپ کا

نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا آپ کا

 



Total Pages: 15

Go To