Book Name:Naat Khwani K Mutaleq Suwal Jawab

عَنْہُ نے فرمایا : ایسے ہی لوگوں کے حق میں یہ آیتِ کریمہ  نازِل ہوئی ہے ۔ )[1](

حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : بعض مُفَسّرینِ کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام نے لکھا ہے کہ اِس آیت  میں اُن نیک لوگوں کی طرف اِشارہ ہے کہ اُن میں سے جو لوہار ہوتا تھا وہ اگر ضَرب ( یعنی چوٹ ) لگانے کے لیے ہتھوڑا اُوپر اُٹھائے ہوئے ہوتا اور اِسی حالت میں اذان کی آواز سنتا تو اب ہتھوڑا لوہے وغیرہ پر مارنے کے بجا ئے فوراً رکھ دیتا نیز اگر موچی ( یعنی چمڑا سینے والا ) سُوئی چمڑے میں ڈالے ہوئے ہوتا اور جُوں ہی اذان کی آواز اُس کے کانوں میں پڑتی تو سُوئی کو باہَر نکالے بغیر چمڑا اور سُوئی وہیں چھوڑ کر بِلاتاخیر مسجِد کی طرف چل پڑتا ۔  اُٹھے ہوئے ہتھوڑے کی ایک ضَرب لگا دینا یا سُوئی کو دوسری طرف نکالنا بھی اُن کے نزدیک تاخیر میں شامِل تھا حالانکہ اِس میں وقت ہی کتنا لگتا ہے ۔ )[2](

ساری رات کی عبادت سے بہتر عمل

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دوستوں کی بیٹھک ہو یا مَذہبی اِجتماع کے بعد جَم گھٹ ، شادی کی تقریب ہو یا تعزِیت کی نشست ، کسی سے مُلاقات ہو یا فون پر بات چیت جیسے ہی نماز کا وقت ہو اور کوئی مانِع شَرعی نہ ہو تو فوراً مسجد کا رُخ  کرتے ہوئے باجماعت نماز ادا کیجیے کہ شَرائط پائے جانے پر مسجد میں نمازِ باجماعت  ادا کرنا واجِب ہے ۔  یوں ہی رات بھر محافل وغیرہ میں شرکت کی وجہ سے نمازِ فجر کی جماعت ہرگز  ترک نہ کیجیے کہ نمازِ فجر باجماعت ادا کرنا یقیناً ساری رات کی عبادت سے بہتر ہے جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُنا اَبُوبکر بِن سلیمان بِن اَبُوحَثمہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خَطَّابرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک دن فجر کی نماز میں سلیمان بِن اَبُو حَثمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کو نہ پایا تو بازار کی طرف چلے کیونکہ حضرت سلیمان بِن اَبُو حثمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی رہائش گاہ مسجد اور بازار کے بیچ میں تھی ۔  جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ان کی والدہ ”شِفاء“کے قریب سے گزرے تو ان سے کہا :  میں نے فجر کی نماز میں سلیمان کو نہیں دیکھا؟ انہوں نے جواب دیا : وہ ساری رات عبادت کرتے رہے صبح کو ان کی آنکھ لگ گئی ۔ یہ سُن کر اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : فجر کی نماز باجماعت ادا کرنا میرے نزدیک ساری رات کے قیام ( یعنی نفلی عبادت کرنے ) سے بہتر ہے ۔ )[3](  

اَمیرِ اہلسنَّت کا باجماعت نماز پڑھنے کا معمول

( شیخِ طریقت ، اَمیرِ اہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں : )اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمت ، سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نگاہِ عنایت اور بزرگوں کے فیضان کی بَرکت سے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ شروع سے ہی میرا باجماعت نماز پڑھنے کا مَعمول ہے ۔  ایک مَرتبہ مَرکز الاَولیا ( لاہور ) سے بابُ المدینہ( کراچی ) واپسی کے موقع پر پرواز  ( Flight )سے کچھ دیر پہلے سنَّتوں کی دعوت دینے اور  یَارسولَ اللہ کہنے کے مُقَدَّس جُرم کی پاداش میں مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا جس کے  نتیجے میں دو اسلامی بھائی شہید ہو گئے ۔  وہ پَرواز مجھ سے  چُھوٹ گئی اَلبتہ دوسری پَرواز سے میں اسلامی بھائیوں کے کہنے پر راتوں رات بابُ المدینہ( کراچی )آ گیا اور دوسرے دن بغیر حارِثین ( Guards )کے میں نے  فیضانِ مدینہ  میں باجماعت  نمازیں اَدا کیں ۔  میں نے اپنا یہ واقعہ اسلامی بھائیوں کی رَغبت  اور



[1]    تفسیر خازن ، پ۱۸ ، النور ، تحت الآیة :  ۳۷ ، ۳  / ۳۵۵  المطبعة الميمنية مصر 

[2]    کیمیائے سعادت ، ۱ / ۳۳۹  اِنتشارات گنجینه تهران 

[3]    موطّا امام مالک ، کتاب صلاة الجماعة ، باب ما جاء فی العتمة  والصبح ، ۱ / ۱۳۴ ، حدیث : ۳۰۰  دار المعرفة بيروت



Total Pages: 15

Go To